انڈیا اور افغانستان پاکستان کے خلاف ’ایک ہی صفحے‘ پر: وزیر دفاع خواجہ آصف

پاکستانی وزیر دفاع نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان افغانستان پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر نئے حملے کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘

20 فروری، 2018 کی اس تصویر میں پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف انڈیا اور افغانستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔

انہوں نے یہ بات بدھ کو فرانسیسی ٹی وی فرانس 24 کو انٹرویو میں کہی۔ 

پاکستانی حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ ملک میں حالیہ عسکریت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور جنگجوؤں کو انڈیا کی بھی پشت پناہی حاصل ہے تاہم افغانستان اور انڈیا کی جانب اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

خواجہ آصف نے انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے ملک میں عسکریت پسندوں کے حملے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ مل کر انڈیا کی طرف سے شروع کی گئی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ  پاکستان افغانستان پر نئے حملے کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے پاکستان میں سکیورٹی صورت حال اور دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کابل حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے‘ پاکستان میں ’دہشت گردی کی تقریباً تمام فرنچائزز موجود ہیں۔‘

انہوں نے انڈیا پر پاکستان کے خلاف ’پراکسی جنگ‘ چھیڑنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ جب پاکستان پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ’ایک ہی صفحے پر‘ ہوتے ہیں۔

خواجہ آصف نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا اب بھی ’امکان‘ موجود ہے تاہم اس بارے میں انہوں مزید کچھ نہیں کہا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں لڑائی ہوئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

16 فروری 2026 کو باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے حملے میں افغانستان کی سرزمین کے استعمال پر

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان مشن کے ناظم الامور کو بدھ کو طلب کر کے  16 فروری 2026 کو باجوڑ میں ہونے والے ’دہشت گرد‘ حملے پر احتجاجی مراسلے انہیں دیا۔

اس حملے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکاروں کی جان گئی۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان میں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ’ٹی ٹی پی‘ کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کی ’پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیاں کرتی ہے۔‘

احتجاجی مراسلے میں اس امر کو دوبارہ واضح کیا گیا کہ پاکستان کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں موصول ہوئیں، ’مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوئی نمایاں یا ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔‘

مراسلے میں افغان حکومت سے کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم تمام ’دہشت گرد گروہوں‘ بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

’افغان طالبان حکومت کو دوٹوک طور پر آگاہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی افواج، شہریوں اور علاقائی حدود کے تحفظ کے لیےعسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے خوارج اور ان کے ساتھیوں کو جہاں کہیں بھی ہوں، جواب دینے اور ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

کشیدہ تعلقات

پاکستان اور افغانستان میں اکتوبر میں شدید سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور دوحہ میں عارضی فائر بندی کے بعد ترکی میں پائیدار امن حاصل کرنے کے لیے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

دونوں کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور سرحدی گزرگاہیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔

جبکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد کسی طرح کا سفارتی رابطہ نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک حملے کا الزام بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے جو مئی میں امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالات سازگار ہونے کی صورت میں پاکستان بین الاقوامی امن فورس میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

غزہ میں بین الاقوامی استحکام کے مشن میں پاکستان کے ممکنہ تعاون کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ’ اس امن فورس کے لیے کس قسم کی شرائط کا مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی امن فوج میں شراکت دار کے طور پر نمایاں تجربہ ہے اور کہا کہ غزہ فورس میں شرکت مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا ایک ’اچھا موقع‘ ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا