اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مبینہ خراب صحت اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف آج (جمعے کو) اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے باہر دھرنا دے گی۔
یہ پیش رفت جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک رپورٹ کے پیش ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کا ذکر ہے۔
سپریم کورٹ میں مذکورہ رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیش کی، جنہیں عدالت عظمیٰ نے فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملنے اور وہاں ان کی صورت حال پر تفصیلات اکٹھا کرنے کی ذمہ داری لگائی تھی۔
سلمان صفدر، جو بدھ کو تقریباً تین گھنٹے اڈیالہ جیل میں رہے اور حکام کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے، نے اپنی رپورٹ پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے بتایا کہ ’ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے۔‘
رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان (عمران خان) کی ان کے بیرون ملک مقیم بیٹوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا۔
ٹی ٹی اے پی نے جمعرات کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو پی ٹی آئی قیادت کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کردیا
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) February 12, 2026
ہم کل پارلیمنٹ کے گیٹ کے باہر ( ڈی چوک ) دھرنا دے دیں گے اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل نہیں کردیا جاتا اور وہاں ان کا ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی… pic.twitter.com/c5CmCiSBJo
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’ہم جمعے کی نماز کے بعد پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خان صاحب کو ان ڈاکٹروں تک مکمل رسائی دی جائے جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں۔‘
عمالہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف شفا ہسپتال میں ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر عامر اعوان اور ڈاکٹر مظہر اسحاق ہیں؛ یہ راولپنڈی کے دو اعلیٰ ماہرین ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں، لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں (عمران) کو فوری طور پر منتقل کیا جائے اور مناسب علاج فراہم کیا جائے۔‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ (عمران) حکومت کی تحویل میں تھے اور ان کی طبی دیکھ بھال اور ڈاکٹروں تک رسائی ان کی ذمہ داری تھی۔‘
کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا۔ ہمارے مطالبات ہم کل دھرنے میں رکھیں گے اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔ مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو زمہ دار حکومت ہوگی۔
— Mehmood Khan Achakzai (@MKAchakzaiPKMAP) February 12, 2026
اس موقعے پر ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کل (آج) کے دھرنے میں اپوزیشن اپنے مطالبات پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ جائز ہے اور کوئی گالی گلوچ یا تکلیف دہ باتیں نہیں کہے گا۔ صرف شائستہ اور احترام والی زبان کی اجازت ہوگی۔
’صرف خدا ہی جانتا ہے کہ ہم کب تک وہاں بیٹھے رہیں گے اور ہم کھڑے نہ ہونے کا وعدہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایک پرامن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا۔‘
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ کل کے دھرنے میں ہم اپنے مطالبات پیش کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، اگر خدانخواستہ مطالبات کی منظوری میں کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’عمران کے خلاف ریاست نے جرم کیا ہے‘
اس سے قبل پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، عمران کی بہن علیمہ خانم اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ رپورٹ پڑھنے کے بعد ان کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔
راجا نے کہا کہ عمران کی آنکھ میں درد نومبر میں شروع ہوا، اور ’دسمبر میں، وہ اپنی دائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر کھو بیٹھے۔
عمران کی بہن علیمہ نے کہا کہ اس رپورٹ نے ان کا دل ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سلمان صفدر کی رپورٹ پڑھنے کے بعد جزبات پر قابو رکھنا ممکن نہیں،پھر بھی میں کوشش کروں گا بات قانونی پیرائے میں رہ کر کروں اگرچہ بات قانون سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔
— PTI (@PTIofficial) February 12, 2026
عمران خان کے خلاف جرم کا ارتکاب ہوا ہے اور یہ جرم اس ریاست نے کیا ہے جس کا چہرہ غفور انجم ہے۔ اس کو ہم نہیں بھولیں گے… pic.twitter.com/yVxPCwvbw9
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے شخص کے لیے کافی نہیں کیا جو ڈھائی سال سے جیل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام کو عمران کی صحت کا علم تھا لیکن وہ ان کے علاج کا مناسب بندوبست کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہیں کیونکہ ہماری عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے پاس ’آپشنز‘ ہیں اور وہ ان پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور ٹی ٹی اے پی کے رہنما ان آپشنز پر غور کرنے کے لیے دن کے آخر میں ملاقات کریں گے۔