کسٹم ویلیو میں کمی: کیا موبائل فون پر پی ٹی اے ٹیکس کم ہو گا؟

ایف بی آر کے مطابق تقریباً ڈیڑھ برس بعد استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹم ویلیو میں کمی کر دی گئی ہے۔

سات مئی 2010 کو لاہور کی الیکٹرونکس مارکیٹ کی ایک دکان میں رکھے موبائل فون (اے ایف پی)

پاکستان میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز نے مختلف برانڈز کے استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمدی کسٹم ویلیو میں کمی کا اعلان کیا ہے جس کا تذکرہ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے کہ اب پی ٹی اے ٹیکس میں بھی کمی کی جائے گی۔

کسٹم حکام کی جانب سے ایپل اور سام سنگ سمیت مختلف موبائل فونز کی درآمد پر ایک خاص قیمت متعین کی جاتی ہے اور اسی قیمت کے حساب سے پاکستان میں اس موبائل فون پر مختلف ٹیکس لیے جاتے ہیں۔

اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درآمد شدہ پرانے یا استعمال شدہ موبائل فون کی قیمت 10 ہزار روپے ہے، تو پاکستان درآمد کرنے پر یہ قیمت 10 ہزار نہیں ہوگی بلکہ اس کی قیمت کا تعین کسٹم حکام کریں گے اور یہ 10 ہزار سے کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی، جس کو ’ویلیویشن قیمت‘ کہا جاتا ہے۔

ملک میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر 16 جنوری کو جاری ہونے والے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایپل، سام سنگ اور دیگر کمپنیوں کے استعمال شدہ موبائل فونز کی ویلیویشن میں تبدیلی نہیں کی گئی تھی جو سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس کے بعد اب کی گئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق بعض موبائل ماڈلز ’اینڈ آف لائف‘ یعنی وہ ماڈلز جو کمپنی کی طرف سے مزید نہیں بنائے جاتے اور نہ کمپنی کی جانب سے بیچے جاتے ہیں، کی قیمتوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔

مراسلے کے مطابق اسی وجہ سے ایف بی آر کی جانب سے مارکیٹ سروے کر کے مختلف ماڈلز کے موبائل فونز کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا اور اسی کی بنیاد پر نئی کسٹم ویلیو جاری کی گئی ہے۔

 یہ ایسے موبائل فون ہوں گے جو بغیر کسی ایکسیسریز اور پیکنگ کے ہوں گے اور درآمد سے کم از کم چھ مہینے پہلے ایکٹیو ہونے چاہییں اور برآمد کنندہ کو چھ مہینے پہلے کی ایکٹیویشن کا ثبوت کسٹم حکام کو دینا ہوگا۔

قبل ازیں رواں ماہ حکومت پاکستان نے اس ہفتے موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 33-2026 کے تحت پانچ سال سے پرانے استعمال شدہ سمارٹ فونز کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

اس پابندی کے بعد ملک بھر میں وہ خریدار اور دکان دار زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں جو عالمی معیار کے استعمال شدہ سمارٹ فونز پر انحصار کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے مطابق یہ پالیسی انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ نے مقامی موبائل فون ساز کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کی، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا، مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنا اور روزگار بڑھانا ہے۔

کون سا موبائل کتنا سستا ہو گیا؟

اس سے پہلے کسٹم حکام کی جانب سے استعمال شدہ موبائل فون کی کسٹم ویلیو 2024 میں مقرر کی گئی تھی جس میں اس وقت ایپل کے 13 پرو میکس اور اس سے نیچے کے ماڈلز شامل تھے، جب کہ 14 اور 15 ماڈل کے لیے کسٹم ویلیو 2023 میں جاری کی گئی تھی جب وہ ماڈلز مارکیٹ میں نئے آئے تھے۔

اسی طرح اس وقت سام سنگ گلیکسی ایس 23 اور اس سے نیچے کے ماڈلز رولنگ میں شامل تھے لیکن اب نئی رولنگ آنے کے بعد وہ ویلیو ختم ہوگئی۔

نئی رولنگ کے مطابق آئی فون 15 پرو میکس کی ویلیو 460 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار روپے)، 15 پرو کی ویلیو 390 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ نو ہزار)، 15 پلس اور سادہ 15 کی ویلیو تقریباً 89 ہزار روپے ہوگی۔

اسی طرح استعمال شدہ آئی فون 14 پرو میکس کی ویلیو تقریباً ایک لاکھ، 14 پرو کی 89 ہزار، اور سادہ 14 کی ویلیو 58 ہزار ہوگی۔

اسی طرح استعمال شدہ 13 پرو میکس کی ویلیو 82 ہزار تک، 13 پرو کی 63 ہزار، اور سادہ 13 کی ویلیو 47 ہزار تک ہوگی۔

آئی فون 12 پرو میکس کی ویلیو 60 ہزار، 12 پرو کی 43 ہزار، اور سادہ 12 کی ویلیو 33 ہزار مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح 11 پرو میکس کی ویلیو 40 ہزار، 11 پرو کی 35 ہزار اور سادہ 11 ماڈل کی ویلیو 26 ہزار مقرر کی گئی ہے جبکہ ایکس ایس میکس، ایکس ایس اور ایکس آر کی ویلیو بالترتیب 26 ہزار، 18 ہزار اور 21 ہزار مقرر کی گئی ہے۔

آئی فون کے دیگر پرانے ماڈلز کی ویلیو 20 ہزار سے کم مقرر کی گئی ہے جس میں 8 پلس، 7 پلس اور ایس ای ماڈلز بھی شامل ہیں۔

سام سنگ کی بات کی جائے تو ایف بی آر رولنگ کے مطابق سام سنگ گلیکسی ایس 23 الٹرا کی ویلیو 71 ہزار، ایس 23 پلس اور ایس 22 الٹرا کی 45 ہزار، اور ایس 22 پلس کی ویلیو 21 ہزار مقرر کی گئی ہے۔

سام سنگ گلیکسی نوٹ 10 الٹرا کی ویلیو 32 ہزار، گوگل پکسل نائن پرو ایکس ایل کی قیمت 73 ہزار، نائن پرو کی 54 ہزار، اور سادہ نائن کی ویلیو 42 ہزار مقرر کی گئی ہے۔

کیا کسٹم ویلیو بدلنے سے پی ٹی اے ٹیکس میں کمی ہوگی؟

ایف بی آر کی جانب سے پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکس لیا جاتا ہے اور پاکستان ٹیلی کمیو نی کیشن کے پاس ٹیکس ادا کرنے کے بعد موبائل ایکٹیو ہو جاتا ہے اور یہ ٹیکس موبائل کی ویلیو کے حساب سے لیا جاتا ہے۔

یہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس جسے عام زبان میں اس کو پی ٹی اے ٹیکس کہا جاتا ہے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر الگ الگ ہے۔ یعنی اگر کوئی بیرون ملک سے آیا ہے تو قابل استعمال ویزے پر اپنا موبائل پاسپورٹ پر رجسٹر کر کے ٹیکس ادا کر سکتا ہے۔

پاسپورٹ پر ٹیکس، شناختی کارڈ پر رجسٹریشن کرنے سے قدرے کم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف بی آر کے 2022 کے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس کے حوالے سے جاری مراسلے میں پاسپورٹ پر 500 ڈالر سے زائد کی ویلیو کے موبائل پر 27 ہزار 600 روپے فکسڈ ٹیکس اور اس کے ساتھ موبائل کی ویلیو کا 17 فیصد سیلز ٹیکس شامل ہے۔

یعنی اگر کسی موبائل کی ویلیو 500 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار) ہے تو اس پر 27 ہزار 600 (جو شناختی کارڈ پر 37 ہزار ہے) جمع ویلیو پر 17 فیصد سیلز ٹیکس جو تقریباً 23 ہزار 800 بنتا ہے، لاگو ہوگا؛ جبکہ 350 ڈالر سے 500 ڈالر تک کی ویلیو کے موبائل پر 17 ہزار 800 (جو شناختی کارڈ پر 23 ہزار 420 ہے) فکسڈ ٹیکس اور اسی ویلیو پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔

اب جب پرانے استعمال شدہ موبائل فون کی ویلیو میں کمی کی گئی ہے تو اس سے پی ٹی اے ٹیکس کم ہوگا۔ اس حوالے سے پشاور کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدےدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس سے پی ٹی اے ٹیکس میں کمی ہوگی۔

تاہم عہدےدار کے مطابق یہ ویلیو پرانے استعمال شدہ موبائل پر ہے اور نئے موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔

کسٹمز عہدیدار نے بتایا: ’یہ موبائل ماڈل بہت پرانے ہو گئے تھے اور درآمد کرنے والوں کو وہی پرانی ویلیو کے حساب سے ٹیکس دینا پڑتا تھا، تو اب اس کو کم کر دیا گیا ہے جس سے پی ٹی اے والا ٹیکس بھی کم ہوجائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت