وائٹ ہاؤس نے منگل کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ڈنمارک نے خبردار کیا ہے کہ یہ نیٹو اتحاد کو تباہ کر سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ٹرمپ نے قطبِ شمالی میں واقع معدنیات سے مالا مال اور خود مختار ڈینش جزیرے گرین لینڈ پر اپنے عزائم تیز کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ کے لیے ’گرین لینڈ کا حصول قومی سلامتی کی ترجیح ہے‘ تاکہ روس اور چین جیسے امریکی حریفوں کو روکا جا سکے۔
انہوں نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: ’صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہی ہے، اور یقیناً، امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر ان چیف کے اختیار میں ایک آپشن کے طور پر موجود ہوتا ہے۔‘
دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ کا پسندیدہ آپشن ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا ہے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیوں کا مطلب فوری حملہ نہیں ہے۔
ڈنمارک نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر طاقت کے زور پر قبضہ کرنے کے کسی بھی اقدام کا مطلب یہ ہو گا کہ نیٹو اور 80 سالہ قریبی ٹرانس اٹلانٹک سکیورٹی تعلقات سمیت ’سب کچھ رک جائے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گرین لینڈ کے خلاف کوئی بھی امریکی فوجی کارروائی نیٹو کو مؤثر طریقے سے ختم کر دے گی، کیونکہ اتحاد کی شق 5 اس بات کا عہد کرتی ہے کہ رکن ممالک کسی بھی ایسے رکن کا دفاع کریں گے جس پر حملہ کیا جائے گا۔
گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹزفیلڈ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہوں نے 2025 بھر میں روبیو کے ساتھ ملاقات کی کوشش کی لیکن ’اب تک یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوک راسموسن نے کہا کہ روبیو سے ملاقات سے ’کچھ غلط فہمیاں دور ہونی چاہییں۔‘
اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اصرار کیا کہ جزیرہ برائے فروخت نہیں ہے، اور صرف اس کے 57 ہزار لوگوں کو اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
’ناقابلِ قبول‘
اتحادیوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کی ہے جبکہ ساتھ ہی وہ ٹرمپ کو ناراض نہ کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور اسپین کے رہنماؤں نے منگل کو ڈنمارک کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ ’خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سرحدوں کے تقدس‘ کے ’فاقی اصولوں‘ کا دفاع کریں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر دونوں نے اس تنازعے کو کم کرنے کی کوشش کی جبکہ وہ پیرس میں یوکرین امن مذاکرات میں ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ شریک تھے۔
میکرون نے کہا: ’میں ایسے کسی منظر نامے کا تصور نہیں کر سکتا جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ڈنمارک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی پوزیشن میں رکھا جائے۔‘
گرین لینڈ میں پیٹوفک سپیس بیس پر امریکہ کے 150 فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
گرین لینڈ کے رہائشیوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
گرین لینڈ بزنس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر کرسچن کیلڈسن نے دارالحکومت نوک میں اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ایسی چیز نہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ مہذب دنیا میں یہ قابل قبول نہیں ہے۔‘
ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت سے ہی گرین لینڈ کے الحاق کا خیال ظاہر کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ سال کوپن ہیگن نے سکیورٹی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور اس مد میں تقریباً 90 ارب کرونر (14 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں۔
امریکی قانون سازوں کی مخالفت
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ٹرمپ کے ہاتھوں گرفتاری پر ابھی تک شدید برہم امریکی قانون سازوں نے منگل کو گرین لینڈ کے خلاف فوجی کارروائی کے خیال کی مخالفت کی۔
ایریزونا سے ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گیلیگو نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ’ٹرمپ کو گرین لینڈ پر حملہ کرنے سے روکنے‘ کے لیے ایک قرارداد پیش کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ ٹرمپ صرف ’اپنے نام کے ساتھ ایک بڑا جزیرہ چاہتے ہیں۔ اگر اس سے انہیں بڑا اور طاقتور ہونے کا احساس ہوتا ہے تو وہ ہماری فوج کو خطرے میں ڈالنے کے بارے میں دو بار نہیں سوچیں گے۔‘
پارٹی کی روایتی حمایت سے واضح انحراف کرتے ہوئے رپبلکنز نے بھی ٹرمپ کی فوج کی حمایت یافتہ توسیع پسندانہ پالیسی کو مسترد کر دیا۔
پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن (جو رپبلکن ہیں) نے منگل کی رات نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ واشنگٹن کے لیے گرین لینڈ پر فوجی کارروائی کرنا ’مناسب‘ ہے۔
وسطی مغربی ریاست کنساس کے رپبلکن سینیٹر جیری موران، جو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں خدمات انجام دیتے ہیں، نے ہف پوسٹ کو بتایا کہ ’اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں‘ اور خبردار کیا کہ یہ اقدام ’نیٹو کے خاتمے‘ کا باعث بنے گا۔
نیبراسکا کے رپبلکن کانگریس مین ڈان بیکن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید دو ٹوک انداز میں کہا: ’یہ واقعی احمقانہ ہے۔ گرین لینڈ اور ڈنمارک ہمارے اتحادی ہیں۔‘