پاکستان سعودی عرب تعلقات: اتنے اہم کہ ناکام نہیں ہو سکتے

پاکستان سعودی عرب تعلقات میں حالیہ مبینہ تناؤ کے معاملے پر پاکستان میں سابق سعودی سفیر کی خصوصی تحریر۔

(روئٹرز)

اکستانی ذرائع ابلاغ میں حالیہ دنوں میں پریشان کن اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہیں بعد میں بیرونی میڈیا نے اٹھایا۔ ان اطلاعات کا مقصد سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی شراکت داری کو نقصان پہنچانا ہے۔

بظاہر یہ اطلاعات اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) کے مسئلہ کشمیر پر اصولی مؤقف پر سوال اٹھا کر اور اسے سعودی عرب کی پاکستان کے لیے معاشی امداد کے ساتھ جوڑ کر مسلم امہ کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کے لیے پھیلائی گئیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ حقیقت ہے کہ ان نقصان دہ اطلاعات کے لیے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پانچ اگست کو ایک مقامی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہے گئے جملوں کو بنیاد بنایا گیا۔

 اس انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس بلانے میں پاکستان کی توقعات پر پورا اترنے ناکام رہی تو اس صورت میں وہ ’وزیراعظم عمران سے یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ان اسلامی ملکوں کا اجلاس بلایا جائے جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور مظلوم کشمیریوں کی حمائت کے لیے تیار ہوں۔‘

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ریمارکس کے بعد میڈیا نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی ہنگامی اقتصادی امداد معطل کرنے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ او آئی سی اور نتیجے کے طور اس کے بانی سعودی عرب پر الزام لگایا گیا کہ وہ کشمیر کاز کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہا۔

افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک کسی نے ان دو معاملات پر سعودی نقطۂ نظر جاننے کی زحمت نہیں کی جن کا دور دور تک آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی حقیقت میں درست ہیں۔ اس لیے ریکارڈ کی درستی کے لیے وضاحت بہت ضروری ہو گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافتی اور سماجی اقدار کی بنیا پر جس سطح پر مفاہمت اور دوستی ہمیشہ سے موجود ہے اس کا کسی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

دونوں ملکوں کے منفرد تعلقات کی جڑیں دو طرفہ عوامی محبت میں ہیں۔ اس طرح دو عظیم قوموں میں حکومت یا قیادت کی تبدیلی سے دو طرفہ تعلقات متاثر نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے گزرنے والی ہر دہائی میں سیاسی، سلامتی اور اقتصادی میدان میں پاک سعودی تعاون میں بڑھ چڑھ کر اضافہ ہوا ہے۔

فروری 2019 میں دونوں ملکوں کی سٹریٹیجک شراکت داری کی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر وزیراعظم عمران خان نے ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہاؤس تک ان کی گاڑی خود چلائی۔

ان کے درمیان ذاتی تعلق جو کہ ایک سال قبل قائم ہوا تھا اس کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے۔ ولی عہد نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر سے زائد کے معاشی ریلیف پیکج پر دستخط کیے جن میں تین ارب ڈالر کا قرض اور 3.2 ارب ڈالر کا ادھار تیل اگلے تین سال کے لیے دیا جانے تھا۔ اس سے پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزرو میں اضافہ ہوا اور ادائیگیوں کے توازن میں بحران کو ٹالا گیا۔

یہ ہنگامی ریلیف پیکج گذشتہ دو دہائیوں میں دیے جانے والے پیکیجز کا ایک تسلسل تھا جب سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معیشت کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مدد کی جاتی رہی لیکن اس بار یہ معاشی بحران سنگین تھا کیونکہ پاکستان اپنا بیرونی قرضہ نہ ادا کر پانے پر دیوالیہ ہو سکتا تھا۔

سعودی عرب وہ پہلا ملک تھا جس نے نومبر 2018 میں پاکستان کو 6.2 ارب ڈالرز کا ریلیف پیکج دیا تھا۔ بعد میں متحدہ عرب امارات بھی اس میں شامل ہو گیا۔ یہ آئی ایم ایف کی جانب سے جولائی 2019 میں چھ ارب ڈالرز کے قرض کی منظوری سے مہینوں پہلے کی بات ہے۔

لیکن اس کے باوجود ولی عہد کے دورے کے دوران پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سعودی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا جس میں گوادر میں 20 ارب ڈالرز کی آئل ریفائنری اور 10 ارب ڈالرز کے پیٹروکیمیکل کمپلیس، کان کنی اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے شامل تھے۔

یہ اہم بات تھی کہ سعودی عرب اب پاکستان کی ترقی کے عمل میں طویل المدتی دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ سی پیک یعنی چین پاکستان معاشی راہداری کا اختتام گوادر پر ہوتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین سعودی تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع کر رہا ہے جس وجہ سے وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بننا چاہتا ہے اور ایشیا کی ابھرتی معیشتوں کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے معاشی تعاون میں حالیہ توسیع بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک سے تضاد نہیں رکھتی بلکہ یہ دو مسلمان ملکوں کے لیے بھی اہم ہے جو ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر 1990 میں پاکستان نے عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنی زمینی فوج بھیجی۔ تین دہائیاں بعد پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف دہشت گردی سے جنگ کے لیے بنائے جانے والے 41 ملکی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کر رہے ہیں۔

حرمین شریفین کے تقدس سے دفاع تک دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پاکستان سعودی عرب کا ساتھی اور ایک اہم مسلمان ملک رہا ہے۔

پاکستان میں 2001 سے 2009 تک کے اہم ترین وقت میں بطور سفیر کے کام کرنے کے بعد مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دونوں اقوام نے نائن الیون کے بعد کس طرح دہشت گردی کا سامنا کیا اور مل کر کیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششیں کی۔

میں نے پاکستان کے استحکام کے لیے سول اور فوجی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق رکھا۔ مجھے وہ افسوس ناک دن بھی یاد ہے جب ایک تباہ کن زلزلے نے جموں و کشمیر میں تباہی پھیلا دی اور سعودی عرب نے متاثرین کی مدد کے لیے ایک ہوائی راہداری فوری طور پر قائم کر دی۔

سعودی عرب اور پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے اور کشمیر اور افغانستان کے لیے بھی مشترکہ سوچ رکھتے ہیں اور قریبی تعاون کرتے ہیں۔ میری ذاتی سوچ کے مطابق جب پاکستان نے پانچ اگست کو یوم استحصال منایا تو میں نے کشمیری مسلمانوں ہونے والے مظالم اور اس مسئلے کو جلدی حل کرنے کے لیے ایک کالم لکھا۔

لیکن اگلی صبح مجھے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کشمیر پر آو آئی سی کو کردار پر دیے جانے والا بیان دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ در حقیقت او آئی سی کا رابطہ گروہ جس کی سربراہی سعودی سفیر يوسف الضبيعی کرتے ہیں، رواں سال مارچ میں ایک ہفتے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کا دورہ کر چکے ہیں۔

جون میں اس رابطہ گروپ کی ایک آن لائن میٹنگ بھی ہوئی ہے جو آو آئی سی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر یوسف اے العثمین کی سربراہی میں ہوئی ہے۔ جنہوں نے او آئی سی کی مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور جو اسلامک سمٹ، وزرائے خارجہ کونسل اور بین الااقوامی قوانین کے مطابق ہو۔

کشمیر پر پاکستان کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 اور جموں و کشمیر ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ قوانین 2020 کو بھی مسترد کیا جن کا مقصد کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا تھا۔

او آئی سی نے کشمیری عوام کی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہکی  سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے پر مجبور کریں۔

او آئی سی سیکریٹری جنرل اور رابطہ گروپ کے ان اقدامات کے بعد وزرائے خارجہ کونسل کی کشمیر پر ایک اور اعلامیے کی گنجائش کم ہی رہتی تھی۔

دوسری جانب عالمی وبا نے بھی بڑے سفارتی اجتماع کے امکانات کو کم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود وزیر خارجہ قریشی کی جانب سے او آئی سی کی ساکھ کو نقصان پہچانے کے لیے وزرائے خارجہ کونسل کی ملاقات کا تقاضہ کیا گیا۔

ایک سال قبل پاکستان نے اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی جب اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلوانے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ایسا بھارت کی جانب سے کشمیر بھارت سے الحاق کے بعد کیا گیا تھا اور اس متنازع علاقے میں اس وقت لاک ڈاون نافذ تھا۔

بدقسمتی سے تب سے شاہ محمود قریشی کشمیر پر اپنی کامیاب ابتدائی سفارت کاری کو مزید آگے نہیں بڑھا سکے۔ ان کی جانب سے او آئی سی پر الزام کی ایک وجہ ان کی اپنی ناکامی کو چھپانا بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن سعودی نقطۂ نظر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کشمیر پر ’اسلامی ممالک کی میٹنگ‘ جو او آئی سی کے بغیر بلائی جائے گی، تشویش ناک ہے۔ سعودی عرب اسلام کا قلعہ ہے جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ موجود ہیں۔ اس لیے اس نے ہمیشہ اسلامی امہ میں تقسیم کی کوششوں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔

پاکستان نے گذشتہ دسمبر میں کوالالمپور سربراہی اجلاس کا بائیکاٹ کر کے دانش مندی کا ثبوت دیا تھا جو ترکی اور ایران کی ایک کوشش تھی جس میں وہ او آئی سی کی قیادت کو چیلنج کرنا چاہتے تھے۔

اگر وزیر خارجہ قریشی کا اشارہ ایسی کسی ملاقات کی جانب ہے تو یہ ایک خطرناک خیال ہے خاص طور پر ایسے ملک کی جانب سے جس کے عوام ترکی اور ایران کے عوام کی طرح امہ کا اتحاد چاہتے ہیں۔

40 سال سے ایران اپنے مقاصد کے لیے عرب ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش بھی سلامتی کونسل میں جون میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں تصدیق کر چکے ہیں کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کو مسلح کر رہا ہے اور سعودی عرب پر ان کے میزائل اور ڈرون حملوں کی سرپرستی کرتا ہے۔

دو ملکوں کے درمیان سٹریٹجک تعلقات قائم کرنے میں برسوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اور ایک انفرادی شخص کی جانب سے بے بنیاد باتوں کی وجہ سے پاک سعودی تعلقات میں مبینہ تناؤ نہیں آ سکتا۔ ان تعلقات کی خاص بات ہے یہ ہے کہ ریاض اور اسلام آباد ایک دوسرے کے قومی احساسات اور مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔

اسی وجہ سے سعودی عرب نے اس وقت کوئی اعتراض نہیں کیا جب 2015 میں پاکستانی پارلیمان نے یمن کی بین الااقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کی حمایت کے لیے اپنی فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے سعودی عرب یا خلیجی اتحادی کوئی ایسی نیت نہیں رکھتے جو پاکستان کے مفادات کے خلاف جاتی ہے یا کشمیر عوام کی امنگوں کے مطابق نہ ہو۔ تو کوئی کیسے ان پر کشمیر کے لیے ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگا سکتا ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے بھارت میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو کہ ایشیا میں ہماری تجارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب میں بھارت سے تعلق رکھنے والے مزدور بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ اگر وہ پاکستانی مزدوروں کی تعداد سے زیادہ نہیں تو برابر ہی ہیں یعنی کے 30 لاکھ جو اربوں ڈالر کی رقوم وطن بھیجتے ہیں۔

کیا اس قسم کے باہمی تعلقات اور معاشی طور پر انحصار کرنا سعودی عرب کو کشمیر کے معاملے پر بھارتی سیاست میں کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیتا؟

ساتھ ہی ساتھ پاکستان نے بھی یک طرفہ طور پر بھارت کے ساتھ کشمیر کو باہمی سطح پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ ساتھ ہی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے لیے معاشی ریلیف پیکج کی بات ہے تو میڈیا نے اس کی تصدیق سعودی حکام سے نہیں کی۔ خلیجی اتحادیوں کی طرح سعودی عرب کی معیشت بھی کرونا وائرس کی وبا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ عوام اور غیر ملکی مزدور دونوں اس کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔

لیکن پاکستان ابھی بھی اس معاشی بحران کا شکار نہیں ہے جو یہ آئی ایم ایف کی ڈیل سے پہلے ہوتا نظر آ رہا تھا۔ اگر کسی مسئلے پر غلط فہمیوں کی وجہ سے کوئی اختلاف ہو بھی گیا ہے تو اس کو باہمی سطح پر موجود بات چیت، سفارتی اور سیاسی ذرائع سے حل کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ قریشی کی جانب او آئی سی پر جذبات بیان جاری کرنا، یا سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معاشی مدد کے بارے میں غیر مصدقہ میڈیائی خبریں نشر ہونا، یہ ان اختلافات کو عوام کے سامنے لانا ہے جن کی وجہ سے ہم ان قوتوں کو موقع دیتے ہیں جو دونوں اقوام کے مفادات اور تاریخی تعلقات کو بگاڑنا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خوش قسمتی سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے مذہبی، سیاسی اور سماجی رشتوں میں جڑے ہیں کہ وہ موجودہ واقعے جیسے حالات سے نمٹ سکتے ہیں۔

پاک سعودی دفاعی تعاون اتنا گہرا ہے کہ یہ حالیہ سازش جو ہمارے آزمودہ تعلقات کو بگاڑنا چاہتی تھی اسی سرعت سے غائب ہو رہی ہے جیسے یہ منظر عام پر آئی تھی۔

یہ بات حیران کن نہیں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ریاض کی شام ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح طور پر کہا کہ ’پاک سعودی تعلقات تاریخی، بہت اہم، ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور ہمیشہ بہترین رہیں گے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو بھی مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مرکزی حیثیت کے بارے میں شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمارے باہمی تعلقات کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی ضروری نہیں ہے۔‘     

اس کے بعد وزیر خارجہ قریشی کہاں کھڑے ہیں؟ کیا وزیر اعظم عمران خان انہیں مستقبل میں محتاط رہنے کا کہیں گے؟ کیونکہ ہمارے برادر ملک کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان ہمارے قومی مفاد اور عوامی امنگوں کے خلاف ہے۔

اب جب ’وژن 2030‘ کے تحت سعودی عرب اپنی معیشت میں تنوع لا رہا ہے جو ہمارے ولی عہد محمد بن سلمان کا منصوبہ ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ لاکھوں مزید پاکستانی سعودی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ سعودی حکومت نے پہلے پاکستانی نوجوانوں کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تربیت اور وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔

ہمارے پاکستان سے سیاسی اور معاشی مفادات جڑے ہیں اور ہم دو تین سالوں سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے تعلقات اور تجارت کو دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ کیا یہ خوش کن بات نہیں کہ جون کے مہینے میں وبا کے باوجود پاکستان سے سعودی عرب بھیجی جانے والی مصنوعات کی مقدار میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے؟

میں اپنی بات کا اختتام ان الفاظ سے کروں گا کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات بہت اہم ہیں اور یہ ناکام نہیں ہو سکتے۔ یہ مستقبل میں مزید بہتر ہوں گے اور اپنے راستے میں آنے والی کسی بھی کوشش کو شکست دیں گے جیسا کہ ماضی میں بھی ہوا ہے۔ ایسا دونوں ملکوں کے عوام کی محبت اور عقیدت کے ساتھ کیا جائے گا۔

نوٹ: ڈاکٹر علی عواض عسيری سابق سینئیر سعودی سفارت کار ہیں جو پاکستان میں 2001 سے 2009 تک سعودی سفیر رہ چکے ہیں۔ وہ بیروت عرب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اکنامکس کی ڈگری لے چکے ہیں اور ایک کتاب ’دہشت گردی کا مقابلہ: سعودی عرب کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار‘ بھی تحریر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ