واشنگٹن پوسٹ کے سی ای او بڑے پیمانے پر برطرفیوں کے بعد مستعفی

بدھ کو ہونے والی ان برطرفیوں کے دوران ول لیوس کی غیر موجودگی پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 

واشنگٹن پوسٹ کے دفتر سے ایک شخص باہر نکلتے ہوئے، واشنگٹن ڈی سی، 4 فروری 2026 (اولیور کنٹریراس / اے ایف پی)

واشنگٹن پوسٹ کے پبلشر اور سی ای او (CEO) ول لیوس نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے اخبار نے اپنے عملے کے تقریباً ایک تہائی حصے کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا تھا۔

بدھ کے روز ہونے والی ان برطرفیوں کے دوران ول لیوس کی غیر موجودگی پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 

اخبار کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بیرن نے اس صورتحال کو اخبار کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک قرار دیا۔

ول لیوس، جو پہلے وال سٹریٹ جرنل کے پبلشر رہ چکے ہیں، 2023 میں اس وقت ادارے کا حصہ بنے تھے جب اخبار شدید مالی نقصانات کا شکار تھا۔

اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ادارے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انہوں نے کچھ مشکل فیصلے کیے۔

جیف ڈی اونوفریو قائم مقام سی ای او مقرر

ول لیوس کی جگہ اب جیف ڈی اونوفریو کو قائم مقام پبلشر اور سی ای او مقرر کیا گیا ہے۔

ڈی اونوفریو اس سے قبل اخبار کے چیف فنانشل آفیسر کے طور پر کام کر رہے تھے اور گوگل اور یاہو جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اسٹاف کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا کہ اب تمام فیصلے صارفین کے ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے تاکہ قارئین کو ان کی ضرورت کے مطابق بہترین مواد فراہم کیا جا سکے۔

یونین کا ردعمل اور جیف بیزوس سے مطالبہ

واشنگٹن پوسٹ کے ملازمین کی یونین (The Washington Post Guild) نے ول لیوس کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔

یونین کا کہنا ہے کہ لیوس نے صحافتی ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ مالک جیف بیزوس یا تو برطرفیوں کا فیصلہ واپس لیں یا اخبار کسی ایسے شخص کو بیچ دیں جو اس کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر سکے۔

دوسری جانب، جیف بیزوس نے قیادت کی اس تبدیلی کو اخبار کے لیے ایک "غیر معمولی موقع" قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ