بنگلہ دیش میں خونی تبدیلی کے بعد جمہوریت کی جیت

درحقیقت بہت سے خدشات الیکشن کو گھیرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ تشدد ہو گا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور ووٹرز ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ڈھاکہ میں 12 فروری 2026 کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر گنتی شروع ہونے پر انتخابی اہلکار بیلٹ کو ترتیب دے رہے ہیں (اے ایف پی) 

بنگلہ دیش میں غیر یقینی صورت حال اور گہری بدگمانیوں کے درمیان، اس بار کے انتخابات میں عوام کی خوشی اور دلچسپی غیرمعمولی رہی ہے۔

ونسٹن چرچل نے اکتوبر 1944 میں ہاؤس آف کامنز میں دنیا کو یاد دلایا کہ جمہوریت واقعی ایک اہم چیز پر منحصر ہے اور وہ ہے: ’وہ مرد اور عورت جو ایک چھوٹے سے بوتھ میں جا کر، ایک پینسل کے ساتھ کاغذ پر ایک چھوٹا سا کراس بناتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش کے مرد و زن نے بھی جعمرات کو اپنا یہ حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ ماضی میں بنگلہ دیش کے انتخابات کے طرح یقینی طور پر یکطرفہ، انجینیئرڈ نہیں تھے جو ہم نے 2014، 2018، اور 2024 میں دیکھے۔ اس وقت نتائج اتنے ہی متوقع تھے جتنا دن کے بعد رات کا امکان۔ اس بار مقابلہ حقیقی تھا، منصفانہ اور آزاد انتخابات کی توقع تھی اور سب سے بڑی بات طاقت ووٹرز کے ہاتھ میں تھی۔

اس الیکشن میں، ہم جماعت اسلامی کی واپسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ایک ایسی جماعت جس نے 1971 کے واقعات کے بعد دوبارہ نمایاں حمایت حاصل کی۔

پھر ایک نئی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کا ابھرنا، جو 2024 جولائی کی بغاوت کے بعد پیدا ہوئی اور اب جماعت اسلامی کی اتحادی ہے، سیاسی افق پر ایک مثبت اضافہ ہے۔

اور پھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جو طویل عرصے سے دباؤ کا شکار تھی لیکن اب دو محبوب رہنماؤں کی میراث کے ساتھ ابھر رہی ہے۔ ان کے بیٹے کی قیادت میں، جنہیں 17 سال تک بیرون ملک رہنے پر مجبور کیا گیا، بی این پی ایک سنجیدہ مقابلے کے بعد اب ووٹروں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔

عوامی لیگ کے زوال نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے کو نئی شکل دی۔ جب لیگ کے رہنما ملک سے فرار ہو گئے، تو اس پارٹی پر بغاوت کے دوران مبینہ قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں پابندی عائد کر دی گئی  اور اسے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

اس نے بی این پی اور جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد کے لیے ان حلقوں میں مقابلہ کرنے کے لیے جگہ کھول دی جو طویل عرصے سے عوامی لیگ کے زیر تسلط تھیں۔

2014 اور 2024 کے انتخابات زیادہ تر بلامقابلہ ثابت ہوئے تھے، جن کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ 2018 کے انتخابات پولنگ کے دن دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔

الیکشن کے نتائج نے بتا دیا کہ آیا لوگوں کی جولائی میں پیدا ہونے والی توقعات مذہبی یا سیاسی عناصر کی طرف ہیں۔

جنوری 2024 کا الیکشن بنگلہ دیش کی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل لگ رہا تھا اور یقیناً بہت سے لوگوں نے ووٹ ڈالنے کی اس وقت زحمت تک نہیں کی تھی۔ پھر جولائی آیا اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح غیر مسلح طلبہ نے کئی دہائیوں پہلے اپنے پیشروؤں کی طرح، ایک بے رحم حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی جرت کی۔

ایک بار پھر، یہ طالبات ہی تھیں جنہیں سیاسی غنڈوں نے بے رحمی سے پیٹا جس سے پہلی چنگاری بھڑکی اور جس نے بظاہر سادہ نظر آنے والی کوٹہ مخالف، امتیازی سلوک کے خلاف ایک تحریک کو بہت زیادہ نتیجہ خیز بنا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور پھر تحریک نے ابو سعید کی صورت میں پہلا جمہوریت کے لیے جان کتی قربانی دی جس سے تحریک نے زبردست رفتار پکڑی۔ طلبہء کی قیادت میں ہزاروں لوگ غصے اور غم کے عالم میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس وقت کی حکومت کی سرپرستی میں مظاہرین کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا جس میں اقوام متحدہ کے مطابق لگ بھگ 1400 لوگ مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

پھر، 5 اگست 2024 کو، ناممکن ممکن ہوگیا۔ ایک غیرمقبول حکمران بھاگ گیا اور ملک اس کی ’ظالم حکومت‘ سے آزاد ہو گیا۔ اس کامیابی نے بنگلہ دیش کے عوام کو ایک مرتبہ پھر خواب دیکھنے کی ہمت دی۔

جب پروفیسر محمد یونس نے طلبہ کی کال پر لبیک کہا اور سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ کے نمائندوں کی ایک غیر روایتی کابینہ نے عبوری حکومت کی تشکیل کا حلف اٹھایا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں اور حقیقی تبدیلی آنے والی ہے۔ پچھلی حکومت کے جبری اور سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔

درحقیقت، بہت سے خدشات جو الیکشن کو گھیرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ تشدد ہو گا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

درحقیقت، ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی عوامی لیگ اور چند دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بظاہر منسلک بعض سیاسی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات کی قانونی حیثیت پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اور حریف جماعتوں پر غلط یا غیر یقینی طور پر الزامات عائد کیے تاکہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاسکے۔

پولنگ کے دوران یقینا خوف و ہراس پھیلانے اور بیلٹ چھیننے کی کوششوں کے چند الگ تھلگ واقعات رونما ہوئے لیکن یہ بہت کم تھے۔ آخر میں، ووٹروں نے جھوٹے پروپیگنڈے سے ڈرنے سے انکار کر دیا اور اپنا جمہوری حق استعمال کیا۔

تقریباً 12.77 کروڑ ووٹرز کے ساتھ، جن میں سے تقریباً نصف خواتین تھیں ان الیکشنز میں بہت زیادہ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ نتیجتاً، بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا کہ یہ آسانی سے انجام پائے۔ تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار سخت حفاظتی انتظامات کے لیے تعینات کیے گئے تھے، جن میں ایک لاکھ سے زیادہ فوج کے اہلکار اور 1.86 لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکار شامل تھے۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس الیکشن میں ایک ریفرنڈم بھی شامل تھا، ووٹنگ کا عمل خاصا ہموار اور موثر رہا۔

سیاسی والدین کے بیٹے طارق رحمن کا مضبوط سیاسی پس منظر کیا انہیں بنگلہ دیش کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گا یا نہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر