لاہور: طویل پابندی کے بعد رنگوں سے بھری بسنت شروع، پتنگیں بلند ہو گئیں

پنجاب حکومت کے اعلان پر سخت شرائط کے ساتھ گذشتہ رات 12 بجے لاہور میں تین روزہ بسنت کے تہوار کا پتنگ بازی سے آغاز ہو گیا ہے۔

کارکن 3 فروری 2026 کو لاہور میں بسنت کا تہوار منانے والی پتنگ کا ایک بڑا ماڈل نصب کر رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

پنجاب حکومت کے اعلان پر سخت شرائط کے ساتھ گذشتہ رات 12 بجے لاہور میں تین روزہ بسنت کے تہوار کا پتنگ بازی سے آغاز ہو گیا ہے۔

پنجاب کے قدیمی ثقافتی تہوار بسنت تین روز 6 سے 8 فروری تک منعقد کیا جا رہا ہے۔ 

ایک طرف پتنگوں اور ڈوروں کی خریداری یکم فروری سے عروج پر رہی جبکہ دوسری جانب پورے لاہور کو روشنیوں اور پتنگوں سے دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے۔ 

تہوار کے ساتھ معاشی سرگرمیاں بھی بڑے پیمانے پر بحال ہو گئیں ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’بسنت پر حکومتی منظور شدہ معیار کی پتنگیں اور ڈور استعمال کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ بغیر حفاظتی راڈ موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہوگی۔ تاہم ٹرانسپورٹ تینوں دن مفت چلے گی۔‘

سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’پتنگوں اور ڈور کی دستیابی کے لیے حکومتی منظوری سے پشاور سمیت دیگر شہروں سے بھی پتنگیں اور ڈور منگوائی جا سکتی ہے۔ لیکن دھاتی اور کیمکل ڈور استعمال کرنے پر سخت کارروائی ہو گی۔‘

ترجمان پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں ایک ارب 24 کروڑ کی پتنگیں فروخت ہو چکی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ریستورانوں اور ہوٹلوں کی بکنگ سے بھی بسنت کے دوران کروڑوں روپے کی آمدن متوقع ہے۔ بسنت پر لوگوں کا شوق تو پورا ہو گا ہی شہر میں معاشی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔‘

دوسری جانب پتنگ بازی کے لیے اندرون لاہور لاکھوں روپے کرائے پر چھتیں حاصل کر کے شوقین محفلیں سجا رہے ہیں۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی پاکستانی بسنت منانے لاہور پہنچ چکے ہیں۔ 

پتنگ اور ڈور فروخت کرنے والے سراج احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں بہت کم وقت میں ڈوریں اور پتنگ تیار کرنے کی اجازت ملی اس لیے ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی پوری طرح یقینی نہیں بنائی جاسکی۔ تین دن پتنگ اور ڈور استعمال ہوں گے اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے محتاط رہے۔ تاہم پرانے کاریگروں نے ہی پتنگ اور ڈور تیار کی جو لوگوں کو مہنگی لگ رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہریوں کا شکوہ ہے کہ ڈور کا پنا 15سے 20 ہزار جبکہ پتنگ 200 سے 500 روپے تک مل رہے تھے لیکن بسنت کے قریب آتے ہی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پروازیں

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ رکھنے کے لیے لاہور ایئر پورٹ کے قرب و جوار میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ ایریاز میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 

ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق ایئرکرافٹ لینڈنگ ایریا میں نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک اور ڈی ایچ اے لاہور بلاکس پی، کیو، آر اور ایس شامل ہیں، جبکہ ایئرکرافٹ ٹیک آف کے راستے میں الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ سے ملحقہ کینال بینک روڈ اور تاجپورہ کے علاقے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان