ایپسٹین فائلز: شاہی فیملی اور نوبیل امن انعام، سب نشانے پر

آج دنیا ایپسٹین کی ای میلز، تصویروں اور ویڈیوز پر مبنی خفیہ فائلز کے آئینے میں بڑے بڑے عزت داروں کو برہنہ دیکھ رہی ہے۔

ناروے گذشتہ 120 برسوں سے نوبیل امن انعام جاری کر رہا ہے لیکن 1960 کے بعد مالدار ہونے والے ناروے نے سفارت کاری کے ذریعے امن کا لیڈر بننے کی ٹھانی۔

اوسلو کو دنیا کے جھگڑوں کا حل ڈھونڈنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنا کر پیش کیا گیا لیکن ایپسٹین فائلز نے جیسے ناروے کی 50 برسوں کی سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا ہو۔

امریکی بزنس مین، بچوں سے جنسی زیادتی کا مجرم اور دنیا کے اہم افراد کا دوست جیفری ایپسٹین خود تو 2019 میں مر گیا لیکن پیچھے ایک آئینہ چھوڑ گیا۔ آج دنیا ایپسٹین کی ای میلز، تصویروں اور ویڈیوز پر مبنی خفیہ فائلز کے آئینے میں بڑے بڑے عزت داروں کو برہنہ دیکھ رہی ہے۔

اب تک ناروے کی بادشاہت میں اگلی ملکہ میتے ماریت، ناروے کے سابق وزیراعظم یاگ لاند، سابق وزیر و ڈپلومیٹ تھاریے رود لارشن اور ان کی بیگم، صف اول کی سفیر مونا یول کے نام سامنے آئے ہیں۔

یہ ایپسٹین کے انتہائی قریبی سرکل کے لوگ تھے جو درجنوں بار ایپسٹین کے ساتھ رہے، دیکھے گئے اور کئی ہزار ای میلز اور پیغامات سے رابطے میں رہے۔

اگرچہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں لیکن ناروے کے عوامی حلقوں میں شہزادی میتے ماریت بالخصوص نشانے پر ہیں۔ پھیپھڑوں کی مزمن بیماری میں مبتلا شہزادی میتے کے شاید ستارے گردش میں ہیں کیونکہ گذشتہ دو برس سے ان کے سابق شوہر سے بیٹے ماریئس ہویبی کی گرفتاری، تفتیش اور اب عدالتی ٹرائل چل رہا ہے۔ ہویبی پر اپنی سابقہ گرل فرینڈ سمیت 4 خواتین کے ریپ کا الزام ہے۔

شہزادی میتے پر بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین فائلز دوسرا بم بن کر گری ہیں۔ شہزادی کی تصاویر، ایپسٹین سے انتہائی ذاتی نوعیت کا تعلق اور مستقل رابطوں کو سکیورٹی ماہرین صرف دوستی کی نظر سے نہیں دیکھ رہے۔ یہ ناروے کے شاہی محل میں براہ راست رسائی کی عجیب گنجلک کہانی ہے۔

ایپسٹین فائلز سے سپاٹ لائٹ میں آنے والے سابق نارویجن وزیراعظم تھور بیورن یاگ لاند بھی ہیں۔ خبروں کے مطابق یہ موصوف جیفری ایپسٹین کے ساتھ پیغامات میں نازیبا جنسی استعارے لکھتے تھے۔ ایپسٹین اور یاگ لاند کے درمیان لاکھوں ڈالرز کے مالی معاملات بھی چلتے رہے۔ یہ معاملہ صرف اخلاقی برائی تک محدود نہیں۔

ایپسٹین کے قریبی دوست یاگ لاند 2009 سے 2015 کے درمیان نوبیل پیس پرائز کمیٹی کے سربراہ تھے۔ ان کی زیر صدارت نوبیل کمیٹی نے امریکی صدر اوبامہ اور ملالہ یوسفزئی سمیت دیگر کو امن کا نوبیل انعام دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوبیل پیس کمیٹی جس کی شفافیت پر ناروے کو بڑا فخر ہے، ایپسٹین فائلز کے باعث آج یہ بھی میڈیا کو وضاحتیں دے رہے ہیں کہ کمیٹی کو ایپسٹین سے تعلق کا علم نہیں تھا۔

ناروے کے شاہی خاندان اور نارویجن نوبیل کمیٹی کے بعد باری آتی ہے نارویجن وزارت خارجہ کی۔ ناروے کی ڈپلومیٹک تاریخ میں سب سے طاقتور سمجھے جانے والے ڈپلومیٹ جوڑے تھاریے لارشن اور ان کی بیگم مونا یول کو اس وقت تاریخی شرمندگی کا سامنا ہے۔

ناروے کے سکیورٹی ماہرین سر کھجا رہے ہیں کہ ایپسٹین نے اپنے مرنے سے تین روز قبل لکھی جانے والی وصیت میں جن دو نارویجن نوجوان بہن بھائیوں کو 10 ملین ڈالرز کا وارث قرار دیا ہے وہ اس سٹار ڈپلومیٹ جوڑے کے بچے ہیں۔

مونا یول اور تھاریے لارشن وہ دو سفارت کار ہیں جنہوں نے 1990 سے 1993 کے درمیان فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کے درمیان طویل مذاکرات کروائے۔ وہی اوسلو اکارڈ جس نے بعد میں آزاد فلسطینی ریاست کی جدوجہد کو شدید نقصان پہنچایا، یہ اوسلو اکارڈ دراصل اسی سفارت کار جوڑے کا برین چائلڈ تھا۔

نارویجن اخبارات کے مطابق اس نارویجن سفارت کار جوڑے کی سفارش پر اوسلو اکارڈ کے ایک سال بعد یاسر عرفات، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن اور شمعون پیریز کو ناروے میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔

اب نارویجن میڈیا سر دھن رہا ہے کہ ٹھیک آٹھ سال بعد اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز نے اسی نارویجن جوڑے کو اسرائیل بلا کر پیریز امن انعام کے نام پر ایک لاکھ ڈالر دے ڈالا۔ اس نارویجن سفارت کار جوڑے کے بچے ایپسٹین کے وارث کیسے بن گئے، ایپسٹین کس کا ایجنٹ تھا، وجہ سمجھنا اتنا بھی مشکل نہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم بھی لتھڑا ہوا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے سربراہ بورگ بریندا سابق نارویجن وزیر خارجہ ہیں۔ یہ صاحب بھی ایپسٹین کے مبینہ دوست تھے۔ رپورٹس ہیں کہ بریندا اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں میں ڈیوس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک کانفرنس اور دیگر سیاسی معاملات پر بات ہوتی رہی۔

ادھر سوئٹزرلینڈ میں پہلے ہی مشہور زمانہ ورلڈ اکنامک فورم کے بورڈ میں مالی بے ضابطگیوں کی تفتیش کھلی ہے۔

شفاف لوگوں کے کالے کرتوت سنانے کو اور بڑی کہانیاں ہیں۔ ناروے کی بطور امن بروکر، عالمی ثالث بننے کی کوشش کا نکتہ عروج اوسلو اکارڈ تھا، اس میں ناروے کیسے اسرائیل کے ہاتھوں استعمال ہوا یہ کل تماشا ہم آج دیکھ رہے ہیں۔

نوبیل امن کمیٹی کی بچی کھچی ساکھ ایپسٹین فائلز کی نذر ہو گئی۔ ابھی تو شروعات ہے، مشرق کو تیسری دنیا کا نام دینے والے یہ امن کے نام نہاد بیوپاری نجانے اور کتنے بے نقاب ہوں گے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر