پاکستان کے دفتر خارجہ نے جعمرات کو بریفنگ میں بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ‘ بنانے کا مقصد پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
پاکستان نے 21 فروری کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔ افغان طالبان کی حکومت نے اسلام آباد پر شہریوں کو نشانہ بنانے اور یہاں تک کہ داعش کے عسکریت پسندوں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کرنے کا الزام لگایا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’دہشت گردوں کے کیمپوں اور ان کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منتخب طور پر نشانہ بنایا گیا اور اس کا مقصد پاکستان کے خلاف ممکنہ فوری حملوں کو روکنا تھا۔‘
طاہر اندرابی نے کہا ’ہم نے کسی بھی شہری جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتہائی احتیاط برتی ہے۔‘
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جوابی کاروائی سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فطری طور پر یہ ایک فوجی جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور میں مزید وضاحت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس کی شرمناک حرکت کا جواب ملنا چاہیے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر افغان طالبان کے عہدے داران کی جانب سے دیے گئے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ (دھمکی آمیز) بیانات حوصلہ شکن ہیں۔ پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انتہائی درست حملے کیے گئے اور ہم افغانستان سے اٹھنے والے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے کہا ’ہم اپنے دفاع کے حق کے تحت فوری اور بھرپور جواب دیں گے۔ یہ پیغام تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے واضح طور پر دیا جا چکا ہے۔ ہم افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے جو بلا روک ٹوک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جب سے افغان طالبان ’اقتدار میں آئے ہیں، خاص طور پر گزشتہ 12 سے 18 ماہ کے دوران، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہماری اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگریزی کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’فطری طور پر یہ ایک فوجی جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور میں مزید وضاحت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس کی شرمناک حرکت کا جواب ملنا چاہیے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر عسکریت پسندوں کے بجائے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں 22 افراد پر مشتمل ایک خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 17 افراد جان سے گئے اور پانچ زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پکتیکا میں بچوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک بچہ زخمی ہوا اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا، ’وہاں کوئی مسلح افراد نہیں تھے۔ صرف شہری زخمی ہوئے اور جان سے گئے، اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں اور مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کام کرنے والے داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا، جن دعوؤں کی کابل تردید کرتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروپوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، 'بدقسمتی سے، جب بھی پاکستان کے اندر حملے ہوتے ہیں، وہ فوری طور پر بغیر ثبوت کے انہیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔'
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ٹی ٹی پی، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، افغانستان میں موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی خود پاکستان کے اندر بڑے علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں؛ انہیں افغان سرزمین کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اول تو ہم انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت ہی نہیں دیں گے۔'
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کی تائید میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
’ثبوت یا شواہد پیش کیے بغیر، وہ محض دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں، اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابل معافی سمجھتے ہیں۔‘
پاکستان پر الزامات
ذبیح اللہ مجاہد نے مزید آگے بڑھتے ہوئے، پاکستان پر داعش کے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں پناہ دینے کا الزام لگایا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’داعش کو دبانے کی بجائے، پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔
’کچھ معاملات میں، انہوں نے انہیں افغانستان کے خلاف استعمال کیا ہے اور انہیں کارروائیاں اور دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے بھیجا ہے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے اسلام آباد پر خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: 'ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان کے اندر ایک خاص فوجی حلقے کو خطے کو غیر مستحکم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ طالبان حکام نے افغانستان کے اندر داعش کے خلاف وسیع کارروائیاں کی ہیں۔
’ہم نے کابل اور دیگر صوبوں میں داعش کے خلاف ایک بہت سنجیدہ مہم چلائی۔ ہم نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ افغانستان میں ان کی کوئی طبعی موجودگی نہیں ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2021 میں امریکی قیادت میں افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔
پاکستان افغانستان پر سرحد پار حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتا ہے، جب کہ طالبان حکام ایسے گروپوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں اور اسلام آباد کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
دونوں جانب درجنوں افراد کی موت کا سبب بننے والی جان لیوا جھڑپوں کے بعد، تجارت اور سفر کے لیے اہم سرحدی گزرگاہیں مہینوں سے بڑی حد تک بند ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ناکام سفارتی کوششوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ’مسلسل ایسے بہانے بنائے جو ناکامی کا سبب بنے۔‘
ان کے بقول: ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں امن کے حق میں نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے مقاصد اسے غیر مستحکم کرنا ہیں۔ یہ ایک بیرونی مشن ہے جو بڑی طاقتوں نے انہیں عدم تحفظ پیدا کرنے اور تنازعے کو ہوا دینے کے لیے سونپا ہے۔'
انہوں نے خاص طور پر علاقائی اور مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد پر اپنا راستہ بدلنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
