لاہور جسے پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت کہا جاتا ہے وہاں آج سے تین روزہ پتنگ بازی کا میلہ شروع ہو رہا ہے جسے صوبائی حکومت نے ’بسنت میلہ‘ کا نام دیا ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پتنگ بازی کا آغاز قبل مسیح میں چین سے ہوا اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ تاہم کچھ نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چین سے پہلے نیوزی لینڈ اور ہوائی جزائر میں پتنگ اڑائی جا رہی تھی۔ لیکن یہ بات لوگوں کے لیے حیران کن ہے کہ پتنگیں اڑانے کی روایت تفریح کے لیے نہیں بلکہ دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے شروع ہوئی۔
بسنت سے مراد پتنگ بازی بالکل بھی نہیں ہے؟
شاہد احمد دہلوی اپنی کتاب ’دلی جو ایک شہر تھا‘ میں لکھتے ہیں کہ بہار کا موسم آتے ہی ہندو دیوتاؤں کے مندروں میں سرسوں کے پھول چڑھاتے تھے جسے بسنت کہا جاتا تھا۔ سنسکرت میں بسنت کو بہار کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے یہ تہوار ہندوؤں سے مستعار لیا اور خانقاہوں پر سرسوں کے پھول چڑھا کر بسنت منانی شروع کر دی جس کا آغاز امیر خسرو نے خواجہ نظام الدین اولیا کو پھول پیش کر کے کیا تھا۔
جب پہلی بار امیر خسرو نے خواجہ نظام الدین اولیا کے قدموں میں پھول ڈالے تو ساتھ ہی ناچنا شروع کر دیا۔ خواجہ صاحب مسکرائے اور پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ تو امیر خسرو نے کہا، ’عرب یار تو ری بسنت منائی۔ آج ہندو اپنے بت پر بسنت کے پھول چڑھانے جا رہے ہیں، میں بھی اپنے بت پر پھول چڑھانے آیا ہوں۔‘
جس پر خواجہ صاحب نے یہ شعر پڑھا:
اشک ریز آمد و ابر بہار
ساقیا گل بریز بادہ بیار
(آنسو بہنے لگے بہار کا بادل آ گیا، ساقی پھول بکھیر اور شراب لے آ)
اس واقعے کی بنیاد پر یہ روایت شروع ہو گئی۔ بہار کا موسم آتے ہی مسلمان درگاہ پر پھول چڑھاتے، ختم شریف پڑھتے اور شیرینی تقسیم کرتے پھر رفتہ رفتہ اس میں موسیقی اور رقص بھی شامل ہو گیا۔
پتنگ بازی سے جڑی دلچسپ اساطیر
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق چوتھی صدی قبل مسیح میں پتنگ اس وقت ایجاد ہوئی تھی جب ایک یونانی ریاضی دان آرکیٹاس (Archytas) پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے کا تجربہ کر رہا تھا۔ برٹش میوزیم میں محفوظ ایک منی ایچر پینٹنگ جو 19ویں صدی کے اوائل کی ہے، اس میں رادھا کو پتنگ کے سائے کے پیچھے دوڑتے دکھایا گیا ہے۔
اسی پینٹنگ میں کرشن پتنگ اڑا رہے ہیں لیکن یہ پینٹنگ تاریخ کی بجائے رومانوی اور علامتی پس منظر رکھتی ہے۔ بہاری، کبیر، رحیم اور تلسی داس کے دوہوں میں پتنگ بازی کا ذکر ملتا ہے۔
پتنگ بازی کی روایت کہیں نہ کہیں قدیم دور کے دیوتاؤں سے بھی جڑی ہوئی ہے جس کی ایک روایت ہمیں نیوزی لینڈ کے جزائر میں ملتی ہے جہاں کی اساطیری روایات میں ایک دیوتا خود پتنگ بن جاتا ہے جبکہ ہوائی کے جزائر میں دیوتا موئی خود پتنگ اڑاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم دور میں پتنگ بازی تقدیسی روایات رکھتی تھی اور لوگ دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے پتنگیں اڑاتے تھے۔
نیوزی لینڈ میں پتنگوں سے فال بھی نکالی جاتی تھی۔ چین اور جاپان میں یہ بری روحوں کو بھگانے اور اچھی روحوں کو بلانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ پتنگوں کو اڑانے کے دن بھی مقرر تھے کہ فلاں دن سعد ہے اور فلاں دن نحس، جو پتنگیں زمین پر گر جاتی تھیں انہیں ہاتھ نہیں لگایا جاتا تھا کہ یہ بدقسمتی کا سبب بن سکتی تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تیسری صدی قبل مسیح میں چینی فلسفی ہان فئی زی (Han Fei Zi) نے ایک کہانی لکھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس سے ایک صدی پہلے کے واقعات پر مبنی ہے، اس میں وہ لوبان اور اس کے استاد موزی کا ذکر کرتا ہے، جنہوں نے لکڑی کی ایک پتنگ بنائی جو ہان فئی زی کو ہوا میں اٹھا سکتی تھی وہ تین دن تک اڑتا رہا اور پھر زمین پر آ گرا۔
مقامی لوگ اسے دیوتا کی طرح مانتے تھے، اس کے بعد ریشم اور کاغذ کی پتنگیں بنائی جانے لگیں۔ لیکن بہت سے مورخین اسے ایک افسانہ سمجھتے ہیں نہ کہ ایک تاریخی واقعہ۔ چین، نیوزی لینڈ اور ہوائی کے واقعات میں ایک قدر مشترک ہے کہ جس کسی نے پتنگ کے ذریعے ہوا میں اڑنے کا تجربہ کیا اسے دیوتا سمجھ لیا گیا۔
گوئٹے مالا میں رہنے والے مایا قومیت کے لوگ آج بھی سالانہ ’یومِ اموات‘ مناتے ہیں۔ اس روز وہ قبرستان میں جمع ہو کر مرحوم اہلِ خانہ کی یاد میں پتنگیں اڑاتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ پتنگیں بری روحوں کو دور کرتی ہیں اور جشن منانے والوں کو اپنے مرحوم عزیزوں کے ساتھ رابطہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ملائیشیا میں پتنگوں کو قبل از تاریخ سے مچھلی پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جس کے لیے پتنگ کی ڈور کے ساتھ ایک کانٹا اور کچھ اوزار بندھے ہوتے تھے جو پانی کے بالکل اوپر کسی کیڑے کی طرح پرواز کرتے تھے۔ مچھلی اس دام میں آ کر پھنس جاتی تھی اور پھر دوسری ڈور سے کھینچ کر مچھلی کو باہر نکال لیا جاتا تھا۔
اسی مقصد کے لیے پاپا نیوگنی میں بھی پتنگیں اڑائی جاتی تھیں جو درختوں کے بڑے بڑے پتوں سے بنائی جاتی تھیں۔
پتنگ بازی کو بطور تفریح، سب سے پہلے چینیوں نے شروع کیا جو ایک دوسرے کے ساتھ پتنگیں لڑاتے تھے۔ چینی راہب ہی چھٹی صدی میں یہ روایت جاپان لے کر گئے۔ جاپان نے 70ویں صدی میں پتنگوں کو اپنے تہواروں کا حصہ بنا دیا، نئے سال کے آغاز، بچوں کے دن اور فصلوں کے دنوں میں منائی جانے والی ساری خوشیاں پتنگوں سے ہی سجتی تھیں۔
ان اساطیر سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پتنگوں کی ابتدائی شکلیں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہیں۔ ہر سماج اور تہذیب نے اسے اپنے رواج میں ڈھالا۔ کہیں یہ دیوتاؤں کی دنیا سے تعلق استوار کرنے اور کہیں تفریح کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔
پتنگ کا استعمال محاوروں میں
چرچل سے ایک محاورہ غلط طور پر غلط العام ہے کہ ’ہوا کی مخالف سمت ہی پتنگ کو بلند کر سکتی ہے‘۔ سوئس ناول نگار، شاعر اور سیاست دان ژاں انتونی کے مطابق بلند ہمتی پتنگ کی مانند ہے، مخالف ہوا اسے گرانے کی بجائے مزید اونچا کرتی ہے۔
چینی کہاوت بھی ہے کہ ’پتنگیں ہوا کی مخالفت پر بلند ہوتی ہیں‘۔ جو دراصل چینی شاعر ژان کو (961-1023) کی ایک نظم کا جملہ ہے۔ اسے امریکہ میں موٹیویشنل سپیکرز اکثر استعمال کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔