’انڈیا سے اڑی پتنگ پاکستان آ  گرتی تھی‘: لاہور کے 92 سالہ ڈاکٹر رفیق کی بسنت

 قیامِ پاکستان سے پہلے کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس زمانے میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے تھے اور بسنت ایسا تہوار تھا جو سب کو ایک ہی چھت پر لے آتا تھا۔

92 سالہ ڈاکٹر محمد رفیق شیخ، جو 1932 میں پیدا ہوئے، آج بھی ماضی کی یادوں میں سب سے روشن اور زندہ تصویر بسنت کے تہوار کو قرار دیتے ہیں۔ گم صم بیٹھے، کانپتے ہاتھوں سے جب وہ اپنے بیٹوں کے موبائل فون پر رنگ برنگی پتنگوں کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں ایک پورے عہد کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، جب بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ خوشیوں، سادگی اور بھائی چارے کی علامت ہوا کرتی تھی۔

 اٹھارہ برس کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں بسنت کی واپسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے 24 دسمبر 2025 کو پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 منظور کیا، جس کے بعد لاہور میں چھ سے آٹھ فروری 2026 تک تین روزہ بسنت فیسٹیول منعقد کیا جائے گا۔

 قیامِ پاکستان سے پہلے کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس زمانے میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے تھے اور بسنت ایسا تہوار تھا جو سب کو ایک ہی چھت پر لے آتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ بھائی چارے کا تہوار تھا، بسنت آتے ہی یوں لگتا تھا جیسے خوشیاں لوٹ آئی ہوں۔‘

وقفے وقفے سے بات کرتے ہوئے اور سوچ میں ڈوبے ڈاکٹر رفیق ماضی اور حال کے فرق پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آج جس پتنگ بازی کو ایک خطرناک اور جان لیوا کھیل سمجھا جاتا ہے، وہ ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔

’ہمارے زمانے میں یہ ایک سادہ اور بےضرر شوق تھا۔ ہم دھاگے کی نلکی سے آغاز کرتے تھے، بیلچہ مارکا دو آنے میں ملتا تھا۔ نلکی کو پانی بھرے برتن میں ڈال دیتے اور اسی سے پتنگ اُڑاتے تھے۔‘

ان کے بقول ابتدا میں چھوٹی چھوٹی پتنگیں اور گڈے ہوا کرتے تھے، جو وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑے سائز میں بدلتے گئے۔ ’ہم دو پیسے کی پتنگ لے لیتے تھے اور اسی میں دل خوش ہو جاتا تھا۔‘

 ’1932 سے آج تک سب کچھ بدل گیا ہے، کہاں ایک، دو پیسے کی پتنگ اور کہاں آج روپوں میں بات آ گئی ہے۔‘

 بسنت کی متوقع واپسی جہاں نئی نسل کے لیے ایک رنگین تہوار اور جشن کی نوید ہے، وہیں ڈاکٹر محمد رفیق شیخ جیسے بزرگوں کے لیے یہ لمحہ ماضی کے اُس لاہور کو زندہ کر دیتا ہے جہاں چھتوں پر صرف پتنگیں ہی نہیں اُڑا کرتیں تھیں، بلکہ فضا میں امن، سادگی اور باہمی محبت بھی رچی بسی ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے دور میں گھروں کی چھتوں پر باقاعدہ بسنت کے شو ہوا کرتے تھے، سب لوگ مل کر چھت پر بیٹھتے تھے۔ کوئی کھانا بناتا تھا، کوئی باربی کیو کرتا تھا، اور آسمان پر جہاں نظر جاتی، صرف رنگ ہی رنگ دکھائی دیتے تھے۔‘

 وہ مسکراتے ہوئے اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب محلے کی زندگی چھتوں کے گرد گھومتی تھی۔ ’اگر کسی سے پوچھا جاتا کہ فلاں بچہ کہاں ہے تو جواب ملتا تھا، ‘چھت پر ہے’۔ بس زندگی اسی میں سمٹی ہوئی تھی۔‘

ڈاکٹر رفیق کے مطابق پتنگ بازی کبھی خطرناک کھیل نہیں تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ آج پیش آنے والے حادثات کھیل کی فطرت نہیں بلکہ شعور، احتیاط اور ذمہ داری کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔

 انہوں نے کہا: ’شاید تعلیم اور آگاہی کی کمی ہے کہ لوگوں نے اس کھیل کی اصل خوبصورتی کو سمجھا ہی نہیں۔ جب سے ڈوریں بدلی ہیں، خوشیاں بھی کہیں کھو گئی ہیں۔‘

پرانے وقتوں کی پتنگوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیق بتاتے ہیں کہ ’ایک ‘پری’ ہوتی تھی، جس کے نیچے ایک پھول بنا ہوتا تھا۔ مجھے وہ بہت پسند تھی، میں اکثر وہی اُڑاتا تھا۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا تھا کہ انڈیا سے اُڑی ہوئی پتنگ پاکستان میں آ گرتی تھی۔

’جیسے ہی کوئی پتنگ ہماری طرف آتی، میں پہلے اللہ سے دعا کرتا اور پھر گڈی کو آواز دیتا، ‘چپ کر کے نیچے آ جا’ اور وہ واقعی ہماری چھت پر آ جاتی تھی۔

’مجھے یقین تھا کہ اگر میں گڈی کو بلاؤں گا تو وہ آ ہی جائے گی۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی