اب تک 274 افغان طالبان اہلکار، 12 پاکستانی اہلکار جان سے گئے: فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے بتایا کے ’غضب للحق آپریشن میں اب تک افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے جا چکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں۔‘

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو بتایا ہے کہ افغانستان سے جھڑپوں کے دوران اب تک 274 افغان طالبان اہلکار اور 12 پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’آپریشن غضب للحق میں 53 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے ’بلااشتعال حملے کا آپریشن غضب للحق کے تحت فوری اور موثر جواب دیا۔‘ اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اب دما دم مست قلندر ہو گا۔‘

اس حوالے سے جمعے کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے صحافیوں کو تازہ تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس آپریشن میں اب تک پاکستان کے 12 فوجی اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ 27 زخمی اور ایک فوجی لاپتہ ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے بتایا کے ’غضب للحق آپریشن میں اب تک افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے جا چکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’افغان طالبان رجیم کی 73 پوسٹیں مکمل تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 18 پوسٹیں ہمارے کنٹرول میں ہیں۔

’اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق طالبان فورسز کے 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں وغیرہ تباہ کی جا چکی ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

’افغانستان بدستور پرامن حل کا خواہاں ہے‘

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی جمعے کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کی موجودہ حکومت شروع دن سے ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ مثبت اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی خواہاں رہی ہے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں جاری شورش ایک داخلی معاملہ ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور سرحدی علاقوں میں بمباری کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان نے ہر بار کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ ماضی میں ہونے والی جنگ بندی بھی پاکستان کی جانب سے توڑی گئی۔‘

’افغانستان نے صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی۔‘

تاہم آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال کا حل مذاکرات اور باہمی سمجھوتے میں ہے اور افغانستان بدستور پرامن حل کا خواہاں ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان