’یہاں سب سے زیادہ طلب آئی فون، ون پلس اور سام سنگ کی ہے۔ مقامی طور پر بننے والے فون نہ معیار میں پورے اترتے ہیں اور نہ صارف انہیں پسند کرتے ہیں۔ اگر استعمال شدہ فونز کی درآمد پر پابندی لگ گئی تو مارکیٹ بیٹھ جائے گی۔‘
حکومت پاکستان نے اس ہفتے موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 33-2026 کے تحت پانچ سال سے پرانے استعمال شدہ سمارٹ فونز کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔
اس پابندی کے بعد ملک بھر میں وہ خریدار اور دکان دار زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں جو عالمی معیار کے استعمال شدہ سمارٹ فونز پر انحصار کرتے ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے مطابق یہ پالیسی انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ نے مقامی موبائل فون ساز کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کی، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا، مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنا اور روزگار بڑھانا ہے۔
ہارون اختر کے مطابق انڈیا، ویتنام اور بنگلادیش کے ماڈلز کو سامنے رکھ کر ایسی پالیسی تشکیل دی گئی ہے جو پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ مضبوط کر سکے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور سالانہ تقریباً ساڑھے تین کروڑ فون ملک میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں، جب کہ درآمد شدہ فونز کی تعداد 17 لاکھ کے قریب رہ گئی ہے۔
یوں ملکی ضرورت کا 95 فیصد حصہ مقامی طور پر تیار شدہ ڈیوائسز سے پورا ہو رہا ہے، لیکن مارکیٹ میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ مقامی ڈیوائسز کم قیمت ضرور ہیں تاہم معیار کے اعتبار سے عالمی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔
لاہور میں موبائل فون کا کاروبار کرنے والے محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر بننے والے فونز پر پی ٹی اے ٹیکس بہت زیادہ ہے اس لیے وہ غیر معیاری ہونے کے ساتھ مہنگے ہوتے ہیں۔
’اسی قیمت میں لوگ درآمد ہونے والے نان پی ٹی اے آئی فونز کو ترجیح دیتے ہیں۔
’خاص طور پر یوٹیوب، فیشن فوٹوگرافی یا سوشل میڈیا پر کام کرنے والے آئی فون، ون پلس یا سام سنگ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان فونز کی درآمد پر پابندی سے نہ صرف شہریوں کو مشکلات ہوں گی بلکہ کاروبار بھی تباہ ہو جائے گا۔
ایک طالب علم کاشان احمد، جو آئی فون خریدنے آئے تھے، کہتے ہیں کہ اگر استعمال شدہ آئی فونز کی درآمد بند ہوئی تو یہ فون بہت مہنگے ہو جائیں گے اور عام صارف کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گے۔
ان کے مطابق ’آئی فون کا کیمرہ اور ہارڈ ویئر ابھی بھی سب سے بہتر ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں۔‘
خریدار محمد عبید کا خیال ہے کہ حکومتی فیصلہ اگرچہ درآمدی بل کم کرنے کے لیے درست ہو سکتا ہے، لیکن کم آمدنی والے صارفین کے لیے مشکل پیدا کرے گا کیونکہ وہی سستے استعمال شدہ فون ان کے لیے واحد قابلِ برداشت آپشن ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز کا معیار بہتر بنائے تاکہ صارفین عالمی برانڈز کا متبادل قبول کرنے پر تیار ہوں۔
دکان دار اور صارفین دونوں سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب تک پاکستان میں اعلیٰ معیار کے سمارٹ فونز تیار نہیں ہوتے، تب تک عالمی برانڈز پر پابندی صرف مارکیٹ کو غیر مستحکم کرے گی اور خریداروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔