پاکستانی سیاسی قیادت: انتقام، رحم اور اخلاقیات

تاریخ یہ نہیں دیکھتی کہ کون کتنا عرصہ اقتدار میں رہا، بلکہ یہ یاد رکھتی ہے کہ کس نے طاقت کے باوجود انصاف اور رحم کو زندہ رکھا۔

نواز شریف اور عمران خان دونوں کو دورانِ حراست صحت کے مسائل کا سامنا رہا ہے (اے ایف پی)

سیاسی طور پر منقسم معاشروں میں قیادت کا اصل کردار فتح یا اقتدار کے لمحوں میں نہیں بلکہ اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب طاقت سیاسی مخالفین پر استعمال کی جائے، خصوصاً اس وقت جب وہ مخالف کمزور، قید میں یا بیماری کی حالت میں ہو۔

آج پاکستان ایسے ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ بحث کا مرکز صرف سابق وزیراعظم عمران خان کی قید نہیں بلکہ ایک کہیں زیادہ گہرا اخلاقی سوال ہے: ایک ایسی ریاست جو آئینی، سماجی اور فکری طور پر خود کو اسلام سے منسوب کرتی ہے، وہ اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ بیماری، قید اور انسانی وقار جیسے معاملات میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے؟ 

یہ سوال محض جماعتی سیاست کا نہیں بلکہ اخلاقی طرزِ حکمرانی کا ہے۔ قرآنِ کریم حکمرانوں کے لیے ایک بنیادی اصول واضح کرتا ہے: ’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو کہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘ (سورۃ المائدہ: 8)۔ یہ اصول علامتی نہیں بلکہ عملی ہے، جو خاص طور پر اسی وقت رہنمائی کرتا ہے جب جذبات، اقتدار اور سیاسی انتقام غالب آنے لگیں۔

عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان کو ایک نہایت حساس اور مشکل سیاسی لمحے کا سامنا کرنا پڑا، جب ان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف سابق وزیراعظم نواز شریف شدید علیل ہو گئے۔ 

میڈیکل بورڈز کی رپورٹوں کے مطابق ان کی جان کو حقیقی خطرات لاحق تھے، جس کے بعد حکومت کے سامنے ایک واضح مگر کٹھن انتخاب تھا: سیاسی فائدہ یا انسانی جان کی حفاظت؟

شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود بالآخر ریاست نے نواز شریف کے بیرونِ ملک علاج کی اجازت دی۔ اس فیصلے کے پیچھے اس وقت کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا کردار نمایاں تھا۔ ان دونوں رہنماؤں نے طبی ماہرین، قانونی فورمز اور انتظامی اداروں سے رابطے کر کے اس بات پر زور دیا کہ بیماری کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ ڈاکٹروں کی رائے کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

تاہم معاملے کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بعد میں عمران خان نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی غلط میڈیکل رپورٹیں پیش کی گئی تھیں اور انہیں ملک سے جانے دینا ’سب سے بڑی غلطی تھی۔‘ دوسری جانب عمران خان کے دور میں رانا ثناء اللہ، مریم نواز، فریال گوہر سمیت متعدد دیگر سیاسی مخالفین کو قید و بند کی صعوبتیں بھی بھگتنا پڑیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہرحال، نواز شریف کو باہر بھیجنے کا یہ اقدام عمران خان کی حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا، مگر اس کے باوجود انسانی ہمدردی کو ترجیح دی گئی۔

 اسلامی فکر میں یہ تصور بہت گہرا ہے کہ احتساب اور ظلم کے درمیان واضح لکیر ہونی چاہیے۔ اسلام انسانی جان کے تحفظ کو اعلیٰ ترین اخلاقی مقاصد میں شمار کرتا ہے، جسے مقاصدِ شریعت میں ’حفظِ نفس‘ کہا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: ’جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔‘ (سورۃ المائدہ: 32)۔

آج حالات پلٹ چکے ہیں۔ عمران خان خود قید میں ہیں اور ان کی صحت سے متعلق مسلسل خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ آزاد اور شفاف طبی معائنوں تک رسائی، مکمل میڈیکل بورڈ اور ذاتی معالجین کے حوالے سے بارہا سوالات اٹھائے گئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کو جنم دیا ہے۔ موجودہ حکومت، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، کے دور میں یہ معاملہ محض قانونی قید سے آگے بڑھ کر سیاسی انتقام کے تاثر میں ڈھلتا دکھائی دیتا ہے۔ 

اسلامی اخلاقیات کے نقطۂ نظر سے یہ فرق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ رسول اللہ نے قیدیوں اور مریضوں کے حقوق کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کا خیال رکھو۔‘ (بخاری)۔ 

یہ احکامات کسی شرط، جماعت یا وابستگی سے مشروط نہیں تھے۔ مگر آج وہ انسانی نرمی جو ایک وقت میں نواز شریف کے لیے اختیار کی گئی تھی، وہی عمران خان کے معاملے میں دکھائی نہیں دیتی۔ 

اسلامی تاریخ ایسے لمحات میں واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر، جب رسول اللہ کو مکمل اقتدار حاصل تھا اور دشمن بالکل بےبس تھے، آپ نے ان تمام افراد کو معاف کر دیا جنہوں نے برسوں تک ظلم کیا، قتل کی سازشیں کیں اور آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، اور فرمایا: ’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، تم سب آزاد ہو۔‘ یہ واقعہ اسلامی قیادت کا وہ معیار متعین کرتا ہے جہاں طاقت کا سب سے بڑا اظہار انتقام نہیں بلکہ درگزر ہوتا ہے۔‘ 

اسی طرح حضرت عمر بن خطاب کے دور میں غیر مسلم رعایا تک کو بیت المال سے وظائف دیے گئے، اس اصول کے تحت کہ ریاست کی ذمہ داری انسان ہونے سے جنم لیتی ہے، نہ کہ وفاداری سے۔ یہ مثالیں محض مذہبی واقعات نہیں بلکہ اسلامی طرزِ حکمرانی کی اخلاقی بنیاد ہیں۔ 

موجودہ حکومت کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ قانون کو بلا امتیاز اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ بات ادارہ جاتی سطح پر درست ہو سکتی ہے، مگر اخلاقیات صرف قانونی تقاضوں تک محدود نہیں ہوتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی نظام بظاہر قانون کے تحت چلتے رہے مگر انسانی وقار کو پامال کرتے رہے۔ اسلامی سیاسی فکر اس سے بلند معیار کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ انصاف کے ساتھ رحم، قانون کے ساتھ ضمیر اور اختیار کے ساتھ احساسِ ذمہ داری کو لازم قرار دیتی ہے۔

قرآنِ کریم واضح حکم دیتا ہے: ’بے شک اللہ عدل، احسان اور رحم کا حکم دیتا ہے۔‘ (سورۃ النحل: 90)۔ جب طبی سہولت جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاسی دشمنی سے مشروط کر دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی اس قرآنی اصول سے ہٹ جاتا ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ صورت حال کو محض سیاسی عدم استحکام کے طور پر نہیں بلکہ اخلاقی توازن کے بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کسی سیاسی جماعت کے حامی نہیں ہوتے، مگر وہ انسانی حقوق، قیدیوں کے وقار اور علاج کے حق جیسے عالمی اصولوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ جب یہ اصول منتخب انداز میں لاگو ہوں تو ریاست کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ سفارتی محاذ پر بھی۔ ایک ایسا ملک جو خود کو مسلم دنیا میں اخلاقی مقام کا خواہاں سمجھتا ہے، اس کے لیے یہ تضاد معمولی مسئلہ نہیں۔

آج پاکستان کی قیادت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ فیصلہ سیاست اور کمزوری کے درمیان نہیں بلکہ انتقام اور اخلاقی ضبط کے درمیان ہے۔ رحم احتساب کو ختم نہیں کرتا، ہمدردی اداروں کو کمزور نہیں بناتی، مگر انسانی وقار کی نفی دونوں کو کھوکھلا ضرور کر دیتی ہے۔ 

اسلامی روایت میں اقتدار کی اصل طاقت سزا دینے کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس صلاحیت کے باوجود انسانیت برقرار رکھنے میں ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ نہیں دیکھتی کہ کون کتنا عرصہ اقتدار میں رہا، بلکہ یہ یاد رکھتی ہے کہ کس نے طاقت کے باوجود انصاف اور رحم کو زندہ رکھا۔ ایسے لمحات میں انصاف نعروں سے نہیں بلکہ طاقت کے ساتھ رحم سے پہچانا جاتا ہے۔

کالم نگار صحافی اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ 

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر