تاریخ میں یورپی اقوام نے جس بےدردی سے افریقیوں کا استحصال کیا، اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔
انہیں نسلی تعصب کا نشانہ بنایا گیا، غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی آزادی سلب کی گئی۔ ان کے معدنی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کی گئی اور ان کے تاریخی نوادرات کو یورپ کے عجائب گھروں کی زینت بنا دیا گیا۔
یورپی طاقتوں نے جب افریقہ میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں اور اپنا سیاسی تسلط جمایا تو اس جبر کو یہ کہہ کر جواز بخشا کہ افریقی اقوام غیر مہذب، جاہل اور کاہل ہیں۔
ان کے نزدیک اس کا واحد ’علاج‘ یہ تھا کہ انہیں مسیحیت کے دائرے میں لایا جائے اور مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھالا جائے۔
یہ بیانیہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ کئی افریقی بھی خود کو یورپی تہذیب کی عینک سے دیکھنے لگے۔
معروف مؤرخ جی ایم فریڈرک سن نے اپنی کتاب ’بلیک لبریشن‘ میں امریکہ اور جنوبی افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی ان سیاسی و سماجی تحریکوں کا احاطہ کیا ہے جنہوں نے ان کی تقدیر بدل دی۔
امریکہ میں خانہ جنگی (65-1861) کے بعد جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو پہلی بار افریقیوں کو منظم کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔
ان کے رہنماؤں نے مستقبل کی منصوبہ بندی کی، جس میں ابتداً مسلح جدوجہد کی بجائے تعلیم کے حصول، مغربی تہذیب سے ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے ذریعے معاشرے میں مقام بنانے پر زور دیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ زمین کے حصول اور کاشت کاری کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے افریقی تنظیموں نے ادارے قائم کیے، سکول کھولے اور صنعت و حرفت کے مراکز بنائے، جن سے ان میں آزادی کی تڑپ پیدا ہوئی۔
آزادی کے لیے ایک اور تجویز یہ بھی تھی کہ افریقی واپس اپنے آبائی براعظم افریقہ لوٹ جائیں۔ اس منصوبے کے تحت لائبیریا کے نام سے ایک ملک قائم کیا گیا، جہاں کچھ لوگوں نے ہجرت بھی کی، لیکن اکثریت چونکہ امریکہ میں رچ بس چکی تھی، اس لیے انہوں نے وہیں رہنے کو ترجیح دی۔
جنوبی افریقہ کی صورت حال مختلف تھی۔ وہاں برطانیہ نے بوئر جنگ کے بعد صلح کر کے اقتدار ’افریکانز‘ کے حوالے کر دیا، جنہوں نے وہاں نسلی امتیاز پر مبنی حکومت قائم کر کے سیاہ فام باشندوں کو سفید فام آبادی سے الگ کر دیا۔
کیپ ٹاؤن میں مسیحی مشنریز نے مذہب کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مغربی تعلیم بھی دی، جس سے وہاں کے نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا اور آزادی کا جذبہ پروان چڑھا۔
امریکہ کے سیاہ فام باشندوں میں اپنی شناخت کے لیے ایک نئی تحریک ابھری جس کی علامت ایتھوپیا تھا۔
یہ وہ ملک تھا جہاں قدیم دور سے مسیحی اور یہودی آباد تھے اور جسے کسی یورپی طاقت نے شکست نہیں دی تھی۔
ایتھوپیا کی علامت سے ’یوٹوپیا‘ کے نظریے نے جنم لیا کہ مستقبل میں افریقیوں کی حکمرانی ہوگی اور وہ دیگر اقوام پر برتری حاصل کر کے اپنا کلچر نافذ کریں گے۔
اس تحریک نے مستقبل کا ایک خواب تو دکھایا لیکن اسے تعبیر دینے کے لیے طویل جدوجہد درکار تھی۔
امریکہ اور جنوبی افریقہ میں جب سفید فام حکمرانوں نے آزادی کی ان تحریکوں کو دیکھا تو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے انہیں کچلنا ضروری سمجھا۔
امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں 1865 کے بعد علیحدگی کے قوانین نافذ کیے گئے۔ اس کے تحت سیاہ فاموں کو سفید فام تعلیمی اداروں میں داخلے، ان کے محلوں میں رہائش یا ان کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بسوں میں انہیں صرف پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کی اجازت تھی جبکہ ان کے چرچ بھی الگ تھے۔ جنوبی افریقہ میں بھی نسلی امتیاز کو قانونی شکل دے دی گئی۔
سیاہ فام باشندوں کو شہروں میں رہائش کی اجازت نہیں تھی، وہ مضافاتی کچی آبادیوں میں رہتے تھے جہاں بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔
وہ صبح کام کے لیے شہر آتے اور شام کو واپس لوٹ جاتے۔ شہر میں ہر جگہ، حتیٰ کہ ڈاک خانوں کی کھڑکیوں اور پارکوں کے بنچوں تک میں سفید فام اور سیاہ فام کے لیے علیحدگی رکھی جاتی تھی۔ کسی بھی احتجاج کو طاقت سے کچل دیا جاتا۔
انہی نامساعد حالات میں افریقن نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا، جس کے منشور میں جنوبی افریقہ کی آزادی کا مطالبہ شامل تھا۔
امریکہ میں بھی سیاسی حالات نے پلٹا کھایا اور شہری حقوق کی تحریک نے سیاہ فام باشندوں کو متحرک کر دیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور میلکم ایکس جیسے رہنماؤں نے حقوق کی جنگ لڑی۔
جنوبی افریقہ میں طویل جدوجہد کے بعد اپارتھائیڈ کا خاتمہ ہوا اور نیلسن منڈیلا 27 سال کی قید کے بعد رہا ہوئے۔
پہلے جمہوری انتخابات کے ذریعے وہ صدر منتخب ہوئے اور ایک ایسے جنوبی افریقہ کی بنیاد رکھی جہاں سیاہ فام حکمرانی میں سفید فام باشندوں کو بھی شامل کیا گیا۔
آج جنوبی افریقہ ایک آزاد ملک ہے لیکن امریکہ میں نسلی تعصب کی جڑیں اب بھی گہری ہیں۔
اس کے باوجود افریقی نژاد امریکیوں نے کھیلوں، موسیقی، اور صنعت و حرفت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور وہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔