خوراک کی قلت بلوچستان میں شدید، خیبر پختونخوا میں سب سے کم: سروے

ادارہ شماریات کے سروے کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ غذائی قلت ہے، اس کے بعد سندھ، پنجاب اور سب سے آخر میں خیبرپختونخوا کا نمبر آتا ہے۔

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے پانچ سال بعد گھریلو معاشی اکائیوں پر مبنی 2024-25 کا سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں 2018 کے مقابلے میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سروے کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ غذائی قلت ہے، اس کے بعد سندھ، پنجاب اور سب سے آخر میں خیبرپختونخوا کا نمبر آتا ہے۔

یہ سروے ہر پانچ سال بعد جاری کیا جاتا ہے جس میں پاکستان میں خوراک، تعلیم، صحت اور دیگر مختلف شعبوں کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کیے جاتے ہیں۔

اس سروے کے مطابق پاکستان میں قومی سطح پر 2024-25 میں 24.35 فیصد گھرانوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، یعنی ملک کے تین کروڑ 80 لاکھ سے زائد گھرانوں میں تقریباً 90 لاکھ گھرانوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

سروے کے مطابق 2018 میں یہ شرح تقریباً 16 فیصد تھی، یعنی 2018 کے مقابلے میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شدید قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں کی شرح 2018 میں 2.37 فیصد سے بڑھ کر پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے، یعنی تین کروڑ 80 لاکھ سے زائد گھرانوں میں 20 لاکھ سے زائد گھرانوں کو شدید خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ اسی سروے کے مطابق پاکستان میں اوسط گھرانے کے افراد کی تعداد تقریباً چھ ہے، یعنی ایک گھر میں اوسط چھ افراد رہ رہے ہیں۔

صوبوں کی صورتحال

اسی سروے میں قومی اعدادوشمار کے علاوہ صوبائی اعدادوشمار بھی شامل کیے گئے ہیں اور اس کے مطابق بلوچستان میں خوراک کی قلت سب سے شدید ہے اور وہاں 30 فیصد سے زائد گھرانوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

دوسرے نمبر پر سندھ ہے جہاں 29 فیصد سے زائد گھرانے خوراک کی قلت کی مشکلات سے دوچار ہیں اور تیسرے نمبر پر پنجاب میں 22.58 فیصد، جبکہ سب سے کم گھرانے (21.54 فیصد) خیبر پختونخوا میں ہیں جن کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

شرح میں اضافے کی بات کی جائے تو 2018 کے مقابلے میں 2025 میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں میں سب سے زیادہ اضافہ بلوچستان میں ہوا ہے جو 2018 میں 15 فیصد سے بڑھ کر اب 30 فیصد ہو گیا ہے۔

اسی طرح سندھ میں یہ شرح 2018 میں 19 فیصد سے بڑھ کر اب 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پنجاب میں 2018 میں 14.43 فیصد سے بڑھ کر اب 22.58 فیصد ہو گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیبر پختونخوا میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں میں 2018 کے مقابلے میں 2025 میں کم اضافہ ہوا ہے جو تقریباً پانچ فیصد ہے، یعنی دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں کم آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

اسی سروے رپورٹ میں اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے اور وجوہات میں کرونا وبا، 2022 کا سیلاب اور دنیا بھر میں مہنگائی شامل ہے، جس کی وجہ سے قوتِ خرید میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہانہ خوراک میں کمی

خوراک کی قلت کے مسئلے کے علاوہ پاکستان میں 2019 کے مقابلے میں 2025 میں ماہانہ بنیاد پر بنیادی اشیائے خوردونوش کے استعمال میں بھی قدرے کمی دیکھی گئی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق 2019 میں فی گھرانہ ماہانہ سات کلو گندم کھاتے تھے جو اب کم ہو کر چھ کلو 500 گرام ہو گئی ہے۔

اسی طرح فی گھرانہ چاول کا استعمال 2018 کے مقابلے میں ماہانہ ایک کلو سے کم ہو کر 800 گرام تک گر گیا ہے، جبکہ دالوں کا استعمال تقریباً 300 گرام سے کم ہو کر 200 گرام ہو گیا ہے۔

انڈوں کا استعمال بھی پاکستان میں عام ہے اور 2018 میں فی گھرانہ صرف تین انڈے کھاتے تھے جو اب کم ہو کر دو انڈے ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ چھوٹے اور بڑے گوشت، دودھ، چکن، آلو، پیاز، چینی اور دیسی گھی کا استعمال بھی 2018 کے مقابلے میں اب کم ہو گیا ہے، جبکہ ٹماٹر واحد ایسی چیز ہے جس کا استعمال 2018 کے مقابلے میں اب بڑھ گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان