قیادت کی کال پر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے: صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا

جنید اکبر نے سیاسی مقدمات کے خاتمے اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

آٹھ  فروری 2026 کو جنید اکبر پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ ریلی میں شریک ہیں (ایکس سکرین گریب / جنید اکبر)

صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے آج پشاور کے چوک یادگار میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھے گی اور قیادت کی کال پر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

صحافی شازیہ نثار کے مطابق خطاب کے آغاز پر کارکنوں نے ڈی چوک جانے کے حق میں نعرے بازی کی۔

جنید اکبر نے کہا کہ ڈی چوک سے متعلق فیصلے میں وہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم حتمی اعلان پارٹی قیادت کی ہدایت کے بعد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑی تعداد میں کارکن اڈیالہ پہنچتے ہیں تو وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سے ڈی چوک جانے کی درخواست کریں گے۔

جنید اکبر نے پشاور کی تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں نے اپنی مرضی سے دکانیں بند رکھیں، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔

انہوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ تاجر رہنماؤں کے مسائل سنے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک میں امن، سرمایہ کاری اور سیاسی استحکام کی خواہاں ہے اور ایسی قیادت ضروری ہے جس کے پیچھے عوام کھڑے ہوں۔

جنید اکبر نے سیاسی مقدمات کے خاتمے اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے جلد احتجاج کی نئی کال دی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور کے ساتھ صوابی اور بونیر میں بھی جزوی ہڑتال کا مشاہدہ کیا گیا۔

حکومتی دعویٰ

دوسری جانب حکومت نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی پہیہ جام کی کال ناکام ہو گئی اور عوام نے احتجاجی سیاست مسترد کر دی۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلی بار دیکھا گیا کہ پہیہ جام کی کال کے باوجود ملک بھر میں معمولاتِ زندگی پوری طرح رواں دواں رہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ عوام نے نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کو واضح طور پر رد کر دیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق لوگ احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کی کال کو بری طرح مسترد کر دیا۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز بھی بازاروں اور سڑکوں پر گہماگہمی رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام منفی سیاست کے بجائے استحکام اور ترقی کے حامی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست