انڈیا میں مسلمان دکان دار کی حفاظت پر ہندو شہری کو موت کی دھمکیاں

دیپک کمار کا کہنا ہے کہ ’آدھا شہر میری حمایت کرتا ہے، لیکن جب آپ اچھے کام کرتے ہیں تو لوگ داد نہیں دیتے۔ ایمان داری کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔‘

27 دسمبر 2021 میں نئی دہلی میں اسلامو فوبیا کے خلاف ریلی میں مظاہرین نے پوسٹرز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں (روئٹرز)

شمالی انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے والے ایک بزرگ مسلمان دکان دار کے دفاع میں آگے آنے والے 42 سالہ جم مالک کو نفرت سے ’تقسیم‘ ملک میں مذہبی اتحاد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

26 جنوری کو، دیپک کمار نے دیکھا کہ مردوں کا ایک گروہ مبینہ طور پر اتراکھنڈ میں 70 سالہ مسلمان تاجر پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے اپنی دکان کا نام تبدیل کر لیں۔

دیپک کمار نے ہجوم سے سوال کیا اور استدلال کیا کہ انڈیا میں مذہب سے قطع نظر ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔

یہ ایک ایسا حق ہے جو ملک کے آئین میں تحفظ حاصل ہے۔

اس بات چیت کا ایک اہم لمحہ، جو اب وائرل ہونے والی ویڈیو میں محفوظ ہے، وہ تھا جب ہجوم میں سے کسی نے ان سے ان کا نام پوچھا اور انہوں نے جواب دیا: ’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘ 

یہ لمحہ بعد کے دنوں میں سوشل میڈیا پر چھائی بحث کا مرکز بن گیا کیوں کہ اس نام میں ہندو اور مسلم دونوں عناصر موجود تھے۔ ’دیپک‘ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کا سنسکرت ماخذ ہے جس کا مطلب روشنی ہے اور محمد ایک مسلم نام ہے۔

لیکن دیپک کمار کی مداخلت مقامی طور پر شدید ردعمل کا سبب بن گئی۔ اس معاملے کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی، اور کچھ دنوں بعد، مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ سو لوگ ان کے خلاف نعرے لگانے کے لیے جمع ہو گئے۔

دیپک کمار نے واقعے کے کچھ دنوں بعد دی انڈین ایکسپریس کو بتایا، ’70 سالہ شخص سے کہا گیا کہ وہ اپنی دکان کا نام ’بابا کلاتھس‘ سے بدل کر کچھ اور رکھ لیں کیوں کہ وہ ہندو نہیں۔

’میں نے ان سے کہا کہ وہ ایک بوڑھے آدمی کو دھمکیاں نہ دیں۔ انہوں نے مجھ سے میرا نام پوچھا، اور غصے میں، میں نے کہا کہ میں محمد دیپک ہوں۔ میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ میں ایک انڈین ہوں اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔‘

’بابا‘ انڈیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جو روحانی شخصیات یا بزرگوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، اور عام طور پر ہندو اور مسلمان دونوں ہی اسے والد، دادا یا معزز افراد کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مردوں کا گروہ یہ دلیل دے رہا تھا کہ شہر کوٹ دوار میں لفظ ’بابا‘ کا مطلب صرف سدھ بالی مندر ہونا چاہیے، جو ہندو دیوتا ہنومان کے لیے وقف ایک عبادت گاہ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایک مسلمان دکان دار کو اسے اپنی دکان کے نام کے حصے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

دیپک کمار نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے ان نوجوانوں کا ایک معمر شخص کے ساتھ اتنی بدتمیزی سے بات کرنا پسند نہیں آیا۔ وہ ان کے مذہب کی وجہ سے انہیں نشانہ بنا رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘

دیپک کمار نے کہا کہ انہیں دھمکیاں ملیں اور ان کے جم، جس کا نام ’ہلک جم‘ ہے، کے ارکان کی تعداد تقریباً 150 کلائنٹس سے تیزی سے کم ہو کر تقریباً 15 رہ گئی، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوئی۔

انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا: ’آدھا شہر میری حمایت کرتا ہے، لیکن جب آپ اچھے کام کرتے ہیں تو لوگ داد نہیں دیتے۔ ایمان داری کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔‘

تاہم گذشتہ جمعے کو اطلاع ملی کہ سپریم کورٹ کے 15 سینیئر وکلا کے ایک گروپ نے جم کی سالانہ ممبرشپ سپانسر کر کے مدد کی، اس کے بعد جب دیپک کمار نے کہا کہ وہ نقد رقم قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔

یہ خیال جزوی طور پر جان برٹاس سے متاثر ہو کر آیا، جو ایک کمیونسٹ رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے پہلے جم کا دورہ کیا اور ممبرشپ خریدی۔

وکلا کے ایک گروپ نے کہا کہ انہوں نے جم ٹرینر کو مفت قانونی مدد کی پیشکش بھی کی۔

ایک سینیئر وکیل نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’20 سے زیادہ وکلا اب اس پہل میں شامل ہو چکے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دیپک کے پاس 26 جنوری کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ان کے موقف کے قانونی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے بہترین ممکنہ مفت نمائندگی موجود ہو۔‘

کئی دوسرے لوگ بھی حمایت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دیپک کمار کو ’انڈیا کا ہیرو‘ قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا: ’دیپک آئین اور انسانیت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اسی آئین کے لیے جسے بی جے پی اور سنگھ پریوار ہر روز پامال کرنے کی سازش کرتے ہیں۔

’وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کی زندہ علامت ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو حکمران طاقت کو سب سے زیادہ چبھتی ہے۔‘

سنگھ پریوار انڈیا میں انتہائی دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے لیے ایک اجتماعی اصطلاح ہے۔

راہل گاندھی نے لکھا: ’سنگھ پریوار جان بوجھ کر ملک میں معاشی اور سماجی زہر گھول رہا ہے تاکہ انڈیا تقسیم رہے اور چند لوگ خوف کے ذریعے حکومت کرتے رہیں۔ اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت کھلے عام ان سماج دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے جو عام شہریوں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے میں مصروف ہیں۔‘

کانگریسی لیڈر نے کہا کہ ’ہمیں مزید دیپکوں کی ضرورت ہے۔ وہ جو جھکتے نہیں، جو ڈرتے نہیں اور جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ آئین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘

دیپک کمار نے اس سے قبل مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے خوف محسوس کیا اور دھمکیوں کے بارے میں پولیس کو شکایت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ جاری ہے۔

مزید برآں پولیس نے مسلمان دکان دار کی شکایت پر بھی مقدمہ درج کیا۔

دریں اثنا، کوٹ دوار میں صورت حال کشیدہ ہے، کچھ مکین دیپک کمار کی حمایت کر رہے ہیں اور دیگر ان کے اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا