بلوچستان میں عسکریت پسند تیل کی سمگلنگ سے روزانہ 4 ارب روپے کماتے تھے: وزیر دفاع

خواجہ آصف نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اور سمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو انہوں حکومت مخالف علم بغاوت بلند کر دیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو اسلام آباد میں کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان حقوق نہیں کاروباری نقصان کا معاملہ ہے جہاں تیل سمگلنگ سے ’دہشت گرد‘ روزانہ چار ارب روپے کما رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں ہفتے کو بلوچستان بھر میں عسکریت پسندوں کے حملوں پر بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اور سمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو انہوں حکومت مخالف علم بغاوت بلند کر دیا۔

پاکستانی فوج نے ہفتے کو بتایا تھا کہ اس کی فورسز نے بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے مربوط حملوں کو ناکام بنا دیا اور کارروائیوں میں تین خودکش حملہ آوروں سمیت 92 عسکریت پسند مارے گئے۔ یہ کارروائیاں کوئٹہ، گوادر، مستونگ اور خاران سمیت کئی شہروں میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد کی گئی۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی سمگلنگ ہوتی ہے جن کی مالیت اربوں اور کھربوں روپے میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے ایران سے 40 روپے لیٹر تیل لے کر کراچی میں 200 روپے فی لیٹر بیچ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ صرف ایرانی سمگل تیل سے روزانہ چار ارب روپے منافع کما رہے ہیں۔

وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کی خرابی کے بہت سے عوامل ہیں، جرائم پیشہ عناصر اور سمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو انہوں حکومت مخالف علم بغاوت بلند کردیا۔‘

ہفتے کو ہونے والے حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو ہوا وہ قوم کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔ دہشت گردی کو افغانستان سے ہوا دی جارہی ہے، دہشتگردوں کے سربراہ افغانستان میں موجود ہیں، وہاں سے ان کو مدد ملتی ہے جب کہ ان دہشت گردوں کے پیچھے انڈٰیا ہے۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن بلوچستان میں انڈین حمایت یافتہ پراکسیز موجود ہیں جن میں سے 177  دہشت گرد مارے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا رہا کہ بلوچستان میں مذاکرات کیے جائیں، ماضی میں بلوچ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں یہ ایک گٹھ جوڑ بن گیا تھا اور ان جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں صوبے میں سیاسی عناصر نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان ملک کا 40 فیصد رقبہ ہے اور اتنے وسیع علاقے کو کور کرنے کے لیے بھی بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے 17 جوان اور 33 شہری بھی جانوں سے گئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں لیکن اب بلوچستان میں 26 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا نیٹ ورک ہے۔ 

خواجہ آصف کے مطابق بلوچستان کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں 100 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔

بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند شورش کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان