وینزویلا کے نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا کا کیا قصور ہے؟

سیلیا فلورز پر باضابطہ طور پر کوکین کی درآمد اور مشین گنوں اور تباہ کن آلات رکھنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں ان الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر بنائے گئے اس خاکے میں سیلیا فلورز، جو وینزویلا کے زیرحراست صدر نکولس مادورو کی اہلیہ ہیں، 5 جنوری 2026 کو نیو یارک کی عدالت میں اپنی پیشی میں دیکھی جاسکتی ہیں (اے ایف پی)

وینزویلا کے امریکی حراست میں صدر نکولس مادورو پر تو واشنگٹن منشیات کے کاروبار سمیت دیگر کئی الزامات عائد کرتا ہے لیکن ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو کیوں ساتھ عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے؟

مادورو کی اہلیہ حکومت کی نمایاں ترین خواتین میں سے ایک تھیں اور انہیں اکثر ان کے حامی ’خاتون اول‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ طویل عرصے سے وینزویلا میں اقتدار کے بہت قریب رہی ہیں اور جب امریکی فوج کارروائی کے بعد انہیں بھی کئی مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ نیویارک کی عدالت میں پہنچا دیا گیا۔

منگل کو 69 سالہ سیلیا فلورس مین ہٹن کی عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ دونوں میاں بیوں کا ساتھ 30 سال پرانا ہے لیکن شادی امریکی استغاثہ کے مطابق 2013 میں ہوئی تھی۔

ان کا اپنے شوہر، بیٹے اور وینزویلا کی اشرافیہ کے دیگر ارکان کے ساتھ فرد جرم میں ذکر ہے۔ ان افراد کے ہاتھوں امریکہ سمجھتا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ، بدعنوانی، نیز اغوا، مار پیٹ اور قتل کے واقعات میں کیسے ملوث تھے۔

سیلیا فلورز پر باضابطہ طور پر کوکین کی درآمد اور مشین گنوں اور تباہ کن آلات رکھنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں ان الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اپنے آپ کو ’مکمل طور پر بے قبصور‘ قرار دیا۔

سیلیا فلورس کے وکیل کے مطابق اپنے شوہر کے ساتھ عدالت میں کھڑے ان کے چہرے پر پٹیاں واضح تھیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ گرفتاری کے دوران وہ زخمی بھی ہوئیں۔

ایک صدر کی بیوی سے زیادہ، سیلیا فلورس اپنے طور پر ایک بڑی سیاسی کھلاڑی رہی ہیں۔ وہ سابق صدر ہیوگو شاویز کی ایک دیرینہ، کٹر حامی اور ان کے نظریے کی قائل ہیں، لیکن وہ محض ایک پیروکار نہیں رہیں بلکہ اس سے زیادہ خود کو ان کے قریب رکھا۔

انہوں نے 32 سال کی عمر میں سانتا ماریا کی نجی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں فوجداری قانون اور مزدور قانون میں مہارت حاصل کی۔

جیسے جیسے ان کی تحریک بڑھی، اسی طرح سیلیا ایک محنت کش طبقے سے آگے بڑھتے ہوئے، وینزویلا کی سب سے طاقتور خاتون سمجھی جانے لگیں۔

ہیوگو شاویز کی وکیل

سیلیا 1956 میں شمال مغربی وینزویلا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں کے ساتھ مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہتی تھیں۔

مادورو نے اپنی 2013 کی انتخابی مہم میں اپنے ساتھی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ وہ دیہی ریاست کوجیڈس سے مغربی کراکس کا ایک علاقے کیٹیا منتقل ہوگئیں، جو بائیں بازو کی شوونزم تحریک کے لیے اہم مرکز بن گیا تھا۔

سیلیا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک اچھی شاگرد تھیں، جنہوں نے تعلیم پر توجہ دی اور ایک وکیل بن گئیں۔ انہوں نے ایک جاسوس سے شادی کی جس سے ان کے تین لڑکے تھے۔اس کے بعد ان میں تبدیلی آئی۔

1989 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر پورے کراکس میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے سیلیا کے اندر ان کے مطابق ایک ’انقلابی‘ ذہن کو جنم دیا۔

1992 تک، انقلابیوں کا ایک گروپ کو جو وینزویلا کو آگے جا کر ہمیشہ کے لیے تبدیل کرے گا، اپنے دفاع کے لیے مدد کی ضرورت تھی، اس لیے سیلیا نے مبینہ طور پر انھیں ایک خط بھیجا جس میں اپنی خدمات پیش کیں۔

شاویز دو ناکام بغاوتوں کے بعد جیل میں بیٹھے تھے اور 1994 میں جب سیلیا نے ان کی رہائی کو یقینی بنانے میں مدد کی تو وہ قومی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

یہ بھی اسی وقت کے آس پاس تھا جب سیلیا مادورو سے ملیں جو شاویز کے اندرونی گروپ کا حصہ تھے۔

وہ شاویز کو مشورہ دیتی رہیں اور ان کی مہم کمیٹی کا حصہ بنیں گئیں اور 1999 تک، جب انہوں نے صدر کے طور پر حلف اٹھایا، سیلیا ان کے نام نہاد بولیورین انقلاب کی ایک مرکزی شخصیت بن چکی تھیں۔

ایک سال بعد وہ ملک کی قومی اسمبلی میں داخل ہوئیں اور سیاسی صفوں میں ان کی پیش رفت کا آغاز ہوا، جو انہیں مقننہ کے صدر کے عہدے تک لےگیا۔

وہ وینزویلا میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ جس شخص کی انہوں نے جگہ لی وہ ان کا بوائے فرینڈ مادورو تھا۔

جب ان کا سیاسی کیریئر ترقی پا رہا تھا، ان کی ذاتی زندگی بھی اس کے دائرہ اثر کو بڑھانے میں مدد کر رہی تھی۔

شاویز نے انہیں 2011 میں اپنا اٹارنی جنرل بنا دیا تو انہوں نے ایوان چھوڑ دیا۔ اس وقت مادورو ان کے ہیرو شاویز کے جانشین بننے سے صرف چند سال دور تھے۔

کینسر نے 2013 میں شاویز کی زندگی ختم کر دی اور مادورو سیلیا کی مکمل حمایت اور پارٹی میں اس کی طاقت کے ساتھ تحریک کے نئے رہنما کے طور پر آگے بڑھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس جوڑے نے اسی سال شادی کی اور میرافلورس محل میں رہنے لگے۔

جب مادورو صدر بنے تو وینزویلا کے پاس ایک نیا لیڈر اور حتمی طاقت کا جوڑا موجود تھا۔

وینزویلا کا طاقتور جوڑا

مادورو مبینہ طور پر سیلیا کو خاتون اول کے طور پر نہیں بتاتے تھے کیونکہ شاوزم کے نظریے کی زبان انہیں ’پہلی جنگجو‘ بنا دے گی۔

2013 میں، صدر بننے سے قبل مادورو نے کہا: ’میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ وطن کی پہلی جنگجو، پہلی سوشلسٹ، گنجان علاقوں کی سڑکوں پر عوام کی پہلی خاتون بننے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

اس وقت، وینزویلا میں قومی اسمبلی کی ایک سینیئر رکن نے کہا کہ ’وہ مادورو کا مضبوط بازو ہوں گی۔‘

روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ ان کے پاس اختیار ہے، حکم دینے کی صلاحیت ہے اور وہ ایک عورت ہے جو خاموشی سے حرکت کرتی ہے۔‘

مادورو نے ایک مرتبہ کہا: ’میں سیلیا سے ملا۔ وہ کئی قید محب وطن فوجی افسران کی وکیل تھیں۔ وہ کمانڈر شاویز کی وکیل بھی تھیں اور ہاں، جیل میں شاویز کی نمائندگی کرنا… سخت مشکل تھی۔ میں نے ان کو جدوجہد کے ان برسوں کے دوران جانا اور بعد میں، ہاں، اس نے میری توجہ حاصل کی۔‘

نومبر 2015 میں، ان کے دو بھتیجوں کو ہیٹی میں گرفتار کرنے کے بعد امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے حوالے کر دیا گیا، اور نیویارک کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے ان پر منشیات کی سمگلنگ سے متعلق جرائم کا الزام لگایا۔

فلورس نے امریکہ پر اپنے بھائیوں کو ’اغوا‘ کرنے کا الزام لگایا لیکن دسمبر 2017 میں ایک جج نے ان دونوں نوجوانوں کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں 18 سال قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ نے الزام لگایا کہ وہ صدارتی طیارے کی کراکس کے مائیکیٹیا ہوائی اڈے پر لینڈنگ کو 800 کلو گرام کوکین ہونڈوراس لے جانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، جسے بعد میں امریکہ سمگل کیا جائے گا۔

ان دونوں افراد کو اکتوبر 2022 میں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وینزویلا میں قید سات امریکی شہریوں کو رہا کرنے والے معاہدے کے تحت معافی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے ساتھ ہی ان دونوں بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

اس کے بعد سے آنے والی زیادہ تر تبصرے اس کی تائید کرتے ہیں۔ سیلیا اپنے شوہر کے صدارتی پوڈ کاسٹ پر آئیں، یہاں تک کہ ٹیلی ویژن پر ان کے ساتھ رقص بھی کیا اور ہمیشہ خاتون اول کا کردار ادا کرتے ہوئے رہنما کے پیچھے یا اس کے ساتھ رہی ہیں۔

لیکن نجی طور پر، کہا جاتا ہے کہ وہ میز پر سب سے زیادہ محفوظ نشست رکھتے ہوئے ان کی سب سے قابل اعتماد اور سٹریٹجک مشیر تھیں۔

مادورو کے سابق انٹیلی جنس مشیروں میں سے ایک جو اس کے بعد سے امریکہ فرار ہو گیا ہے نے روئٹرز کو بتایا : ’سیلیا ہمیشہ پردے کے پیچھے سے ڈور کھینچتی رہیں ہیں۔‘

جوڑے کے بچے نہیں ہیں، لیکن پچھلی شادیوں سے انہوں نے کئی کی پرورش کی۔

واشنگٹن نے مادورو اور اس کے اندرونی حلقے پر وینزویلا پر اربوں ڈالر کی لوٹ مار کا الزام لگایا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس جوڑے کے پاس کتنی دولت ہے۔

جب ٹرمپ کا محکمہ انصاف مارچ 2020 میں مادورو کے پیچھے آیا تو سیلیا ان کی فہرست میں شامل نہیں تھیں، لیکن گزرے سالوں میں کے ساتھ ساتھ اب وہ واضح طور پر ان کے خلاف اپنے کیس میں زیادہ پراعتماد ہو گئے ہیں۔

'نارکو بھانجہ' کیس

قومی اسمبلی میں اپنے وقت کے دوران، سیلیا کو اس بات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ کن لوگوں کو، یعنی اپنے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے آئیں۔

روئٹرز کے مطابق ناقدین نے ان پر اپنے بھائیوں، دو بھتیجوں، دو کزنوں اور یہاں تک کہ اپنے سابق شوہر کے لیے سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

یونین فار لیجسلیچر ممبران نے ان پر قومی اسمبلی کے 50 سپورٹ سٹاف کو اپنے لوگوں سے تبدیل کرنے کا الزام لگایا۔

وہ ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

’مجھے فخر ہے کہ وہ میرا خاندان ہے اور میں اسمبلی میں کارکن کی حیثیت سے ان کا دفاع کروں گی،‘ انہوں نے اس وقت صحافیوں کو جواب میں کہا جنہوں نے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے کے دعوے شائع کیے تھے۔

اس کے بعد سیلیا نے ماسوائے سرکاری میڈیا کے پریس کے لیے چیمبر تک رسائی بند کرنے کی کوشش کی۔

جب 2020 میں پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو پر فرد جرم عائد کی تھی، تو سیلیا کا شریک ملزم کے طور پر نام نہیں لیا گیا تھا، لیکن جب اس دستاویز کو اپ ڈیٹ کیا گیا اور پھر کچھ دن پہلے اسے عام کیا گیا تو ان کا نام اور مبینہ جرائم کی فہرست اس میں موجود تھی۔

جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف مادورو کے خلاف اپنا مقدمہ بنا رہا تھا، اسی طرح ان کی اہلیہ بھی طویل عرصے سے ان کی نظروں میں تھیں۔

2017 میں جب امریکی محکمہ خزانہ نے مادورو پر پابندیاں عائد کیں تو اس میں سیلیا اور ان کے اندرونی حلقے کے دیگر ارکان شامل تھے۔

اس اقدام سے مادورو غصے میں آ گئے اور جواب میں کہا: ’اگر آپ مجھ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو مجھ پر حملہ کریں۔ لیکن سیلیا کے ساتھ گڑبڑ نہ کریں، خاندان کے ساتھ گڑبڑ نہ کریں۔‘

امریکہ طویل عرصے سے صدارتی خاندان کی خاص طور پر مشترکہ طور پر ’نارکو بھتیجوں‘ کے کیس کے ذریعے تحقیقات کر رہا تھا۔

اور نئی غیر سیل شدہ فرد جرم اس تفتیش کا حوالہ دیتی ہے کیونکہ اس میں وینزویلا کی خاتون اول کے خلاف تازہ الزامات کی تفصیل ہے۔ 

فرد جرم میں، امریکہ نے مادورو اور سیلیا پر ’ان لوگوں کے خلاف اغوا، مار پیٹ اور قتل کا حکم دینے کا الزام لگایا ہے جن کے ذمہ ان کی منشیات کی رقم واجب الادا تھی یا بصورت دیگر منشیات کی سمگلنگ کی کارروائی کو نقصان پہنچایا۔‘ فرد جرم کے مطابق اس میں کراکس میں منشیات کے ایک مقامی باس کا قتل بھی شامل ہے۔

سیلیا پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 2007 میں ’ایک بڑے پیمانے پر منشیات کے سمگلر‘ اور وینزویلا کے نیشنل اینٹی ڈرگ آفس کے ڈائریکٹر کے درمیان ملاقات کروانے کے لیے لاکھوں ڈالر رشوت وصول کی تھی۔

یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ایک بدعنوانی کی ڈیل میں منشیات کے سمگلر نے پھر انسداد منشیات کے دفتر کے ڈائریکٹر کو ماہانہ رشوت دینے کے ساتھ ساتھ کوکین لے جانے والی ہر پرواز کے لیے تقریباً 100,000 امریکی ڈالر "فلائٹ کے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے‘ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس میں سے کچھ رقم پھر سیلیا کے پاس پہنچی۔

فرد جرم میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے بھتیجوں کو 2015 میں امریکی حکومت کے خفیہ ذرائع سے ریکارڈ شدہ ملاقاتوں کے دوران سنا گیا تھا جس میں وینزویلا کے ہوائی اڈے پر مادورو کے ’صدارتی ہینگر‘ سے ’کثیر سو کلو گرام کوکین کی کھیپ‘ بھیجنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے ریکارڈ شدہ ملاقاتوں کے دوران بھتیجوں نے وضاحت کی کہ ’وہ امریکہ کے ساتھ 'جنگ' میں تھے۔‘

ان دونوں کو 2017 میں امریکہ میں ٹنوں کوکین بھیجنے کی سازش کرنے کے الزام میں  18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور 2022 میں سات قید امریکیوں کے بدلے قیدیوں کے تبادلے کے حصے کے طور پر رہا کیا گیا تھا۔

مادورو اور سیلیا کا معاملہ اب 17 مارچ کو عدالت میں واپس جانا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر