اسرائیل سے روابط کے خلاف احتجاج پر مائیکروسافٹ کے چار ملازمین برطرف

مائیکروسافٹ نے کہا کہ ان برطرفیوں کا سبب کمپنی کی پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزیاں تھیں۔

19 مئی 2025 کو سیئٹل، واشنگٹن میں سیئٹل کنونشن سینٹر میں مائیکروسافٹ بِلڈ کانفرنس کے باہر فلسطین کے حامی گروپ ’نو ایژور فار اپارٹائیڈ‘ کے اراکین احتجاج کرتے ہوئے (جیسن ریڈمنڈ / اے ایف پی)

امریکی کمپنی مائیکروسافٹ نے ان چار ملازمین کو برطرف کر دیا ہے، جنہوں نے کمپنی کے اسرائیل سے تعلقات کے خلاف دفتر کے اندر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔

برطرف کیے جانے والوں میں وہ دو افراد بھی شامل ہیں، جنہوں نے رواں ہفتے کمپنی صدر کے دفتر میں ’دھرنے‘ میں شرکت کی۔

احتجاجی گروپ ’نو ایژور فار اپارٹائیڈ‘ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ انا ہیٹل اور رِکی فامیلی کو وائس میل کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔

جمعرات کو گروپ نے کہا کہ دو مزید کارکنان نسرین جرادات اور جولیئس شان کو بھی برطرف کر دیا گیا۔ یہ افراد حالیہ دنوں میں مائیکروسافٹ کے صدر دفتر میں لگائے گئے احتجاجی کیمپوں میں شامل تھے۔

مائیکروسافٹ نے کہا کہ ان برطرفیوں کا سبب کمپنی کی پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزیاں تھیں۔ جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کمپنی نے کہا کہ حالیہ موقعے پر ہونے والے مظاہروں نے ’سنگین حفاظتی خدشات‘ پیدا کیے۔

’نو ایژور فار اپارٹائیڈ‘ جس کا نام مائیکروسافٹ کے کلاؤڈ پلیٹ فارم ایژور سے ماخوذ ہے، نے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی اسرائیل سے اپنے تعلقات ختم کرے اور فلسطینیوں کو ہرجانہ ادا کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہیٹل نے ایک بیان میں کہا: ’ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ مائیکروسافٹ اسرائیل کو وہ تمام ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے جس کی اسے نسل کشی کے لیے ضرورت ہے، جب کہ اپنی ہی افرادی قوت کو دھوکہ دے کر حقیقت سے انکار کر رہا ہے۔‘

ہیٹل اور فامیلی ان سات مظاہرین میں شامل تھے، جنہیں منگل کو کمپنی کے صدر بریڈ سمتھ کے دفتر پر قبضے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ باقی پانچ مظاہرین یا تو مائیکروسافٹ کے سابق ملازمین تھے یا کمپنی سے باہر کے افراد تھے۔

سمتھ نے کہا ہے کہ مائیکروسافٹ ’اظہارِ رائے کی آزادی‘ کا احترام کرتا ہے، ’جب تک کہ وہ قانونی دائرے میں ہو۔‘

رواں ماہ شائع ہونے والی ایک مشترکہ میڈیا تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس ادارہ مائیکروسافٹ کا ایژور سافٹ ویئر استعمال کر رہا ہے تاکہ مغربی کنارے اور غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کی موبائل فون کالز کی ان گنت ریکارڈنگز کو محفوظ رکھا جا سکے۔

’گارڈین‘، اسرائیلی-فلسطینی جریدے ’972+ میگزین‘ اور عبرانی زبان کے ادارے ’لوکل کال‘ کی اس تحقیق کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کی وسیع نگرانی کے لیے مائیکروسافٹ کے کلاؤڈ پر انحصار کر رہا ہے۔

اس انکشاف کے جواب میں، مائیکروسافٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کے لیے قانونی فرم کوونگٹن اینڈ برلنگ ایل ایل پی کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔

دیگر مائیکروسافٹ ملازمین نے بھی کمپنی کے اسرائیل سے تعلقات پر احتجاج کیا ہے۔

اپریل میں، مائیکروسافٹ کے اے آئی شعبے کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان کی تقریر اس وقت روک دی گئی جب ایک فلسطین کے حامی ملازم نے ٹیکنالوجی کمپنی کی 50ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران احتجاج کیا۔ اس احتجاجی ملازم اور ایک اور شریک ملازم کو بعد میں برطرف کر دیا گیا۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر دنیا بھر میں کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کو احتجاج کا سامنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور بھوک سے مرنے والے فلسطینی بچوں کی تصاویر عالمی غم و غصے کو ہوا دے رہی ہیں۔

سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور تقریباً 250 افراد کو قیدی بنا لیا۔

اس کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملے میں ہزاروں فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، قحط کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے اور پوری آبادی اندرونِ ملک بے گھر ہو چکی ہے۔

اسرائیل کو بین الاقوامی عدالتوں میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، جنہیں وہ مسترد کرتا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا