شورش کی دھار کند کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کے بعد ضروری سیاسی عمل کا ہونا لازمی ہے تاکہ نظریاتی طور پر سخت گیر عناصر کو الگ کیا جا سکے۔
بلوچ لبریشن آرمی
ایک تحقیق کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی نے گذشتہ سال مجموعی طور پر 1,600 سے زائد افراد کی جانیں لی ہیں۔