انڈیا کی تجارتی کامیابی پاکستان کے لیے ’لمحہ فکریہ‘

انڈیا عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے جبکہ پاکستان محض رعایتوں کا متلاشی ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ معاشی بقا بیرونی ’لائف لائنز‘ میں نہیں، بلکہ اصلاحات اور خود انحصاری میں ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی 27 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈر لائن (دائیں) اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا (بائیں) کے ساتھ (اے ایف پی)

یورپی یونین کے ساتھ انڈیا کے حالیہ تجارتی معاہدے کو بجا طور پر ایک سفارتی اور معاشی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر جشن منایا جا رہا ہے۔

اربوں یورو کے سامان پر ٹیرف کم کر کے یہ معاہدہ چین سے ہٹ کر سپلائی چینز کو متنوع بنانے کی یورپی کوششوں کو تقویت دیتا ہے اور عالمی تجارتی نظام میں بڑا کردار ادا کرنے کے لیے انڈیا کی تیاری کا اشارہ دیتا ہے۔

لیکن برسلز اور نئی دہلی کے فوری فوائد سے ہٹ کر یہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور خاص طور پر پاکستان کے لیے وسیع اثرات کا حامل ہے۔ یہ خطے کے ان ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو نمایاں کرتا ہے جو خود کو منقسم عالمی معیشت کے مطابق ڈھال رہے ہیں اور وہ جو تجارتی انحصار اور پالیسی سازی میں ہچکچاہٹ کے پرانے ماڈلز میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انڈیا طویل عرصے سے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے حوالے سے محتاط رہا ہے، اس خدشے کے پیش نظر کہ گھریلو پیداوار درآمدات کے سیلاب میں بہہ جائے گی۔ 2019 میں ’علاقائی جامع معاشی شراکت داری‘ کے معاہدے (RCEP) سے اس کی علیحدگی اسی اضطراب کی عکاس تھی۔ یورپی معاہدہ اعتماد میں تبدیلی کا پتہ دیتا ہے۔

نئی دہلی اب اس بات پر قائل نظر آتا ہے کہ اس کا مینوفیکچرنگ بیس، سروسز ایکسپورٹس اور ریگولیٹری ادارے مقابلہ کرنے کے لیے کافی مضبوط ہیں اور یہ کہ غیر موثر شعبوں کے تحفظ سے زیادہ اہم ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ سٹریٹیجک ہم آہنگی ہے۔

یہ اعتماد حادثاتی نہیں ہے۔ یہ انسانی سرمائے، فزیکل انفراسٹرکچر اور غیر ملکی سرمائے کے لیے بتدریج کھلنے والی پالیسیوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے تعمیر کیا گیا ہے۔ نتیجے کے طور پر انڈیا اب محض منڈیوں تک رسائی کا خواہاں نہیں بلکہ وہ خود کو معیارات، سپلائی چینز اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر اثر انداز ہونے کے لیے پوزیشن میں لا رہا ہے۔ آج کے تجارتی منظر نامے میں یہ فرق فیصلہ کن ہے۔

انڈیا کے پڑوسیوں کے لیے اس کے نتائج غیر مساوی ہیں۔ جنوبی ایشیا کی چھوٹی معیشتیں بالواسطہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں اگر وہ یورپی مانگ پوری کرنے والی ’انڈیا پر مرکوز ویلیو چینز‘ کا حصہ بن سکیں۔ لیکن ایسے ثمرات خودکار نہیں ہوتے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے سب سے کم معاشی طور پر مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔ سیاسی عدم اعتماد، کمزور لاجسٹکس اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا گھنا جال خطے کی باہمی تجارت کو دبائے ہوئے ہے۔

دانستہ ہم آہنگی کے بغیر انڈیا کا بڑھتا ہوا عالمی انضمام اپنے پڑوسیوں کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے انہیں بائی پاس کرنے کا امکان رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اس خطرے کی سب سے واضح مثال ہے۔ اسلام آباد کو فی الحال ’جی ایس پی پلس‘ سکیم کے تحت یورپی یونین تک ترجیحی رسائی حاصل ہے، جو لیبر حقوق، گورننس اور ماحولیاتی معیارات پر بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کے بدلے بہت سی برآمدات کو ڈیوٹی فری داخلے کی اجازت دیتی ہے۔ اس رسائی نے ٹیکسٹائل کی برآمدات کو سہارا دیا اور زرمبادلہ کو کسی حد تک استحکام فراہم کیا لیکن یورپی یونین کے ساتھ انڈیا کا معاہدہ اس فائدے کی نسبتی قدر کو کم کر دیتا ہے۔

پاکستان کو خطرہ جی ایس پی پلس کا درجہ اچانک ختم ہونے سے نہیں بلکہ اس کی بتدریج افادیت ختم ہونے سے ہے۔ تجارتی ترجیحات صرف ایک حد تک ہی نااہلی کا ازالہ کر سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت اور قابلِ اعتماد ہونا ہی بقا کا فیصلہ کرتا ہے۔ گہرا مسئلہ ڈھانچہ جاتی ہے۔ پاکستان کا برآمدی بیس محدود ہے جو کم مالیت والی ٹیکسٹائل اور بنیادی اجناس پر بہت زیادہ مرکوز ہے۔

پیداواری صلاحیت میں اضافہ کمزور رہا ہے۔ توانائی کی زیادہ لاگت، غیر مستقل ریگولیشن اور تجارت میں سہولت کا فقدان مسابقت کو ختم کر دیتا ہے۔ جی ایس پی پلس نے مارکیٹ تک رسائی تو دی لیکن تبدیلی نہیں۔ اکثر اسے اصلاحات کی طرف پل کے بجائے اصلاحات کے متبادل کے طور پر سمجھا گیا۔

انڈیا کی تجارتی حکمت عملی ایک سبق آموز تضاد پیش کرتی ہے۔ وہاں رسائی کو صلاحیت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اگر پاکستان معاشی طور پر متعلقہ رہنا چاہتا ہے تو اسے یہ سبق سیکھنا ہو گا۔ کام ترجیحات کا دفاع کرنے سے زیادہ اپنے برآمدی ایکو سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا ہے یعنی ہنرمندی میں سرمایہ کاری، بین الاقوامی معیارات کی قابلِ یقین پاسداری اور برآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے والے ٹیرف اور ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کرنا۔

اس کے اثرات خلیجی خطے کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی دہائیوں سے خلیج ایک معاشی سیفٹی والو رہا ہے جس نے لیبر کو کھپایا، ترسیلاتِ زر فراہم کیں اور توانائی کی سپلائی جاری رکھی۔ حال ہی میں یہ سرمایہ کاری اور ترجیحی تجارتی انتظامات کے ذریعہ کے طور پر ابھرا ہے۔

یہ تعلقات مواقع پیش کرتے ہیں لیکن ان میں خطرات بھی ہیں۔ پاکستان مسلسل تجارتی خسارے کا شکار ہے اور برآمدات سے کہیں زیادہ درآمدات کرتا ہے۔ مسابقتی برآمدی صلاحیت کے بغیر مزید تجارتی لبرلائزیشن کمزوری کو کم کرنے کے بجائے انحصار کو گہرا کر سکتی ہے۔ ترجیحی رسائی سپلائی سائیڈ کی تیاری کا متبادل نہیں ہے۔

اس کی ایک وسیع علاقائی قیمت بھی ہے۔ جیسے جیسے انڈیا یورپ اور دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات استوار کر رہا ہے، جنوبی ایشیا کے مزید منقسم ہونے کا خطرہ ہے۔ علاقائی انضمام کا وعدہ، جس کا ذکر تو طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے لیکن جس پر عمل شاذ و نادر ہی ہوا، اب تیزی سے کھوکھلا دکھائی دے رہا ہے۔ تقسیم کا مطلب ہے پیمانے کی معیشت (Economies of scale) کے فوائد کا ضیاع، سودے بازی کی کمزور طاقت اور عالمی تجارتی مذاکرات میں اثر و رسوخ کی کمی۔

آخر میں انڈیا کا یورپی معاہدہ ایک سادہ مگر تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے: جدید تجارت اب بنیادی طور پر ٹیرف کے بارے میں نہیں رہی۔ یہ اداروں، ساکھ اور بدلتے ہوئے قوانین کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ وہ ممالک جو ان بنیادوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ ترقی کو تیز کرنے کے لیے کھلے پن کا استعمال کر سکتے ہیں۔ جو ایسا نہیں کرتے وہ یہ پائیں گے کہ ترسیلاتِ زر، ترجیحات اور کبھی کبھار آنے والا بیرونی سرمایہ ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔

پاکستان کے لیے انتخاب کا راستہ سکڑ رہا ہے۔ وہ بات چیت کے ذریعے حاصل کی گئی رعایتوں اور بیرونی سہاروں (لائف لائنز) پر انحصار جاری رکھ سکتا ہے یا پھر وہ ان گھریلو رکاوٹوں کا مقابلہ کر سکتا ہے جو عالمی معیشت میں اس کی شرکت کو محدود کرتی ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں اقتصادی اتحاد تیزی سے سیاسی اثر و رسوخ کی تشکیل کرتے ہیں، جمود کا شکار رہنا غیر جانبداری نہیں۔ یہ ایک فیصلہ ہے اور شاذ و نادر ہی کوئی اچھا فیصلہ ہے۔

(بشکریہ عرب نیوز)

جاوید حسن پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر منافع بخش اور غیر منافع بخش دونوں شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ وہ فوڈان یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر میں سینیئر وزٹنگ فیلو تھے۔ ٹوئٹر: javedhassan@)

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی