بلوچستان: ملازمین کے احتجاج میں شدت، سرکاری امور متاثر

گرینڈ الائنس کی اپیل پر 21 جنوری سے کوئٹہ، پشین، چمن، خضدار اور ژوب سمیت کئی اضلاع میں سرکاری دفاتر کا نظام معطل ہے۔

بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی جاری ہڑتال نے صوبے بھر میں حکومتی امور کو شدید متاثر کیا ہے۔

گرینڈ الائنس کی اپیل پر 20 جنوری سے کوئٹہ، پشین، چمن، خضدار اور ژوب سمیت کئی اضلاع میں سرکاری دفاتر کا نظام معطل ہے۔

ملازمین کا بنیادی مطالبہ 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کی منظوری ہے۔

گرینڈ الائنس کے رہنما امین اللہ بشردوست کے مطابق پولیس نے 20 جنوری کو پریس کلب اور باچا خان چوک میں احتجاج کرنے والے ملازمین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ان کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں سینکڑوں ملازمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور جیل بھرو تحریک مزید دو ہفتے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حکومت ملازمین کے مسائل سے آگاہ ہے، تاہم ڈی آر اے کی ادائیگی سے خزانے پر 17 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملازمین نے صبر کا دامن چھوڑ کر قبل از وقت احتجاج شروع کیا جس کے باعث حکومت کو کارروائی کرنا پڑی۔

گرینڈ الائنس کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق باقی تینوں صوبوں میں یہ الاؤنس دیا جا چکا ہے، مگر بلوچستان کے ملازمین کو محروم رکھا گیا۔

الائنس کے رہنماؤں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حکومتی کمیٹی نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا، لیکن وزیر اعلیٰ اس کی توثیق نہیں کر رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ صوبے کا سالانہ بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے ہے جس کا 80 فیصد حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس غیر ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ صوبے کے ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں خرچ ہوتا ہے، جس کے بعد صوبے کی 1.3 کروڑ آبادی کی فلاح و ترقی کے لیے محض 200 ارب روپے بچتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران غیر متوازن مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔

کئی متروک اور غیر مؤثر سرکاری دفاتر بند کیے گئے، زکوٰۃ، مذہبی امور اور سول ڈیفنس جیسے غیر فعال محکمے تحلیل کر کے آٹھ ہزار غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ع

لاوہ ازیں غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی بھی کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اصلاحات کا یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، مگر ’احتجاج، دباؤ یا بلیک میلنگ کسی صورت حکومت کو عوام کے حق کے تحفظ سے نہیں روک سکتی۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان