ایک جانب جہاں دوسروں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی وہیں ریاض اور اسلام آباد نے اس پر قابو پانے کے لیے ناصرف کام کیا بلکہ یقینی بنایا کہ سفارت کاری فعال ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کی رکن ان معیشتوں نے بھی پاکستان کی معاشی بحالی اور استحکام میں اپنا حصہ ڈالنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔