افغانستان سے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: پاکستان

عطا تارڑ نے کہا کہ ’فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی ہے۔‘

افغانستان کے ساتھ جمعرات کی شب سے جاری سرحدی جھڑپوں کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کو بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں نے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی، جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے جمعرات کو کیے گئے بلااشتعال حملے کا ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت فوری اور موثر جواب دیا، جس میں حکام کے مطابق اب تک 133 کے قریب افغان اہلکار مارے گئے جبکہ دو پاکستانی فوجی جان سے گئے ہیں۔ ان جھڑپوں کو وزیر دفاع  خواجہ آصف نے ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے۔

اسی دوران جمعے کی دوپہر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی ہے۔ اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’ان واقعات نے ایک بار پھر سے افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان براہ راست روابط کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘

’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

 

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے منسلک صحافیوں نے بتایا کہ طورخم سرحد کے قریب جمعے کو دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کو علی الصبح ایکس پر اپنی پوسٹ میں ’افغان طالبان رجیم کے 133 کارندوں‘ کی اموات اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ’کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس میں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے۔‘

عطا تارڑ نے مزید بتایا گیا کہ ’افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا۔‘ اسی طرح ’افغان طالبان رجیم کے دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیے گئے جبکہ پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی جاری ہیں۔‘

افغانستان میں طالبان حکومت کے مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ننگرہار صوبے میں عمری نامی پناہ گزین کیمپ پر گذشتہ رات کیے گئے مبینہ حملوں میں کم از کم نو افراد زخمی ہو گئے، جس میں پاکستان سے واپس آنے والے پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔

ننگرہار محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر امین اللہ شریف نے بتایا کہ ’رات کے تقریباً تین بج رہے ہیں۔ نو زخمی افراد کو ننگرہار ریجنل سپیشلائزیشن ہسپتال لایا گیا ہے۔ ان میں دو مرد ہیں اور باقی خواتین ہیں۔ یہ سب (پاکستان سے) واپس لوٹنے والے ہیں۔

’وہ اس وقت زخمی ہوئے جب عمری کیمپ پر مارٹر گولہ گرا۔ زخمیوں میں سے دو کا آپریشن کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کی حالت تشویشن اک ہے اور اس کا آپریشن ابھی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرمائے۔ دیگر زخمی واپس آنے والوں کو بھی علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ایک متاثرہ افغان سمیع اللہ نے زخمیوں میں سے ایک شخص کا تعارف کرواتے ہوئے کہاں کہ ’یہ عبدالباقی ہے۔ وہ حال ہی میں ملک واپس آیا تھا اور عمری کیمپ میں رہ رہا تھا۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے مارٹر گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ اور اس کی ایک بیٹی اس حملے میں زخمی ہو گئے۔‘

ایک زخمی افغان کے رشتہ دار شیر زمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کیا قصور تھا؟ ہم تو ابھی تھکے ہارے یہاں پہنچے تھے، وہاں [پاکستان میں] انہوں نے ہمیں رہنے نہیں دیا، اور یہاں آ کر ہم پر ایسا حملہ کر دیا۔ ہم آخر کیا کریں؟‘

دوسری جانب رات گئے طالبان کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ’اسلامی امارت کے سپریم لیڈر کے حکم پر آدھی رات کو‘ لڑائی روک دی۔

طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں 55 پاکستانی فوجی اور ان کی طرف سے طالبان کے آٹھ اہلکار مارے گئے، تاہم پاکستان نے اس جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ ترین کشیدہ صورت حال اور جھڑپوں پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔

وولکر ترک نے سرحدی جھڑپوں اور مہلک فضائی حملوں کے بعد افغانستان اور پاکستان سے مسائل کے حل کے لیے باہمی بات چیت کی اپیل کی ہے۔

د

اس سے قبل افغانستان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایکس پر پشتو اور اردو میں اپنے سلسلہ وار بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‘

تاہم وزیراعظم پاکستان کے غیرملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے افغان ترجمان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کوئی بھی پاکستانی چوکی نہ تو قبضے میں لی گئی اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم طالبان جارحیت کے جواب میں پاکستان نے سرحد پار بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب تک، کوئی پاکستانی فوجی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی پاکستانی فوجی شہید ہوا ہے۔ اب تک پاکستان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے دعوے صرف انڈیا کے افغانستان میں موجود ایجنٹس کے خیالات سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

’کھلی جنگ‘

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اب دما دم مست قلندر ھو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقے میں امن پر توجہ مرکوز کریں گے لیکن طالبان نے افغانستان کو انڈیا کی کالونی بنا دیا۔

بقول وزیر دفاع: ’ساری دنیا کے دہشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ۔ خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے۔‘

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھر پور سفارت کاری کی۔ مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔‘

 

وزیراعظم شہباز شریف کے غیرملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی کے مطابق 133 افغان طالبان کے مارے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’کابل، پکتیا اور قندھار میں فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں میں مزید جانی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔‘

ترجمان نے مزید بتایا کہ 27 افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دی گئی ہیں اور نو پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو گولہ بارود کے ذخائر، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور اسّی سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جارحیت کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی جاری ہے۔

 

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کی شب تصدیق کی کہ پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔ افغان دارالحکومت میں رات گئے زوردار دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

کابل کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس نے آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا: ’پہلے دو ہم سے بہت دور تھے، لیکن آخری ہمارے اتنے قریب تھا کہ اس نے مکان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر دھماکے کے بعد ہم جنگی طیاروں کی آوازیں سن سکتے تھے۔‘

ذمہ دار عناصر کو نہیں چھوڑا جائے گا: صدر مملکت

پاکستانی صدر آصف زرداری نے افغان طالبان کی حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے سفارتی ذرائع سے اور دوست ممالک کی مدد سے اس ’مجرم گروہ‘ کو ’صحیح راستے‘ پر لانے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایوان صدارت سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر آصف زرداری نے افغان طالبان کی حکومت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ذریعے گذشتہ پانچ سالوں سے پاکستان کے خلاف ’دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستانی صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ خونریزی جاری رہی تو کسی بھی ذمہ دار عناصر کو ان کے ملک کی پہنچ سے باہر نہیں چھوڑا جائے گا۔

ادھر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل کے ساتھ ساتھ قندھار اور پکتیا صوبوں میں پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا: ’افغان ہر حال میں مکمل اتحاد کے ساتھ اپنے پیارے ملک کا دفاع کریں گے اور ہمت کے ساتھ طاقت کا جواب دیں گے۔‘

افغان بیانات کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان-افغانستان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کر کے سنگین غلطی کی، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔‘

باجوڑ پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ سرحد پر کشیدگی کے دوران ایک خاتون جان جان سے گئیں اور چار افراد زخمی ہوئے، جنہیں خار ہسپتال منتقل کیا گیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

 

اس سے قبل پاکستان نے 21 فروری کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان نے یہ حملے حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اموات کے ردعمل میں کیے تھے۔

جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس اکتوبر سے حالات کشیدہ ہیں، جس میں کمی کے لیے قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم تجارت اور آمدورفت کے کے لیے دونوں ملکوں کی تجارتی گزرگاہیں اس وقت سے بند ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان