بلوچستان میں سردی سے بچنے کے لیے کھایا جانے والا خشک گوشت جسے مقامی زبان میں لاندی کہا جاتا ہے، اب کوئٹہ کے ریستوران میں بھی دستیاب ہے۔
لاندی کو خشک کرنے کا عمل مہینوں پر محیط ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عموماً گھروں میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لاندی تیار کرنے کے لیے دنبے کو خاص انداز میں ذبح کیا جاتا ہے اور پھر پورے دنبے کے گوشت کو پہلے دھوپ اور بعد ازاں چھاؤں میں مہینوں تک خشک کیا جاتا ہے۔
خشک کرنے کے عمل سے گوشت کا وزن خاصا کم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ لاندی کسی بھی جانور کے گوشت سے بنائی جا سکتی ہے لیکن دنبے میں چربی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی لاندی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
کوئٹہ کے اس ریستوران میں گذشتہ دو برس سے لاندی دستیاب ہے جہاں اسے شوربے اور روسٹ کی صورت میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے، جبکہ دال چاول کے ساتھ بھی یہ ڈش نہایت لذیذ ذائقہ دیتی ہے۔
ریستوران کے مالک بلال ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لاندی سردیوں میں پسند کی جاتی ہے اور لوگ کھانے کے لیے دور دور سے آتے ہیں۔‘
لاندی بلوچستان کے بلوچ اور پشتون شوق سے کھاتے ہیں، خصوصاً دیہی علاقوں میں لوگ بڑی مقدار میں لاندی تیار کرتے ہیں۔ عرب ممالک میں بھی لاندی کی مانگ پائی جاتی ہے۔
ریستوران میں موجود گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سید مصطفیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کوئٹہ میں میرے میزبان دوست نے یہاں دعوت دی۔ لاندی کے بارے میں بہت سنا تھا، آج اس ذائقے کا بہترین تجربہ ہوا۔‘
ان کے میزبان شجاع احمد کا کہنا تھا: ’لاندی ایک روایتی اور مزیدار کھانا ہے، اسی لیے ہم مہمانوں کو کھلانے یہاں لائے ہیں۔‘