پاکستان اور سعودی عرب کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہیں

ایران کی جنگ نے خلیج کے سٹریٹیجک ماحول کو بدل دیا ہے اور خطہ خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 12 مارچ، 2026 کو جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کر رہے ہیں (ایکس/پی ٹی وی نیوز آفیشل)

جدہ میں جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ غیر معمولی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔

ایران کی جنگ نے خلیج کے سٹریٹیجک ماحول کو بدل دیا ہے اور خطہ کئی دہائیوں میں اپنے خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے شراکت داروں کے خلاف ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں، توانائی کی منڈیوں میں خلل، اور کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات نے خلیج اور وسیع تر مسلم دنیا کے استحکام کے بارے میں سنجیدہ تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں سعودی اور پاکستانی قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہم آہنگی کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس تازہ ترین اعلیٰ سطح کی ملاقات میں بات چیت کا مرکز علاقائی سلامتی، مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں، اور دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ شراکت داری رہی۔ اس طرح کے کڑے وقت میں دونوں ملکوں نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے جس نے طویل عرصے سے ان کے تعلقات کی پہچان بنائی ہے: ’خطے میں استحکام اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا۔‘

بحران کے بارے میں سعودی عرب کا رویہ علاقائی استحکام، ذمہ دار قیادت اور سفارت کاری کے لیے مملکت کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور دور اندیش قیادت میں مملکت نے ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن میں اپنی خودمختاری کا مضبوط دفاع بھی شامل ہے اور بات چیت اور علاقائی امن کے لیے واضح عزم بھی۔ اس متوازن رویے نے ایک ہنگامہ خیز خطے میں سعودی عرب کے کردار کو استحکام کے ایک مضبوط ستون کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔

موجودہ بحران دونوں ملکوں کے لیے غیر معمولی چیلنج لے کر آیا ہے۔ ایران کی جنگ نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، سمندری تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اور پوری خلیج میں نہایت اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے اس معاملے میں اپنے علاقے، توانائی کی تنصیبات، اور عالمی توانائی کے استحکام کو یقینی بنانے میں اپنے اہم کردار کا تحفظ شامل ہے۔

پاکستان کے لیے اس بحران کے سنجیدہ معاشی اور سٹریٹیجک اثرات ہیں، جن میں توانائی کی بڑھتی لاگت سے لے کر خلیج بھر میں رہنے اور کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی تک سب کچھ شامل ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں گذشتہ ستمبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

اگرچہ یہ معاہدہ موجودہ تنازع سے پہلے طے پایا تھا، لیکن اب یہ غیر معمولی طور پر بروقت دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول ’ایک شراکت دار کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی‘ دونوں ملکوں کی قیادت کی تزویراتی دور اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب علاقائی سکیورٹی انتظامات کے بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے، یہ معاہدہ نہ صرف روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دو دیرینہ شراکت داروں کے درمیان اعتماد کو بھی بڑھاتا ہے۔

اس فریم ورک کی عملی اہمیت حال ہی میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب پاکستان کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مشاورت کی اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی عملی روح کی عوامی سطح پر توثیق کی۔ پاکستان نے مملکت کے دفاع کے لیے اپنے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا، اور یہ عزم دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی فوجی تعاون اور باہمی اعتماد میں جڑا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے وقت میں یہ واضح تزویراتی اشارہ ایک اہم روک تھام کا مقصد پورا کرتا ہے، جس سے سعودی سکیورٹی کو یقین دہانی ملتی ہے اور دوطرفہ دفاعی شراکت داری کی ساکھ بھی مضبوط ہوتی ہے۔

لیکن آج جو یکجہتی دکھائی دے رہی ہے وہ کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایسے تعلق کی عکاسی کرتی ہے جو کئی دہائیوں میں صبر کے ساتھ تعمیر ہوا ہے، اور جس کی بنیاد مشترک تاریخ، باہمی احترام اور دونوں معاشروں کے درمیان گہرے انسانی رشتوں پر ہے۔

اس شراکت داری کی بنیادیں کئی دہائیاں پہلے پڑی تھیں۔ پاکستان کے قیام سے بھی پہلے جزیرہ نمائے عرب اور برصغیر کے عوام کے تعلقات تجارت، ایمان اور علمی تبادلے سے جڑے ہوئے تھے۔ 1947 میں پاکستان کے ایک خودمختار ریاست کے طور پر سامنے آنے کے بعد سعودی عرب جلد ہی مسلم دنیا میں اس کا قریبی ترین شراکت دار بن گیا۔

وقت کے ساتھ یہ تعلق ایک وسیع تزویراتی شراکت داری میں ڈھل گیا، جس میں سفارت کاری، دفاعی تعاون اور معاشی اشتراک شامل تھا۔ دفاعی تعلقات اس کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک بن گئے۔ 1960 کی دہائی کے آخر سے پاکستان اور سعودی عرب نے فوجی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی، جس کے تحت پاکستانی افسران اور ماہرین نے مملکت کے دفاعی اداروں میں تربیت اور جدید کاری میں کردار ادا کیا۔

ان انتظامات نے اعتماد کی ایسی روایت پیدا کی جو مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور سکیورٹی تعاون کی کئی دہائیوں کے دوران مزید گہری ہوتی گئی۔ اس لیے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اس تعلق کا آغاز نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط قریبی تعاون کا فطری ادارہ جاتی ارتقا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان انسانی روابط نے بھی اس شراکت داری کو مضبوط کیا ہے۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں، مملکت کی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے وطن سے مضبوط تعلق بھی برقرار رکھتے ہیں۔

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر اپنے برسوں کے دوران میں نے خود پاکستانی عوام کی مملکت کے لیے گرمجوشی، وفاداری اور اخلاص کو قریب سے دیکھا۔ حکومتی قیادت سے لے کر عام شہریوں تک، سعودی عرب کے لیے ہمیشہ گہرا احترام اور محبت پائی جاتی تھی، اور ہماری دونوں قوموں کے درمیان پائیدار تعلق کے لیے سچا عزم بھی۔ اسی لیے میں گواہی دے سکتا ہوں کہ سعودی پاکستان تعلقات کی مضبوطی صرف سفارت کاری یا حکمت عملی میں نہیں بلکہ ہمارے عوام کے درمیان موجود حقیقی دوستی میں بھی ہے۔

آج اس تعلق کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ ایران کی جنگ نے خلیج کے خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں، جن میں توانائی کے ڈھانچے پر حملے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس لیے خلیج کا استحکام نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ وسیع تر عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔

ایسی صورت حال میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان شراکت داری روک تھام اور استحکام کے ایک وسیع تر ڈھانچے میں حصہ ڈالتی ہے۔ اسی کے ساتھ دونوں ملک اس بات کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں کہ فوجی کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جائے۔ پاکستان نے علاقائی فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہے اور ساتھ ہی سعودی سکیورٹی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے اپنے دفاعی انتظامات کو مضبوط کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

دونوں ملکوں کا مشترک مقصد واضح ہے کہ اس بحران کو ایک ایسے وسیع تر علاقائی تنازع میں پھیلنے سے روکنا جو پورے خطے کو نقصان پہنچائے۔

آگے بڑھتے ہوئے، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان شراکت داری مسلم دنیا میں استحکام کا ایک اہم ستون بنی رہے گی۔ عرب اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی قیادت، اور پاکستان کی تزویراتی صلاحیتوں اور انسانی وسائل کا امتزاج ایک ایسے تعلق کو جنم دیتا ہے جس میں گہرائی بھی ہے اور مضبوطی بھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیر یقینی کے لمحات میں پائیدار شراکت داریاں اپنی اصل قدر دکھاتی ہیں۔ جدہ کی یہ ملاقات اس بات کی یاد دہانی تھی کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ایسا تعلق قائم کیا ہے جو جغرافیائی سیاست کے دباؤ اور علاقائی ہنگاموں کے جھٹکوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مشترک تاریخ، باہمی احترام اور امن و استحکام کے لیے یکساں عزم کی رہنمائی میں سعودی عرب اور پاکستان کڑے وقت میں ایک ساتھ کھڑے رہیں گے، اور نہ صرف اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے بلکہ پورے وسیع خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھی کام کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر علی عواض العسیری ریاض میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایرانیَن اسٹڈیز کے نائب چیئرمین اور پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر