بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز حالیہ 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو مارنے کے قابل ہوئیں، جو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ہفتے کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملوں‘ کا آغاز کیا تھا، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا دیا گیا۔
کوئٹہ، گوادر، مستونگ اور خاران سمیت کئی شہروں میں ہونے والی ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عسکریت پسند مارے گئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 18 عام شہری جان سے گئے۔ اسی طرح کلیئرنس آپریشنز اور مسلح جھڑپوں کے دوران 15 سکیورٹی اہلکار بھی چلے بسے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔
بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند شورش کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے عسکریت پسندوں کے ہفتے کو ہونے والے حملوں کے بارے میں بتایا: ’ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ اس طرح کے کسی آپریشن کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور اسی انٹیلی جنس رپورٹس کے نتیجے میں پِری آپریشنز ایک دن پہلے شروع کر دیے گئے تھے، جس کے دوران شعبان اور پنجگور میں 40 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔‘
انہوں نے عسکریت پسندوں کی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ’ان کا خیال تھا کہ وہ پنجگور میں اس طرح کا حملہ کریں گے اور کوئٹہ کی شمال مشرقی سائیڈ، شعبان کی طرف سے حملہ کریں گے لیکن انہیں وہاں مار دیا گیا۔ اس کی وجہ سے کوئٹہ کے اُس طرف اور پنجگور میں کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘
بلوچستان کے مختلف مقامات پر مسلح افراد کے حملے: زمینی حقائق کیا ہیں؟ جانیے محمد عیسیٰ کی اس رپورٹ میں#IndependentUrdu #Balochistan #Quetta #BLA #Attack pic.twitter.com/SQsi4pZjhz
— Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026
بقول وزیراعلیٰ: ’باقی جہاں جہاں یہ واقعات ہوئے، فورس بڑی مستعد تھی، الرٹ تھی اور اس نے جوان مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے 145 عسکریت پسندوں کو مار دیا، جن کی لاشیں ہمارے پاس ہیں۔
’ہم 145 دہشت گردوں کو 40 گھنٹوں میں مارنے کے قابل ہوئے، یہ سب سے زیادہ تعداد ہے، جب سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا سامنا کر رہا ہے کہ اتنے کم عرصے میں اتنے دہشت گرد مارے گئے ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پورے سال میں 1500 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 58 ہزار سے زائد آپریشنز ہوئے۔
ہفتے کو صوبے میں پیش آنے والے واقعات میں سے گوادر کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا: ’سب سے دردناک پہلو، گوادر میں خضدار کے رہائشی خاندان کا ہے، جو زندگی کی بھیک مانگتے رہے لیکن ان دہشت گردوں نے پانچ خواتین اور آٹھ بچوں کو بے دردی سے بھون ڈالا، یہ بلوچیت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن ان کی کوئی قومیت نہیں ہے۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا: ’یہ کوئی قوم کی جنگ نہیں ہے، یہ صرف دہشت کی جنگ ہے۔ آپ نے قوم کو اس پر لگا دیا ہے کہ آزادی کی جنگ ہے اور ہم آزادی کی طرف جائیں گے۔‘
بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل
— Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026
کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1
ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا: ’بلوچ (قوم) کو انڈیا کی ایما پر ایندھن کیوں بنا رہے ہیں۔ جب پاکستان ترقی کرنے لگتا ہے تو آپ ہندوستان کی ایما پر اس طرح کے واقعات کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خطے میں پاکستان کی اہمیت کو کمزور کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بی ایل اے بندوق کی زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ بلوچ (قوم) کو ایک لاحاصل جنگ میں دھیکلنا چاہتی ہے۔ مذاکرات کی بات کر کے آپ اس جنگ کو محرومی سے جوڑ رہے ہیں اور تشدد کو ریشنلائز کر رہے ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’مذاکرات کا نتیجہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ بی ایل اے تھک جائے تو سو بسم اللہ، لیکن اگر مذاکرات کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ چاہیں کہ ہم سرنڈر کریں، تو ہم نہیں کریں گے۔ ہم ایک ہزار سال تک یہ جنگ لڑیں گے۔ یہ ہمارا ملک ہے، ہم اس کے لیے لڑیں گے۔ ہم ایک سیکنڈ کے لیے بھی سرنڈر ہونے کو تیار نہیں۔‘
بقول سرفراز بگٹی: ’اس طرح کے ہزار حملے کرلیں، ہمیں غیرمستحکم کریں گے لیکن یہ ہم سے ایک انچ زمین نہیں لے سکتے۔ پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں ہے، یہ لوگ یہ نہیں کر سکتے اور ان کے آقا بھی یہ نہیں کر سکتے۔‘