طارق رحمٰن کے بنگلہ دیش کا نیا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار

جماعت اسلامی نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی۔ جماعت کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم مجموعی نتیجے کو تسلیم اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی نے عام انتخاب میں ووٹوں کی گنتی میں مسائل کا الزام لگانے کے باوجود ہفتے کو اپنی انتخابی شکست تسلیم کر لی ہے جس کے بعد نیشنلسٹ رہنما طارق رحمٰن کے ملک کا نیا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق طارق رحمٰن کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعرات کے انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی، جو 2024 کی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلے انتخابات تھے، جس میں شیخ حسینہ واجد کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔

بی این پی کے سربراہ 60 سالہ طارق رحمٰن کی کامیابی اس شخص کے لیے ایک حیران کن تبدیلی کی علامت ہے جو ڈھاکہ کے سیاسی طوفانوں سے دور برطانیہ میں 17 سال جلاوطنی میں گزارنے کے بعد دسمبر میں ہی بنگلہ دیش واپس پہنچے۔

بنگلہ دیش کے سب سے طاقتور سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ طارق رحمٰن  کی جانب سے آج بروز ہفتہ انتخابی فتح کے حوالے سے خطاب کی توقع ہے۔

طارق رحمٰن  کے والد، سابق صدر ضیا الرحمان کو 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا، جب کہ ان کی والدہ خالدہ ضیا تین بار وزیراعظم رہیں اور دہائیوں تک قومی سیاست پر چھائی رہیں۔

نوبیل انعام یافتہ محمد یونس، جو عوامی تحریک کے بعد سے بطور عبوری رہنما 17 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ ضیاالرحمٰن ’ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی طرف لے جانے میں مدد کریں گے۔‘

الیکشن کمیشن کے مطابق، جماعت اسلامی کے اتحاد کی 77 نشستوں کے مقابلے میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں۔

’عوامی فیصلہ‘

جماعت کے سربراہ 67 سالہ شفیق الرحمٰن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن سے ’ازالہ چاہیں گے‘، جب کہ ان کی پارٹی نے ’تضادات اور ہیرا پھیری‘ کا الزام لگایا۔

لیکن ایک دن بعد انہوں نے شکست تسلیم کر لی۔

جماعت کے رہنما نے ایک بیان میں کہا: ’کسی بھی حقیقی جمہوری سفر میں، قیادت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں ہے کہ ہم مہم کیسے چلاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم عوام کے فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ ہم مجموعی نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں، اور ہم قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘

شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ 78 سالہ حسینہ، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی، نے انڈیا میں روپوشی کے دوران ایک بیان جاری کیا، جس میں ’غیر قانونی اور غیر آئینی الیکشن‘ کی مذمت کی گئی۔

امریکی سفارت خانے نے طارق رحمٰن اور بی این پی کو ’تاریخی فتح‘ پر مبارکباد دی، جب کہ پڑوسی ملک انڈیا نے ان کی ’فیصلہ کن جیت‘ کی تعریف کی، جو شدید کشیدہ تعلقات کے بعد ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

چین اور پاکستان، جو 2024 کی تحریک اور انڈیا کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے قریب آئے، نے بھی بی این پی کو مبارکباد دی۔

بین الاقوامی انتخابی مبصرین نے کہا کہ انتخابات کامیاب رہے۔ یورپی یونین نے ہفتے کو کہا کہ انتخابات ’معتبر‘ تھے۔

اسی طرح انٹرنیشنل رپبلکن انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’انتخابی انتظامیہ تکنیکی طور پر درست تھی، لیکن وسیع تر سیاسی ماحول نازک ہے۔‘

’کامیاب ووٹنگ‘

جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ ان کی پارٹی ’چوکس، اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر کام کرے گی، اور حکومت کا احتساب کرے گی۔‘

الیکشن کمشنر محمد انوار الاسلام سرکار نے بتایا کہ ووٹنگ کامیاب رہی۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اب تک کا بہترین الیکشن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 42 ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں میں سے صرف ایک پر پولنگ منسوخ کی گئی۔

الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو شکوک و شبہات تھے کہ کیا ان حالات میں کامیاب الیکشن ہو سکتا ہے، لیکن ہم نے یہ کر دکھایا۔ اگر اب بھی کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ عدالت جا سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن نے کہا کہ 300 میں سے 299 حلقوں میں ٹرن آؤٹ 59 فیصد رہا۔

بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں صرف سات خواتین منتخب ہوئیں، حالاں کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے مخصوص مزید 50 نشستیں پارٹی لسٹوں سے نامزد کی جائیں گی۔

شفیق الرحمٰن نے ان نمایاں کامیابیوں پر زور دیا، جو ان کی اسلامی پارٹی نے حسینہ کے دور میں برسوں کچلے جانے کے بعد گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں حاصل کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’77 نشستوں کے ساتھ، ہم نے پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کو تقریباً چار گنا بڑھا دیا ہے اور جدید بنگلہ دیشی سیاست میں سب سے مضبوط اپوزیشن بلاکس میں سے ایک بن گئے ہیں۔ یہ کوئی دھچکہ نہیں ہے۔ یہ ایک بنیاد ہے۔‘

ووٹروں نے جمعرات کو محمد یونس کے حمایت یافتہ ایک وسیع جمہوری اصلاحاتی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم میں اس کی تجاویز کی بھی تائید کی۔ ان اصلاحات کا مقصد حکومت کے اُس نظام کو تبدیل کرنا ہے جسے محمد یونس نے ’مکمل طور پر تباہ حال‘ قرار دیا۔ اصلاحات کا مقصد ون پارٹی کردار کی واپسی کو روکنا بھی ہے۔

اصلاحات میں وزیراعظم کی مدت کی حد، پارلیمنٹ کا نیا ایوان بالا، مضبوط صدارتی اختیارات اور زیادہ عدالتی آزادی شامل ہیں۔

کرائسس گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے خبردار کیا کہ آنے والی حکومت کو اب ’مشکل چیلنجز‘ کا سامنا ہے، جن میں ’معیشت کو بہتر بنانا، سکیورٹی یقینی بنانا اور اصلاحاتی عمل جاری رکھنا‘ شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا