لندن میں رمضان کی راتوں میں چائے کا کلچر، حقیت ہے کیا؟

پچھلے چند برسوں میں رمضان کی آمد کے ساتھ لندن میں ایک ہلکی مگر واضح تبدیلی آتی ہے اور بہت سے حلال کیفے اور ریستوران اپنے اوقات بدل کر افطار سے ذرا پہلے کھلتے ہیں اور سحری کے بعد تک گاہکوں کو خوش آمدید کہتے رہتے ہیں۔

راقم الحروف کوینی شیخ لندن کے علاقے سوہو میں قائم بار اٹالیا میں موجود ہیں، جو صبح 4 بجے تک کھلا رہتا ہے (کوینی شیخ)

لندن کی ایک یخ بستہ جنوری کی رات، جب درجۂ حرارت منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ تھا، میں پکاڈیلی سرکس سے گزری۔

کرسمس کی روشنیاں اور سجاوٹ ختم ہو چکی تھیں اور ان کی جگہ نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے پوسٹرز لگے تھے جو دارالحکومت میں اس کی واپسی کی علامت تھے۔

رات ساڑھے 11 بجے کے فوراً بعد سیاح کم ہو چکے تھے اور وسطی لندن صرف سخت جان لوگوں کے لیے رہ گیا تھا یعنی نائٹ کلب کے شوقین، سگریٹ پیتے اور سردی سے کانپتے ہوئے، ہیٹروں کے گرد سمٹے اور فٹ پاتھ کے کنارے جھنڈ کی صورت بیٹھے لوگ۔ چند گروہ ادھر ادھر سڑکیں ناپ رہے تھے کہ کہیں بھی، رات کی طوالت کو تھوڑا اور بڑھایا جا سکے۔

ٹوکیو، نیویارک سٹی اور دبئی جیسے عالمی شہروں کے برعکس جہاں چائے خانے، چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے ریستوران اور کیفے محض رات گئے میل جول کے لیے موجود ہوتے ہیں، لندن میں ایسے مواقع کہیں کم ہیں۔ یہاں ہفتے کے دوران زیادہ تر راتوں میں صرف دو ہی انتخاب رہ جاتے ہیں: یا تو پب جائیں اور مشروبات پر حد سے زیادہ رقم خرچ کریں، یا گھر چلے جائیں۔

یہ پہلا امکان بھی اکثر رات گیارہ بجے ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ لائسنسنگ قوانین کے تحت بہت سے مقامات کو مقامی کونسلوں کی ہدایت پر شراب کی فروخت روک کر انہیں جلد بند کرنا پڑتا ہے اور اگر جمعے اور ہفتے کو ٹیوب کی چوبیس گھنٹے سروس نہ ہوتی تو لندن والوں کے لیے رات اس سے بھی پہلے ختم ہو جاتی۔ ہم الیکٹرک کمبلوں تلے دبے مسلسل فضول ٹی وی پروگرام دیکھتے رہتے۔

تاہم پچھلے چند برسوں میں ایک سالانہ موقع ایسا آیا ہے جس نے رات گئے کی عادات میں نمایاں فرق پیدا کیا ہے۔ رمضان۔ ہر سال دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے روزے رکھنے والے اس مہینے کے ساتھ لندن میں ایک ہلکی مگر واضح تبدیلی آتی ہے۔ سڑکیں ’رمضان مبارک‘ کی روشنیوں سے سج جاتی ہیں اور بہت سے حلال کیفے اور ریستوران اپنے اوقات بدل کر افطار سے ذرا پہلے کھلتے ہیں اور سحری کے بعد تک گاہکوں کو خوش آمدید کہتے رہتے ہیں۔

شہر کے ان حصوں میں جہاں مسلمان آبادی زیادہ ہے، جیسے ایج ویئر روڈ کے اطراف اور ریجنٹس پارک کے نزدیک، شامیں دیر تک کھنچ جاتی ہیں اور چائے کے کپ طویل گفتگو کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہ فضا مشرق وسطیٰ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی مسلم ثقافتوں کی یاد دلاتی ہے۔

اس کلچر نے شراب کے بغیر میل جول پر ایک وسیع تر گفتگو کو بھی جنم دیا ہے۔ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق اب نوجوان بالغوں (18 سے 24 سال) میں سے 43 فیصد کم یا بغیر شراب کے محفلوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ منظرنامہ بدل رہا ہے اور لوگ تیزی سے ایسے تیسرے مقامات تلاش کر رہے ہیں جو پینے پلانے کے گرد مرکوز نہ ہوں۔

2020 کے بعد سے برطانیہ اپنے 32 فیصد نائٹ کلب کھو چکا ہے، جبکہ پب روزانہ ایک کے حساب سے بند ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں رمضان کی رات گئے کی ثقافت ایک استثنیٰ محسوس ہوتی ہے۔

اگرچہ یہ کوئی نیا تصور نہیں۔ آدھی رات کو میں فرتھ سٹریٹ سے گزری اور کافی پر ایک دوست سے ملنے کے لیے بار اٹالیا کا دروازہ کھولا۔ 1949 میں قائم ہونے والا یہ اطالوی کیفے برسوں سے اس لیے قائم ہے کہ سوہو میں اُن چند جگہوں میں سے ہے جو صبح چار بجے تک کھلی رہتی ہیں، اور پینے والوں اور نہ پینے والوں دونوں کا استقبال کرتی ہیں۔

باہر لگی ایک نیلی تختی بتاتی ہے کہ کیفے کے اوپر واقع اٹاری ٹیلی وژن کی جائے پیدائش تھی۔ اندر ایک تختی پر درج تھا کہ آج ہی کے دن ٹیلی وژن ایجاد ہوئے سو برس پورے ہو گئے ہیں۔ ہم نے کیپوچینو منگوائے تو طلبہ کھلے لیپ ٹاپس کے ساتھ کاؤنٹر کے ساتھ قطار میں تھے، جبکہ ایک اور گروہ سامنے صوفوں پر بیٹھ کر بورڈ گیم میں مگن تھا۔

ایسے مناظر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں کہ لندن اندھیرا ہونے کے بعد کیسے کام کرتا ہے۔ اب صرف رمضان ہی ہر سال 1.3 ارب پاؤنڈ پیدا کرتا ہے اور یہ رقم برطانوی معیشت سے بھی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے، اندازے کے مطابق 2030 تک یہ سالانہ 2 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر شہر سال کے 30 دن اس ماڈل کو اپنا سکتا ہے تو پھر اس سے آگے اسے برقرار رکھنے میں دشواری کیوں؟

لندن کے میئر سر صادق خان کے ایک ترجمان نے بتایا: ’لندن کی رات کی معیشت دس لاکھ سے زائد ملازمتوں کو سہارا دیتی ہے، ہماری معیشت میں 139 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کا حصہ ڈالتی ہے اور کمیونٹیوں کو جوڑتی ہے، مگر یہ یقینی بنانے کے لیے اقدام ضروری ہیں کہ یہ آئندہ برسوں میں بھی ہماری شہری زندگی کا متحرک حصہ بنی رہے۔‘

میئر نے حال ہی میں لندن نائٹ لائف ٹاسک فورس کی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جو رات کی کاروباری سرگرمیوں اور صارفین پر بڑھتے دباؤ کے جواب میں گذشتہ سال قائم کی گئی تھی۔ لندن بھر سے نمائندوں کو اس آزاد ٹاسک فورس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔

23  مختلف سفارشات پر مشتمل اس رپورٹ کو ’لندن کی نائٹ لائف پر اب تک تیار کیا گیا سب سے تازہ اور جامع شواہد پر مبنی مواد‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا: ’نائٹ لائف ٹاسک فورس کی رپورٹ دکھاتی ہے کہ نائٹ لائف کس طرح ارتقا پا کر دارالحکومت میں ثقافتی، سماجی اور برادری کی سرگرمیوں کی متنوع صورتیں اختیار کر چکی ہے اور رمضان کے دوران ہونے والی سرگرمیاں اس کی بہترین مثال ہیں کہ ہمارا شہر رات کو کتنے مختلف انداز میں زندہ ہو اٹھتا ہے۔‘ واقعی، رمضان سے پہلے کے ہفتوں میں ہی شہر میں ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔

رات باہر گزارنے کے بعد اگلے دن میں ایلڈگیٹ کی طرف گئی، جہاں سٹریٹ لیمپس پر چسپاں پمفلٹس لندن بھر میں پھیلنے والے رمضان سوق (بازار) کی تشہیر کر رہے تھے، جس کے بڑے پڑاؤ میں سے ایک مشرقی لندن مسجد بھی تھا۔ ہر سال رمضان سے پہلے کے مہینے میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام منتخب مقامات پر فنون، دستکاریاں، کھانا پکانے کی ورکشاپس، بچوں کی سرگرمیاں اور مفت کھانا پینا فراہم کرتا ہے۔

وہاں سے میں لندن نائٹ کیفے گئی، یہ ایک چھوٹا، آزاد، اجتماعی مقام ہے، جہاں کچھ کیفے، کچھ مطالعہ گاہ، کچھ ورک سپیس ہیں۔ ہفتے کے دیگر دنوں اور اتوار کو انٹری فیس سات پاؤنڈ ہے اور یہ صبح تین بجے تک کھلا رہتا ہے، جبکہ جمعے کو دس پاؤنڈ میں پوری رات چلتا ہے۔

نیچے ایک چھوٹا فریج تھا جس میں سافٹ ڈرنکس اور دودھ رکھا تھا، اس کے اوپر ٹی بیگز ترتیب سے لگے تھے۔ ساتھ پوٹ نوڈلز کا ایک ڈھیر، کافی مشین اور مائیکروویو بھی تھا۔ دیواروں پر متنوع فن پارے آویزاں تھے۔ کمرے کے ایک سرے پر گدّہ نما صوفے اور تکیے اور دوسرے سرے پر مفت ویڈیو گیمز، سن لونجرز اور ایک ننھا بال پٹ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لندن نائٹ کیفے کے بانی ڈاکٹر ایرک وائکوف راجرز نے بتایا: ’دیر تک کھلا رہنے والا ایک صحت مند ماحول اپنی جگہ چیلنجز لاتا ہے، خاص طور پر لائسنسنگ کے معاملے میں۔‘

انہوں نے کہا: ’لائسنس حاصل کرنے کی لاگت ہوتی ہے، جو آپ کو شراب بیچنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ اگر آپ فروخت کرسکتے ہیں تو کرنی چاہیے، وہیں سے آمدن آتی ہے، مگر میرے خیال میں یہی وہ چیز ہے، جہاں نائٹ لائف کے تصور میں تخیل کی کمی نظر آتی ہے، کیونکہ ہم کوئی شراب نہیں بیچتے۔‘

نائٹ لائف ٹاسک فورس کی رپورٹ اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ لائسنسنگ فیصلوں سے متعلق ’نئے اختیارات‘ رواں سال کے اواخر میں متعارف کروائے جانے کی توقع ہے۔

میئر کے ترجمان نے مزید کہا: ’سر صادق خان شراکت داروں کے ساتھ مل کر نائٹ لائف کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدام کے پابند ہیں اور جلد ہی حکومت کی جانب سے انہیں نئے سٹریٹجک لائسنسنگ اختیارات ملیں گے، جو ریستوران اور مہمان نوازی کے شعبے کی مدد کریں گے اور ہماری دارالحکومت کی نائٹ لائف کی صلاحیت کو کھولنے میں معاون ہوں گے، تاکہ ہم سب کے لیے بہتر لندن تعمیر کر سکیں۔‘

اسی سوچ کی بازگشت ’وزٹ لندن‘ میں بھی سنائی دیتی ہے، جس کے 2030 کے لیے سیاحتی وژن میں طویل اوقاتِ کار اور زیادہ علاقوں تک بہتر رسائی کے ذریعے مضبوط 24 گھنٹے کی معیشت کو فروغ دینے کے منصوبے شامل ہیں۔

لندن اینڈ پارٹنرز (وزٹ لندن) کی ڈیسٹینیشن منیجنگ ڈائریکٹر روز وانگن جونز نے کہا: ’تجرباتی معیشت لندن گروتھ پلان کے کلیدی شعبوں میں سے ایک ہے، اور رمضان اس ہدف کے ساتھ فطری طور پر ہم آہنگ ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’رمضان کے دوران رات گئے کھانے کے مواقع سیاحوں اور لندن والوں دونوں کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ وہ افطار کے لیے کام کے بعد یا شہر کی سیر کے بعد اطمینان سے وقت نکال سکیں۔ لندن کے وسیع تر حصوں میں مزید سیاحتی مقامات اور طویل اوقاتِ کار سیاحوں کی زیادہ متوازن تقسیم کے لیے گنجائش پیدا کریں گے، جس سے کاروبار، لندن کے رہائشیوں اور مقامی برادریوں سب کو فائدہ ہوگا۔‘

اگلی صبح مجھے اڑھائی بجے پرواز کے لیے اٹھنا تھا، مگر اپنے ایئرپورٹ کے معمول یعنی ’ویدرزپونز‘ میں ہیش براؤنز کھانے کی بجائے میں نے بلومزبری میں وی کیو کا رخ کیا، جو لندن کا پہلا چوبیس گھنٹے کھلا رہنے والا ریستوران ہے۔

1995 میں قائم ہونے والا یہ مقام ہلکی سی امریکی جھلک رکھتا ہے، جہاں جدید مشترکہ میزیں، سرخ بوتھس اور بڑے کافی مگ نظر آتے ہیں۔ میں نے ایک کلاسک چھوٹا ویجیٹیرین انگریزی ناشتہ منگوایا یعنی ٹوسٹڈ مفن پر تلا ہوا انڈا، ایووکاڈو، مشروم، گرل کیے ہوئے ٹماٹر، ویگن ساسیج، بینز، ٹوسٹ، مکھن اور ساتھ میں چکنے ہیش براؤنز۔

رمضان جو بات نمایاں کرتا ہے وہ وقت گزارنے کا ایک مختلف طریقہ ہے۔ لندن جیسے بڑے اور ثقافتی طور پر وسیع شہر میں کاروباری اوقات کو 12 سے بڑھا کر 18 گھنٹے کرنا محض کھلے رہنے کے لیے نہیں، بلکہ لوگوں تک وہیں پہنچنے کے بارے میں ہے جہاں وہ پہلے ہی موجود ہیں یعنی کام سے پہلے، کام کے بعد اور درمیان کے اوقات میں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو شراب نہیں پیتے مگر رات کو باہر رہنا چاہتے ہیں۔

کاروبار کے لیے یہ اضافی اوقات معاشی نمو، لچک اور مضبوطی کا سبب بن سکتے ہیں۔ شہروں کے لیے، یہ ان اوقات میں سڑکوں کو متحرک رکھتے ہیں جنہیں عموماً مردہ وقت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

وی کیو میں اردگرد دیکھتے ہوئے، تین الگ الگ گروہ بالکل مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ہی جگہ موجود تھے۔ ایک میز پر طلبہ آنے والے امتحان کی تیاری کر رہے تھے، دوسری پر کچھ لوگ رات بھر کی تھکن کے ساتھ ساسیجز کھا رہے تھے اور تیسری پر دو باحجاب خواتین سوٹ کیس اٹھائے، ایک ابتدائی سفر سے پہلے توانائی بحال کر رہی تھیں۔ ہم سب ایک ہی گھڑی میں مختلف اسباب کے تحت وہاں تھے، مگر ایک ہی ضرورت نے ہمیں اکٹھا کر رکھا تھا یعنی رات کے عین بیچ کہیں کھلا، گرم اور اجتماعی مقام۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا