بیج کسی ملک کے پرچم کا ہو، کسی تنظیم یا ادارے کا، وہ اگر کسی کے کوٹ، واسکٹ یا لباس پر لگا ہو تو پہچان بن جاتا ہے۔ کوئٹہ کے شہاب الدین ایک ایسی ہی شخصیت تھیں، جن کی واسکٹ پر 2800 سے زائد بیجز موجود رہے۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ کی موسیٰ کالونی کے رہائشی شہاب الدین نے شہر کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں 25 سال تک بطور دربان ملازمت کی۔
ان 25 برسوں کے دوران ہوٹل میں آنے والے غیرملکی مہمانوں نے شہاب الدین کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ان کی واسکٹ پر یادگار کے طور پر بیجز لگائے۔ اس مدت میں افغانستان، ایران، ملائیشیا، امریکہ اور سعودی عرب سمیت 30 ملکوں سے آنے والے مہمانوں نے شہاب الدین کی واسکٹ پر تقریباً 2880 بیج لگائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہاب الدین کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مومن خان ان کی جگہ ہوٹل میں ملازمت کرتے ہیں۔
مومن خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب وہ اپنے والد سے بیجز کے بارے میں پوچھتے تھے تو وہ بتاتے تھے کہ ہر بیج کی اپنی کہانی ہے۔ مثال کے طور پر اسم محمدﷺ کا بیج سعودی عرب سے آنے والے ایک مہمان نے انہیں یہ کہہ کر دیا کہ یہ ان کے والد نے انہیں دیا تھا۔ آپ کے پاس دیگر بیجز بھی ہیں، اس لیے اس بیج کو بھی اپنے پاس رکھ لیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو ملنے والے بیج محض دھات یا پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہر بیج کے ساتھ کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔
مومن کی خواہش ہے کہ والد کے منفرد شوق کی بنیاد پر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔