پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِ اعظم طارق رحمٰن کو باہمی طور پر موزوں تاریخ پر پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے۔
طارق رحمٰن کے تقریب حلف برداری میں منگل کو پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال نے کی تھی۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے 60 سالہ سربراہ طارق رحمٰن کا تعلق ملک کے طاقتور سیاسی خاندان سے ہے اور 12 فروری کے انتخابات میں ان کی جماعت کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
منصوبہ بندی کے وزیر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈھاکہ میں طارق رحمٰن سے ان کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ملاقات کی اور ان کے انتخاب پر پرتپاک مبارکباد بھی پیش کی۔ جس کے بعد جاری ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ’پاکستان کے دورے کے لیے بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم کو سرکاری دعوت دے دی گئی۔‘
رکاری میڈیا ریڈیو پاکستان مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
سن اقبال نے جنوبی ایشیا کے ممالک کی تنظیم ’سارک‘ کو فعال بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ علاقائی رابطوں بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ تاریخ اور ہم آہنگ معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مستقبل بین شراکت داری کا خواہاں ہے۔ احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں پُرامن جمہوری انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کی اہم پیش رفت قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نوجوان آبادی رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور آبادی کا یہ تناسب ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
احسن اقبال نے دوطرفہ تجارت میں اضافے، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کے فروغ اور سپلائی چین کے انضمام پر زور دیا تاکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے صنعتی صلاحیتوں، ایس ایم ای سیکٹر اور برآمدی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک عالمی ویلیو چینز میں اہم کردار ادا کر سکیں۔
وفاقی وزیر نے بنگلہ دیش پاکستان نالج کاریڈور کے آغاز سے وزیراعظم طارق رحمٰن کو آگاہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جلد بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے تاکہ جامعات کے درمیان ٹوئننگ پروگرامز اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو حتمی شکل دی جا سکے۔
پانچ اگست 2024 کو ایک طویل عوامی احتجاجی تحریک کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی عبوری حکومت کے دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرم جوشی دیکھی گئی۔
گذشتہ ایک سال میں دفاع، تجارت، تعلیمی اور سفارتی رابطے دیکھے گئے۔
جنوری میں 14 برس کے وقفے کے بعد ڈھاکہ اور کراچی میں براہِ راست پرواز کی بحال ہوئی جسے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
س سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے بھی ملاقات کی جبکہ آج (بدھ کو) انہوں نے بنگلہ دیشی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور جماعت اسلامی بندگلہ دیش کے رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمٰن سے بھی ملے۔