امریکی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی وجہ سے تیل سے مالا مال اس ملک میں اقتدار کے اصل مرکز سے متعلق شدید غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے حلف اٹھا لیا ہے۔
امریکی فورسز نے جمعے کو وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس گرفتاری کو ’حیران کن اور طاقتور‘ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب امریکہ ’وینزویلا کو چلائے گا۔‘
ٹرمپ کے مطابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز، جو حکومت کے طاقتور اندرونی حلقے کا حصہ ہیں، نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی بات کی ہے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اب وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گی۔
وینزویلا کے آئین کے مطابق صدر نکولس مادورو کی غیر موجودگی میں ڈیلسی روڈریگیز عبوری صدر بن گئی ہیں۔ ملک کی اعلیٰ عدالت نے ہفتے کی رات انہیں یہ ذمہ داری سنبھالنے کا حکم بھی دیا تھا۔
تاہم ٹرمپ کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ڈیلسی روڈریگیز سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئیں۔ ان کے ہمراہ ان کے بھائی اور قومی اسمبلی کے سربراہ خورخے روڈریگیز، وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو اور وزیر دفاع ولادی میر پادرینو لوپیز موجود تھے۔
اس موقعے پر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے واحد صدر ہیں۔
اس مشترکہ پریس کانفرنس نے اس بات کا واضح اشارہ دیا کہ نکولس مادورو کے ساتھ اقتدار میں شریک طاقتور گروہ کم از کم فی الحال متحد ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسی روز اپوزیشن رہنما اور نوبیل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کے ساتھ کام کرنے کا امکان بھی مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماچادو کو ملک کے اندر حمایت حاصل نہیں۔
ماچادو کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا، تاہم بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ان کے حمایت یافتہ امیدوار نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
سول اور فوجی طاقت کا توازن
گذشتہ ایک دہائی سے وینزویلا میں اصل اقتدار چند اعلیٰ حکومتی شخصیات کے پاس رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور حکام کے مطابق یہ نظام بدعنوانی، نگرانی اور وفادار سکیورٹی اداروں کے وسیع نیٹ ورک پر قائم ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس اندرونی حلقے میں سول اور فوجی طاقت کے درمیان ایک نازک توازن موجود ہے۔ ہر طاقتور شخصیت کے اپنے مفادات اور اثر و رسوخ کے نیٹ ورک ہیں۔ اس وقت سول دھڑے کی نمائندگی ڈیلسی روڈریگیز اور ان کے بھائی کر رہے ہیں، جبکہ فوجی طاقت کا محور پادرینو لوپیز اور دیوسدادو کابیو ہیں۔
موجودہ اور سابق امریکی حکام، وینزویلا اور امریکہ کے فوجی تجزیہ کاروں اور وینزویلا کی اپوزیشن سے وابستہ سکیورٹی مشیروں کے انٹرویوز کے مطابق طاقت کے اس ڈھانچے نے وینزویلا کی موجودہ حکومت کو ختم کرنا محض مادورو کو ہٹانے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک سابق امریکی عہدیدار، جو وینزویلا میں مجرمانہ تحقیقات میں شامل رہے، نے کہا: ’آپ حکومت کے جتنے چاہیں کردار ہٹا لیں، لیکن حقیقی تبدیلی کے لیے مختلف سطحوں پر کئی طاقتور عناصر کو ہٹانا ضروری ہوگا۔‘
دیوسدادو کابیو پر ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے، کیونکہ وہ ملک کے فوجی اور سول کاؤنٹر انٹیلی جنس اداروں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جو اندرون ملک وسیع پیمانے پر جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
وینزویلا کے فوجی حکمتِ عملی کے ماہر خوسے گارسیا کے مطابق: ’اب تمام نظریں دیوسدادو کابیو پر ہیں، کیونکہ وہ حکومت کا سب سے نظریاتی، پُرتشدد اور ایسا جزو ہے، جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
اقوامِ متحدہ کے مطابق، سول خفیہ ادارے سیبن (SEBIN) اور فوجی انٹیلی جنس ڈی جی سی آئی ایم (DGCIM) نے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ریاستی پالیسی کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔
نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل روئٹرز کو دیے گئے انٹرویوز میں 11 سابق زیرِ حراست افراد نے بتایا کہ ڈی جی سی آئی ایم کے خفیہ حراستی مراکز میں انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی زیادتی کی گئی۔ ان میں کچھ وہ بھی شامل تھے جو خود ماضی میں سکیورٹی اہلکار رہ چکے تھے۔
ایک سابق ڈی جی سی آئی ایم اہلکار نے بتایا: ’وہ چاہتے ہیں کہ آپ خود کو یوں محسوس کریں جیسے ہاتھیوں کے پنجرے میں بند ایک کاکروچ ہوں، تاکہ آپ کو ہر لمحہ یہ احساس رہے کہ وہ آپ سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔‘
انہیں 2020 میں فوجی باغیوں سے رابطے کے الزام میں گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ بنایا گیا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں جب امریکہ نے لاطینی امریکہ میں گذشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی تیاری شروع کی، دیوسدادو کابیو سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشریات میں نمودار ہوتے رہے۔ اس دوران وہ ڈی جی سی آئی ایم کو ہدایت دیتے رہے کہ ’جا کر دہشت گردوں کو پکڑو‘ اور ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کرتے رہے کہ ’جو کوئی بھی راہ سے ہٹے گا، ہمیں اس کا علم ہو جائے گا۔‘
ہفتے کو سرکاری ٹیلی وژن پر نمودار ہوتے ہوئے، فلیک جیکٹ اور ہیلمٹ پہنے اور بھاری اسلحے سے لیس محافظوں کے حصار میں، انہوں نے وہی سخت بیانیہ ایک بار پھر دہرایا۔
کابیو کا حکومت نواز مسلح ملیشیاؤں سے بھی گہرا تعلق رہا ہے، جن میں خاص طور پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح شہریوں کے گروہ شامل ہیں، جنہیں ’کولیکٹیووس‘ کہا جاتا ہے۔
جرنیلوں کا کلیدی شعبوں پر کنٹرول
دیوسدادو کابیو، جو خود سابق فوجی افسر اور سوشلسٹ پارٹی کی ایک اہم شخصیت ہیں، مسلح افواج کے ایک نمایاں حصے پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، حالانکہ گزشتہ دس برس سے وینزویلا کی فوج کی باضابطہ قیادت وزیر دفاع ولادی میر پادرینو کے پاس ہے۔
وینزویلا میں تقریباً دو ہزار جنرل اور ایڈمرل موجود ہیں، جو امریکہ میں موجود تعداد سے دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
سینیئر اور ریٹائرڈ فوجی افسران خوراک کی ترسیل، خام مال اور سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے (PDVSA) کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ درجنوں جنرل نجی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔
معاہدوں سے حاصل ہونے والے فوائد کے علاوہ، منحرف ہونے والوں اور موجودہ و سابق امریکی تفتیش کاروں کے مطابق، وینزویلا کے فوجی عہدیدار غیر قانونی تجارت سے بھی منافع کماتے ہیں۔
اپوزیشن سے وابستہ ایک سکیورٹی کنسلٹنٹ کی دستاویزات، جو امریکی فوج کے ساتھ شیئر کی گئیں اور جنہیں روئٹرز نے دیکھا، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دیوسدادو کابیو اور ولادی میر پادرینو کے قریبی کمانڈرز کو وینزویلا کی سرحدوں اور صنعتی مراکز میں واقع اہم بریگیڈز میں تعینات کیا گیا ہے۔
یہ بریگیڈز اگرچہ عسکری لحاظ سے نہایت اہم ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ سمگلنگ کے بڑے راستوں پر بھی واقع ہیں۔
ایک وکیل، جو وینزویلا کی اعلیٰ قیادت کے ایک رکن کی قانونی نمائندگی کر چکے ہیں، نے کہا: ’اس حکومت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے وینزویلا کی فوج کے کم از کم 20 سے 50 افسران کو ہٹانا ضروری ہوگا، بلکہ ہو سکتا ہے اس سے بھی زیادہ ہوں۔‘
وکیل کے مطابق، بعض فوجی افسران ممکنہ طور پر حکومت سے علیحدگی پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد تقریباً ایک درجن سابق عہدیداروں اور موجودہ جنرلز نے امریکہ سے رابطہ کیا، اس امید کے ساتھ کہ وہ معلومات فراہم کر کے محفوظ راستہ اور قانونی استثنیٰ حاصل کر سکیں۔
وکیل نے بتایا: ’تاہم، کابیو کے قریبی ذرائع کے مطابق، وہ اس وقت کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘