انڈیا-یورپ تجارتی معاہدہ پاکستان کے لیے ’مدر آف آل ٹیسٹس‘

یہ محض کاغذوں پر دستخط نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی دھماکہ ہے، جس کی گونج آنے والے برسوں تک جنوبی ایشیا میں سنائی دے گی۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن (دائیں) اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ 27 جنوری، 2026 کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات سے قبل تصویر کے لیے پوز دیتے ہوئے (اے ایف پی)

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان نیا فری ٹریڈ معاہدہ طے پا گیا ہے اور عالمی میڈیا اسے ’مدر آف آل ڈیلز‘ کہہ رہا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ شاید ’مدر آف آل ٹیسٹس‘ ہے۔

یہ محض کاغذوں پر دستخط نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی دھماکہ ہے، جس کی گونج آنے والے برسوں تک جنوبی ایشیا میں سنائی دے گی۔

معاہدے کے تحت یورپی یونین اپنی 90 فیصد سے زیادہ درآمدات پر ٹیرف ختم کر دے گا۔

معاہدے پر تقریباً دو دہائی کے مذاکرات کے بعد اتفاق ہوا ہے، لیکن عمل درآمد اس وقت ہو گا جب یورپی پارلیمان سمیت یورپی یونین کے تمام ممالک اس کی منظوری دیں گے۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ پاکستان اس کے آگے کس طرح کھڑا ہو گا؟ خاموشی سے پیچھے رہ جائے گا یا اپنے قدم مضبوط کرے گا؟

یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑا، سرجیکل آلات اور کھیلوں کی اشیا پاکستانی برآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔

پاکستان کی یورپی یونین کو بھیجی جانے والی مصنوعات میں 75.8 فیصد حصہ ٹیکسٹائل اور کپڑوں کا ہے۔

پاکستان کا تجارتی شیئر تقریباً 12.4 فیصد بنتا ہے اور اس معاہدے سے سب سے بڑا خطرہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کو ہی ہے۔

انڈیا اور یورپ کے درمیان گذشتہ سال کل تجارت تقریباً 136.5 ارب ڈالر رہی، جس میں انڈیا کی برآمدات 75.8 ارب ڈالر اور درآمدات 60.6 ارب ڈالر تھیں۔

پاکستان کی ایکسپورٹ تقریباً نو ارب ڈالر ہے۔ قیمت اور حجم کے لحاظ سے انڈیا پہلے ہی پاکستان پر سبقت رکھتا ہے، ایسے میں یورپی خریداروں کا جھکاؤ انڈیا کی طرف بڑھنا فطری ہو گا۔

پاکستان کی ایک بڑی کمزوری اس وقت یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔

یہ رعایت انسانی حقوق، لیبر قوانین اور طرز حکمرانی سے مشروط ہے، لیکن جی ایس پی پلس کے باوجود نئے معاہدے کے بعد انڈین اشیا کی قیمت پاکستان سے کافی کم ہو سکتی ہیں۔

اگر پاکستان جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار نہ رکھ سکا تو ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا رخ یورپ کی بجائے امریکہ کی طرف موڑا جا سکتا ہے اور نئے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے کافی وقت درکار ہے۔

انڈیا میں صنعتوں کے لیے بجلی کا ریٹ تقریباً 6.5 سینٹ جبکہ پاکستان میں 13.5 سینٹ فی یونٹ ہے۔ انڈیا میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح تقریباً 15 سے 25 فیصد جبکہ پاکستان میں 29 فیصد ہے۔

انڈیا میں گیس کی قیمت نو ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور پاکستان میں تقریباً 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو یو ہے۔ انڈیا میں شرح سود تقریباً 5.5 اور پاکستان میں 10.5 فیصد ہے۔

 

ایپٹما چیئرمین کامران ارشد کے مطابق ’انڈیا-یورپ معاہدے کے بعد وزیراعظم نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لیے بجلی کا ریٹ چار روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن ابھی تک کنفیوژن ہے کیونکہ نوٹیفیکیشن نہیں ہوا۔

’وزیراعظم نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لیے سٹیٹ بینک سے قرض کی شرح 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔‘

ملک میں شرح سود 10.5 فیصد ہے لیکن سٹیٹ بینک پہلے بھی ایکسپورٹرز کو تین فیصد کی سبسڈی دے رہا تھا۔

اب یہ سبسڈی بڑھا کرچھ فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سستے قرضوں سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو ریلیف مل سکتا ہے۔

اپریل 2025 میں بھی وزیراعظم نے بجلی کا ریٹ سات روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک نوٹیفیکیشن نہیں ہو سکا۔

اگر ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے گیس کی قیمتیں انڈیا کے برابر کر دی جائیں تو برآمدی شعبے کے ممکنہ نقصان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

انڈیا کو جی ایس پی پلس سٹیٹس حاصل نہیں بلکہ تقریباً نو فیصد ڈیوٹی عائد ہے، اس کے باوجود وہ یورپ میں پاکستان سے زیادہ ٹیکسٹائل برآمدات کرتا ہے کیونکہ انڈین سرکار ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو تقریباً سات فیصد کے قریب سبسڈی دے دیتی ہے۔

فری ٹریڈ معاہدے کے بعد نو فیصد ڈیوٹی ختم ہو گی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انڈین سرکار اس معاہدے کے بعد سات فیصد کی سبسڈی برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر سبسڈی برقرار رہتی ہے تو ایک سال کے بعد پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لیے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

انڈیا-یورپ فری ٹریڈ معاہدے کے بعد پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھانے پر زور دیا جانے لگا ہے، اس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے کیونکہ اس وقت ملکی معیشت کا انحصار درآمدات پر کافی بڑھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان تقریباً 50 فیصد کپاس درآمد کرتا ہے۔ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے خام مال کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے ریٹ بھی بڑھ سکتے ہیں، اس لیے ڈالر ریٹ بڑھانے کا مطالبہ مناسب نہیں۔

وفاقی چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم تنویر کے مطابق: ’پچھلے ڈیڑھ سے دو سال میں 140 سے 150 بڑے ٹیکسٹائل یونٹ بند ہو گئے، زیادہ کاروباری لاگت کے سبب ایس ایم ای یونٹس (یعنی چھوٹی صنعتیں) کباڑ خانے میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں فیکٹریاں چلانا مشکل ہو رہا ہے تو انڈیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟‘

یہ معاہدہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناظر میں بھی پاکستان کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

یورپی کمپنیاں اب انڈیا کو ایک ایسی منڈی کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جہاں انہیں نہ صرف سستی لیبر دستیاب ہے بلکہ یورپ تک آزاد تجارتی رسائی بھی ممکن ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ نئی فیکٹریاں، مینوفیکچرنگ یونٹس اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پاکستان کی بجائے انڈیا کا رخ کریں گے۔

پاکستان کی برآمدات میں یورپ کی بڑی منڈی میں مقابلہ سخت ہونے جا رہا ہے۔

اگر پاکستان نے برآمدی ڈھانچے میں تبدیلی، مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن اور نئی تجارتی حکمت عملی اختیار نہ کی تو انڈیا-یورپ معاہدہ پاکستان کے لیے خطرہ ہے اور اگر انڈسٹری کی ضروریات کو بروقت پورا کر دیا گیا اور اعلانات پر عمل ہو گیا تو یہ معاہدہ آگے بڑھنے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت