وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہو گی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔
کوئٹہ میں صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس کی صدارت کے دوران منگل کو وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے، جس سے ریاست پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ملک میں خاص طور پر صوبہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ برسوں سے موضوع بحث ہے۔ پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن ’کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز کی گذشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2011 سے اگست 2025 کے درمیان موصول ہونے والے لاپتہ افراد کے مجموعی 10,618 مقدمات میں سے 8,873 نمٹائے جا چکے ہیں، جو کل مقدمات کا 83.56 فیصد بنتا ہے۔
ان میں سے سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے، جن کی تعداد 3627 رہی۔ بلوچستان سے 2888 کیسز سامنے آئے جبکہ سندھ سے 1852 اور پنجاب سے 1761 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح اسلام آباد سے 409، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے 71 اور گلگت بلتستان سے 10 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق: ’صوبائی حکومت، کابینہ، اراکینِ اسمبلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچستان میں سکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں اور مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے۔۔۔ تاہم اگر کوئی فرد دہشت گرد تاہم تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔
’اس رجحان کے تدارک کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ (ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اس کے رولز 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔‘
اس قانون کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہوگی، ساتھ ہی ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاکہ انتہا پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔‘
اسی طرح ’زیرِ تفتیش افراد کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہوگی، طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کرنی ہوئی وہ اسی مراکز میں کرے گا۔‘
اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے بلوچستان وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں گواہان کے تحفظ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزاؤں کی شرح ایک سے دو فیصد تھی۔ نئی اصلاحات کے تحت ’فیس لیس‘ کورٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں گواہان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے گی اور جج کے سوا کسی پر شناخت واضح نہیں ہو گی، جس سے انصاف کی فراہمی مؤثر اور بروقت ہو گی اور سزاؤں کی شرح میں 50 تا 60 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے تمام فیصلوں کو ’گڈ گورننس‘ کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔