سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے الکویک فوجی ہسپتال، ورلڈ فوڈ پروگرام سے منسلک امدادی قافلے اور بے گھر شہریوں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر کیے گئے مجرمانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
رواں ہفتے ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں غیر مسلح شہری جان سے گئے تھے جبکہ شمالی اور جنوبی کردفان کی ریاستوں میں انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے اداروں کی تنصیبات اور امدادی قافلوں کو نقصان پہنچا تھا۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ایسے اقدامات کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں اور یہ تمام انسانی ہمدردی کے اصولوں اور متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا: ’مملکت نے ریپڈ سپورٹ فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان خلاف ورزیوں کو بند کریں اور بین الاقوامی انسانی قانون اور جدہ اعلامیہ (سوڈان میں شہریوں کے تحفظ کا عہد)، جس پر 11 مئی 2023 کو دستخط کیے گئے تھے، کی شقوں کے مطابق ضرورت مندوں تک انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنا کر اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں۔‘
سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں ’سوڈان کی وحدت، سلامتی اور استحکام کی حمایت میں اپنے پختہ مؤقف کا اعادہ‘ کرتے ہوئے ’اس کے جائز اداروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور‘ دیا گیا۔
بیان میں ’غیر ملکی مداخلت نیز بعض فریقوں کی جانب سے ناجائز ہتھیاروں، کرائے کے جنگجوؤں اور غیر ملکی لڑاکوں کی فراہمی کے مسلسل اقدامات‘ کو بھی مسترد کیا گیا۔
جمعرات کو جنوبی کردفان میں الکویک فوجی سپتال پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں درجنوں شہری جان سے گئے اور زخمی ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو ڈاکٹروں کی ایک تنظیم’ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک‘ نے ریپڈ سپورٹ فورسز پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے شمالی کردفان میں عالمی خوراک پروگرام کے ایک امدادی قافلے پر ڈرون حملہ کیا، جس کے باعث کم از کم 24 افراد جان سے گئے اور بے گھر شہریوں کے لیے بھیجی گئی انسانی امداد تباہ ہو گئی۔
اسی روز ریاستی حکام نے بتایا تھا کہ شہر الرہاد میں بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجوؤں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت کم از کم 24 شہری جان سے چلے گئے۔
ان واقعات پر باغی گروہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
سوڈان کی 18 ریاستوں میں سے ریپڈ سپورٹ فورسز مغربی دارفور کے خطے کی تمام پانچ ریاستوں پر قابض ہیں، سوائے شمالی دارفور کے کچھ حصوں کے جو بدستور فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ فوج ملک کے جنوب، شمال، مشرق اور وسط میں واقع باقی 13 ریاستوں کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے، جن میں دارالحکومت خرطوم بھی شامل ہے۔
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 میں شروع ہونے والا تنازع اب تک ہزاروں افراد کی جانیں لے چکا ہے اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر چکا ہے۔