اپوزیشن اتحاد نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف آج (جمعے کو) اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔
اس دوران شاہراہ دستور، جہاں پارلیمان واقع ہے، سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی جدون اور ان کے ساتھیوں کو پی ٹی وی چوک سے حراست میں لیا گیا۔
اپوزیشن اتحاد نے احتجاج کا اعلان جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک رپورٹ کے پیش ہونے کے چند گھنٹے بعد کیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کا ذکر ہے۔
اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے اسلام آباد پولیس سے موقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس دھرنے کا اعلان گذشتہ روز وکیل سلمان صفدر کے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم کی مبینہ بگڑتی صحت سے متعلق رپورٹ جمع کروائے جانے اور بعد ازاں منظر عام پر آنے کے بعد کیا جس کے بعد اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ اور عوام پاکستان پارٹی نے اس احتجاجی دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا اعلان کیا۔
جہاں ایک جانب ’راستوں کی بندش‘ کی وجہ سے اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ نے پارلیمان کی حدود کے اندر دھرنا دے رکھا ہے وہیں دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں ایک دھرنا خیبر پختونخوا ہاؤس (کے پی ہاؤس) میں بھی دیا گیا ہے۔
جو اراکین پارلیمان کو جانے والے راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں پہنچ سکے تھے، وہ سہیل آفریدی کے ہمراہ کے پی ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔
اس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارلیمان کے دروازے باہر اور اندر دونوں جانب سے بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ سیکریٹریٹ جانے والے راستوں کو بھی سیل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی ہاؤس میں موجود دیگر اراکین اسمبلی، ایم این اے ہاسٹل اور پارلیمنٹ لاجز تک اراکین کی رسائی بھی روکی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ انتہائی سادہ ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ان کا بنیادی حق ہے۔
ان کے بقول: ’عمران خان کو فوری طور پر شفا ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں ان کا علاج کیا جائے تاکہ ان کا مناسب علاج ممکن ہو سکے۔ اسی تاخیر کی وجہ سے ان کی بینائی 85 فیصد ضائع ہو چکی ہے۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت اور عمران خان کے اہل خانہ کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے، جہاں متعلقہ شعبے کے ماہرین دستیاب ہیں۔
مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں لائحۂ عمل سے متعلق سوال پر گوہر خان نے کہا کہ یہ قیادت فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا کرنا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
ان کے بقول: ’اگر اپوزیشن دھرنے یا احتجاجی کال دے تو سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں، اسی لیے بعض راستوں کو بند کیا گیا۔‘
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنے میں شرکت سے روکنے کے اقدام کے تناظر میں، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ارکانِ صوبائی اسمبلی کے ہمراہ کے پی ہاؤس اسلام آباد کے باہر موجود ہیں، جہاں اسلام آباد پولیس کی جانب سے… pic.twitter.com/V4mFah4OSW
— PTI Khyber Pakhtunkhwa (@PTIKPOfficial) February 13, 2026
سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی صحت سے متعلق الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ دو دسمبر کو ملاقات کے دوران آنکھ کے مسئلے کا ذکر سامنے آیا جس کے بعد نو دسمبر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور دیگر ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق بورڈ کے سامنے کسی شدید تکلیف کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ 20 دسمبر کو بھی عدالتی پیشی کے موقع پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ ’جنوری کے پہلے ہفتے میں باضابطہ شکایت کی گئی، جس کے بعد جیل کے ڈاکٹر نے فوری طور پر دوایاں تجویز کیں اور آنکھوں کے ماہرین سے رجوع کیا گیا۔‘
معاون خصوصی کے مطابق 15 تاریخ کو خط لکھا گیا اور 16 کو معائنہ کرایا گیا، بعد ازاں مزید ٹیسٹ ہوئے اور چند روز میں علاج کا وہ طریقہ اختیار کیا گیا جو عالمی معیار کے مطابق بہترین سمجھا جاتا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے بقول ’شکایت کے تقریبا 10 روز کے اندر سابق وزیر اعظم کا مکمل طبی عمل مکمل کیا گیا لہذا مجرمانہ غفلت کا الزام بے بنیاد ہے، عمران خان کی صحت پر سیاست کرنا نامناسب ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہسپتال منتقلی کا فیصلہ ڈاکٹرز کی سفارش پر ہوگا اور عدالت بھی طبی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اگر ماہرین تجویز کریں تو عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال کسی نئی کمیٹی کی تشکیل زیر غور نہیں اور وزیراعظم کو جو خط دیا گیا ہے اس میں بھی بنیادی طور پر علاج اور ہسپتال منتقلی کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔‘
اس سے قبل سپریم کورٹ میں مذکورہ رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیش کی، جنہیں عدالت عظمیٰ نے فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملنے اور وہاں ان کی صورت حال پر تفصیلات اکٹھا کرنے کی ذمہ داری لگائی تھی۔
سلمان صفدر، جو بدھ کو تقریباً تین گھنٹے اڈیالہ جیل میں رہے اور حکام کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے، نے اپنی رپورٹ پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے بتایا کہ ’ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے۔‘
رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان (عمران خان) کی ان کے بیرون ملک مقیم بیٹوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا۔
سلمان صفدر، جو بدھ کو تقریباً تین گھنٹے اڈیالہ جیل میں رہے اور حکام کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے، نے اپنی رپورٹ پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے بتایا کہ ’ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے۔‘
رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان (عمران خان) کی ان کے بیرون ملک مقیم بیٹوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا۔