امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو انڈیا سے درآمد ہونے والی اشیا پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کرتے ہوئے محصولات کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ فیصلہ انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے پر آمادگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
گذشتہ سال جون میں امریکہ نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جبکہ اگست میں روسی تیل کی خریداری کے باعث مزید 25 فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا گیا تھا، جس کے بعد مجموعی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا امریکی مصنوعات پر درآمدی ٹیکس کم کرکے صفر تک لانے پر بھی آمادہ ہو گیا ہے اور مستقبل میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات خریدے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات یوکرین جنگ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گے، جہاں ہر ہفتے ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ٹیرف میں کمی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔
روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی بتایا کہ امریکہ نے انڈیا پر روسی تیل کی خریداری کے باعث عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد مجموعی ٹیرف میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین جنگ کے بعد انڈیا نے سستے داموں روسی تیل خریدنا شروع کیا تھا جس پر امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
Wonderful to speak with my dear friend President Trump today. Delighted that Made in India products will now have a reduced tariff of 18%. Big thanks to President Trump on behalf of the 1.4 billion people of India for this wonderful announcement.
— Narendra Modi (@narendramodi) February 2, 2026
When two large economies and the…
اگرچہ روس انڈیا کو محدود مقدار میں تیل فراہم کرتا ہے، تاہم انڈین دفاعی نظام کا بڑا حصہ روسی ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ کا الزام رہا تھا کہ یوکرین یجنگ کے بعد انڈیا نے رعایتی نرخوں پر روسی تیل خرید کر اپنی توانائی ضروریات پوری کیں اور روس کو بھی معاشی سہارا ملا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حالیہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، جس سے تقریباً دو ارب افراد مستفید ہوں گے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین کے درمیان بیشتر اشیا پر آزاد تجارت ممکن ہو سکے گی۔
امریکی مردم شماری بیورو کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی 11 ماہ میں امریکہ کو انڈیا کے ساتھ تجارت میں 53.5 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا، جس کے باعث واشنگٹن کی جانب سے تجارتی دباؤ میں اضافہ کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن طویل عرصے سے انڈیا سے اپنے لیے بہتر مارکیٹ رسائی اور کم ٹیرف کا مطالبہ کرتا رہا ہے تاہم نئی دہلی نے زراعت اور ڈیری جیسے شعبوں کو مکمل طور پر کھولنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان شعبوں سے کروڑوں کسانوں کا روزگار وابستہ ہے۔