بلوچستان: طاقت کے ساتھ سیاسی عمل کی ضرورت

شورش کی دھار کند کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کے بعد ضروری سیاسی عمل کا ہونا لازمی ہے تاکہ نظریاتی طور پر سخت گیر عناصر کو الگ کیا جا سکے۔

31 جنوری 2026 کی اس تصویر میں کوئٹہ میں سکیورٹی اہلکار ایک سڑک پر گشت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 اضلاع میں بیک وقت مربوط حملے کیے۔

عسکریت پسند تنظیم نے اسے نام نہاد ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ (فیز ٹو) قرار دیا، جس کا پہلا مرحلہ اگست 2024 میں مکمل کیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے دہشت گردوں پر غلبہ پاتے ہوئے انہیں تیزی سے بےاثر کر دیا اور انہیں کوئی بھی سٹریٹیجک فائدہ حاصل نہیں کرنے دیا، تاہم ان بیباکانہ حملوں کا پیمانہ اور انداز بلوچستان کی غیر مستحکم سکیورٹی صورت حال کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔

اس پس منظر میں، سکیورٹی فریم ورک میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے ’ہیروف 2.0‘ کے کچھ اہم پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوا اسے وسیع تر علاقائی کشیدگی، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ سے الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اگر امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حملہ کرتا ہے، تو اس سے پیدا ہونے والا انتشار نہ صرف پاکستان میں سرایت کر جائے گا بلکہ یہ بلوچ شورش پسندوں اور دیگر علاقائی عسکریت پسند تنظیموں کو استحصال کرنے اور اپنے قدم جمانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔ افراتفری اور غیر یقینی کے آپریشنل ماحول میں بلوچستان کے وسیع و عریض کم گنجان آباد علاقے ان گروہوں کے لیے پرکشش ثابت ہوں گے۔

مزید برآں، بیک وقت کئی مقامات پر مربوط حملے کرنے کے لیے افرادی قوت، فائر پاور، مالیات، گوریلا جنگ میں مہارت، تزویراتی بصیرت اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پروپیگنڈا کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بی ایل اے نے ’ہیروف 2.0‘ میں ان تمام عناصر کا مظاہرہ کیا۔ جس لمحے بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے ہیروف 2.0 کا آغاز کیا، گروپ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ویڈیوز، آڈیو بیانات اور انفوگرافکس کی شکل میں اپ ڈیٹس پھیلانا شروع کر دیں۔

ایسا کرتے ہوئے بی ایل اے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس نے کچھ اضلاع میں سکیورٹی کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔

اگرچہ بی ایل اے کے دعووں میں مبالغہ آرائی واضح ہے کیونکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان کی پیش قدمی کو تیزی سے پسپا کر دیا اور حملہ آوروں کو مار ڈالا، لیکن یہ تنازع میدانِ جنگ میں ایک ایسے ڈیڈ لاک کا شکار نظر آتا ہے جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے پر فوجی حل مسلط کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

یہ ڈیڈلاک کسی سیاسی حل کے بغیر جتنا طویل ہو گا، بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال اتنی ہی زیادہ پرتشدد ہوتی جائے گی۔ ریاست کو اپنی موجودہ حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی انسدادِ شورش کے فوجی جزو کو سیاسی حکمت عملی کے تابع لایا جا سکے، جو کسی بھی اچھی انسدادِ شورش پالیسی کا خاصہ ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شورش کی دھار کند کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کے بعد ضروری سیاسی عمل کا ہونا لازمی ہے تاکہ نظریاتی طور پر سخت گیر عناصر کو ان لوگوں سے الگ کیا جا سکے جو دیگر وجوہات کی بنا پر شورش میں شامل ہوئے ہیں۔ اس طرح ریاست شورش کو کمزور کر سکتی ہے اور مفاہمت نہ کرنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہے۔

نیز، بی ایل اے اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند گروہ ہائی پروفائل حملوں میں حکمت عملی کے تحت خاتون خودکش بمباروں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ نمائش اور میڈیا کی توجہ حاصل کی جا سکے اور صنفی طاقت کو اپنے سیاسی مقاصد اور سماجی و اقتصادی شکایات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

وہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خواتین بڑی تعداد میں ان کی صفوں میں شامل ہو رہی ہیں۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ اب تک جنگی کارروائیوں میں صرف پانچ سے چھ خواتین خودکش بمبار استعمال کی گئی ہیں۔

خواتین کی شرکت کو بھرتی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور خواتین خودکش بمباروں کو شورش کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ رکاوٹوں کو کم کر کے مزید خواتین کو راغب کیا جا سکے۔

ساتھ ہی، یہ بلوچستان کے پدر شاہی معاشرے میں مردوں کو شرم دلانے کی ایک احتیاط سے تیار کردہ حکمت عملی ہے تاکہ وہ بڑی تعداد میں شورش میں شامل ہوں۔

’ہیروف 2.0‘ میں دو خواتین خودکش بمباروں کا استعمال کیا گیا اور ساتھ ہی ایک اور خاتون جنگجو کی پروپیگنڈا ویڈیو کلپ جاری کی گئی جس کا مقصد یہ تاثر قائم کرنا تھا کہ خواتین باغی اپنے مرد ساتھیوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔

دوسرا قابلِ غور نکتہ یہ تھا کہ ’ہیروف 1.0‘ کے برعکس، جو رات کی تاریکی میں شروع کیا گیا تھا، ’ہیروف 2.0‘ کا آغاز دن کی روشنی میں کیا گیا۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بی ایل اے کا سربراہ بشیر زیب موٹر سائیکل پر سوار ایک ویڈیو میں نمودار ہوا، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ تنازعے کے محاذ پر خود ’ہیروف 2.0‘ کی قیادت کر رہا ہے اور ساتھ ہی گروپ کی پرتشدد بیس کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایران میں اپنی موجودگی کے تاثر کی بھی نفی کی۔

مزید برآں، بی ایل اے نے کوئٹہ (بشمول اس کے ریڈ زون)، گوادر اور نوشکی جیسے سٹریٹیجک اہمیت کے حامل شہروں کو نشانہ بنایا۔ یہ شورش کے ایک دفاعی اور قبائلی جدوجہد سے (جو بلوچستان کے کچھ علاقوں تک محدود تھی) ایک شہری اور متوسط طبقے کی تحریک میں ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے جو اب جارحانہ انداز اپنا رہی ہے اور جنگ کو بڑے شہروں تک لے جا رہی ہے۔

ہیروف 2.0 کا ایک اور سفاکانہ پہلو، جو ہیروف 1.0 اور دیگر واقعات میں بھی دیکھا گیا، پنجابی مزدوروں کا قتل ہے۔ یہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے دانستہ اشتعال انگیزی ہے تاکہ ریاست کو شدید ردعمل پر مجبور کیا جا سکے جس سے وہ بلوچ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں۔

بلوچستان میں پنجابیوں کو سرکاری مخبر ہونے یا سکیورٹی فورسز میں خدمات انجام دینے کے بہانے قتل کیا جاتا ہے۔ ایسا کر کے وہ پنجاب میں بلوچوں کے خلاف غصہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے اپنے تشدد کے جواز، علیحدگی پسند بیانیے کی تشہیر اور ناراض بلوچوں کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اگر میدانِ جنگ کا موجودہ جمود کسی سیاسی حل کے بغیر برقرار رہا تو تشدد میں مزید اضافہ ہوگا۔ بلوچستان کی حالیہ تاریخ میں دو بار، ایک بار 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران (جب بلوچستان پیکیج اور 18ویں ترمیم آئی) اور پھر 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی طرف سے شروع کیے گئے مصالحتی عمل نے بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال کو بہتر بنایا تھا۔

اگر ایک حقیقی سیاسی عمل سنجیدگی سے شروع کیا جائے تو یہ اب بھی امن کے ثمرات دے سکتا ہے۔ بصورت دیگر، تشدد کا یہ خونی چکر جاری رہے گا، اور دشمن ایجنسیاں پاکستان کی دکھتی رگ کا فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

(مصنف ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں)

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر