انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ انڈیا اور یورپی یونین نے ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جو دنیا کی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرے گا۔
دونوں فریق امریکہ کے ساتھ غیر یقینی تعلقات کے تناظر میں متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تقریباً دو دہائیوں پر محیط وقفے وقفے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد، یہ معاہدہ انڈیا کے وسیع اور نسبتاً محفوظ مارکیٹ کو 27 رکنی یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے لیے کھولنے کی راہ ہموار کرے گا۔
یورپی یونین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
مودی نے کہا ’کل یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان ایک بڑا معاہدہ طے پایا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر کے لوگ اسے تمام معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ انڈیا کے 1.4 ارب عوام اور یورپ کے لاکھوں لوگوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کرے گا۔‘
مودی کے مطابق یہ معاہدہ عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 25 فیصد اور عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔
امکان ہے کہ مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن منگل کے روز نئی دہلی میں ہونے والے انڈیا یورپی یونین سربراہ اجلاس کے دوران اس معاہدے کی تفصیلات کے ساتھ مشترکہ اعلان کریں گے۔
مالی سال مارچ 2025 تک انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین نے چند روز قبل جنوبی امریکی بلاک مرکوسور کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا، جبکہ گذشتہ سال انڈونیشیا، میکسیکو اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ بھی معاہدے طے پائے تھے۔
اسی عرصے میں نئی دہلی نے برطانیہ، نیوزی لینڈ اور عمان کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے حتمی شکل دی۔
ان معاہدوں کا یہ سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش اور یورپی ممالک پر محصولات کی دھمکیوں نے مغربی اتحادیوں کے دیرینہ تعلقات کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ انڈیا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکے ہیں جبکہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ گزشتہ سال دونوں حکومتوں کے درمیان رابطے میں خرابی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔
اس معاملے سے آگاہ ایک انڈین سرکاری عہدیدار کہا کہ انڈیا یورپی یونین معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ کے بعد ہوں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایک سال کے اندر نافذ کر دیا جائے گا۔‘