امریکی حکومت نے ہفتے کو اعلان کیا کہ ایک فوجی آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر نیویارک میں فرد جرم عائد کرنے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔
امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے ایکس پر بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ پر جنوبی ضلع نیو یارک میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ’نکولس مادورو پر امریکہ کے خلاف نارکو- ٹیررزم سازش، کوکین کی سمگلنگ کی سازش، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے اور مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے اور اس کے رہنما صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی کارروائی کو ’ٹی وی شو کی طرح‘ دیکھا۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کارروائی کی رفتار اور شدت کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے امریکی ٹیم کے ’ناقابلِ یقین کام‘ کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کے بعد نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ان پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مادورو پر امریکی شہریوں سمیت کئی افراد کے قتل کا الزام ہے، حتیٰ کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ یہ کارروائی چار دن پہلے ہونا تھی، لیکن موسم سازگار نہ ہونے کے باعث مؤخر کی گئی۔
ان کے بقول مادورو کو ایک ایسی جگہ سے گرفتار کیا گیا جو گھر سے زیادہ ایک قلعہ لگتی تھی اور چاروں طرف مضبوط سٹیل سے محفوظ تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کارروائی میں کوئی امریکی فوجی نہیں مارا گیا، چند اہلکار زخمی ہوئے جو اب بہتر حالت میں ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کی متعدد ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ مقامی وقت کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات تقریباً دو بجے دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور طیارے کم بلندی پر پرواز کرتے دیکھے گئے۔
کاراکاس میں ایک فوجی اڈے کے ہینگر سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا جبکہ دارالحکومت میں واقع ایک اور فوجی تنصیب کی بجلی منقطع ہو گئی۔
شہر کے مختلف حصوں میں لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ 21 سالہ خاتون کارمن ہڈالگو نے کانپتی ہوئی آواز میں اے پی کو بتایا ’پورا علاقہ لرز اٹھا۔ یہ بہت خوف ناک تھا۔ ہم نے دھماکوں اور طیاروں کی آوازیں سنیں۔‘
مذکورہ خاتون دو رشتہ داروں کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ’ایسا محسوس ہوا جیسے ہوا ہم سے آ کر ٹکرا رہی ہو۔‘
وینزویلا کی حکومت نے ایک بیان میں اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکل آنے کی اپیل کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ’لوگو، سڑکوں پر نکل آؤ۔ حکومت ملک کی تمام سماجی اور سیاسی قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ متحرک ہونے کے منصوبے فعال کریں اور اس سامراجی حملے کی مذمت کریں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر نکولس مادورو نے ’تمام قومی دفاعی منصوبوں پر عمل درآمد‘ کا حکم دے دیا ہے اور ’بیرونی مداخلت کی حالت‘ نافذ کر دی گئی ہے۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں امریکی فوج مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
جمعے کو وینزویلا نے کہا تھا کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
صدر مادورو نے جمعرات کو نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی مسلط کرنا چاہتا ہے اور اگست میں بحیرہ کیریبین میں بڑے فوجی دستے کی تعیناتی سے شروع ہونے والی مہینوں پر محیط دباؤ مہم کے ذریعے اس کے تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ میں نکولس مادورو پر منشیات سے جڑی دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے سی آئی اے ایک ڈرون حملے کے پیچھے تھی جو ایک ایسی لنگرگاہ پر کیا گیا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے وینزویلا کے منشیات کارٹلز استعمال کر رہے تھے۔
یہ ستمبر میں کشتیوں پر حملے شروع ہونے کے بعد وینزویلا کی سرزمین پر کیا جانے والا پہلا معلوم براہ راست آپریشن تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مہینوں سے یہ دھمکی دے رہے تھے کہ وہ جلد ہی وینزویلا کی سرزمین پر اہداف پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
امریکہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل بردار جہاز بھی ضبط کیے اور ٹرمپ نے دیگر جہازوں کی ناکہ بندی کا حکم دیا، جسے جنوبی امریکی ملک کی معیشت پر مزید سخت دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔
امریکی فوج ستمبر کے آغاز سے بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر حملے کر رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے تک معلوم حملوں کی تعداد 35 ہو چکی جب کہ ان میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 115 ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ کارروائیاں جنوبی امریکہ کے ساحلی پانیوں میں امریکی فورسز کی بڑی تعداد میں تعیناتی کے بعد کی گئیں، جن میں نومبر میں ملک کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز کی آمد بھی شامل تھی۔
اس تعیناتی سے پہلے ہی خطے میں کئی نسلوں کے دوران سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم تھی، جس میں مزید ہزاروں فوجی شامل ہو گئے۔
ٹرمپ نے کشتیوں پر حملوں کو امریکہ میں منشیات کی آمد روکنے کے لیے ضروری شدت اختیار کرنے کے طور پر درست قرار دیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا منشیات کے کارٹلز کے ساتھ ’مسلح تنازعے‘ میں مصروف ہے۔
دریں اثنا ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ہفتے کو کراکس میں ہونے والے دھماکوں کی خبر دی اور وینزویلا کے دارالحکومت کی تصاویر نشر کیں۔
ایران کئی برسوں سے وینزویلا کے قریب رہا ہے، جس کی ایک وجہ امریکہ کے خلاف دونوں کی مشترکہ دشمنی بھی ہے۔