امریکہ سے مذاکرات، ’یورینیم افزودگی کا حق‘ تسلیم کرنا لازمی شرط: ایران

یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایران کے ’یورینیم افزودگی کے حق‘ کو تسلیم کرنا لازمی شرط ہے۔

عمان میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران 'صفر افزودگی' کے مطالبے کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا رخ اس طرف ہونا چاہیے جہاں ایران کی سرزمین پر افزودگی کو قبول کیا جائے اور ایران اس کے پرامن ہونے کا مکمل بھروسہ فراہم کرے۔

'میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باعث تناؤ عروج پر ہے۔

وزیر خارجہ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام کبھی بھی مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا اور اسے جوہری بات چیت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افزودگی کا مطالبہ محض تکنیکی نہیں بلکہ ایران کی آزادی اور قومی وقار کا معاملہ ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایرانی قوم کو بتائے کہ اسے کیا رکھنا چاہیے اور کیا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مستقبل کے مذاکرات کا لائحہ عمل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ایک ’مثبت قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدوں (این پی ٹی) کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران افزودگی کی سطح پر بات کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ پابندیوں میں نرمی کی جائے اور فوجی تناؤ کم ہو۔

مذاکرات کے اگلے دور کی جگہ اور تاریخ کا فیصلہ جلد عمان کی مشاورت سے کیا جائے گا جو ممکنہ طور پر مسقط کے بجائے کسی اور مقام پر منعقد ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا