کشمیر، منشیات کی زد میں

کشمیر میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال نے نہ صرف نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے بلکہ 13 لاکھ سے زائد خاندان شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہیں۔

وادی میں 13 لاکھ خاندان اس وقت ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں اور اس طرح کشمیر کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے (پکسابے)

’میرا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا۔ چند ماہ کے بعد انڈین پولیس نے میرے گھر آ کر مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے کے ہوسٹل کے کمرے کی تلاشی کے دوران منشیات کی کئی ٹکیاں ملیں، جو اس نے دوسرے طلبہ میں تقسیم کرنے کے لیے خریدی تھیں۔‘

مریم جان کی دل دہلانے والی یہ روداد صرف ان کی نہیں بلکہ 13 لاکھ سے زائد ان ماؤں کی ہے جن کے بچے بھنگ، چرس اور ہیروئن کے عادی بن چکے ہیں۔ ان میں تقریباً 75 فیصد منشیات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے جب کہ روزانہ 30 ہزار سرنجیں ان کے استعمال میں رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پولیس نے اسے گرفتار کرکے کئی روز تک جیل میں رکھا۔ رہائی کے بعد جب وہ گھر آیا تو خود ہی منشیات کی ایسی لت میں گرفتار ہو چکا تھا کہ میں اس کے مرنے کی دعائیں مانگتی رہی۔ اس کی حالتِ زار دیکھ کر میرا دل روتا رہا۔ میں ٹکیاں خریدنے کے لیے ماری ماری پھرتی رہی۔‘

’کئی ماہ تڑپنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ رشتہ داروں نے سہارا دینے کی بجائے میری زندگی عذاب بنا دی۔ گھر، گاؤں اور قبرستان چھوڑ کر سری نگر کے ایک علاقے میں رہائش پذیر ہوں اور اب مرنے کا انتظار کر رہی ہوں۔‘

ان کی ری ہیب کے لیے نہ کوئی ٹھوس منصوبہ ہے، نہ کوئی واحد ادارہ اور نہ ہی کونسلرز موجود ہیں۔

وادی میں 13 لاکھ خاندان اس وقت ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں اور اس طرح کشمیر کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

بعض ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر یہ تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو عنقریب نوجوانوں کی 65 فیصد آبادی اس لت میں ڈوب کر کشمیر کو ہی کھا جائے گی۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منشیات کے استعمال کی شدت اتنی محسوس کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم مودی نے دوردرشن کے پروگرام ’من کی بات میں‘ اس کا ذکر کرتے ہوئے امیر جعفر کی ستائش کی، جنہوں نے جنوبی کشمیر کے شیخ گنڈ گاؤں میں عوامی تحریک کے ذریعے ایک زوردار مہم شروع کی تھی۔ اس دوران انہوں نے علاقے کو اس بدعت سے پاک کرنے کے لیے ہر دروازے پر دستک دی۔ گھر گھر جانے کی ان کی کوشش کامیاب بتائی جاتی ہے اور یہ علاقہ منشیات سے پاک قرار دیا گیا ہے۔

مگر وادی میں جس پیمانے پر منشیات کا استعمال ہو رہا ہے، اس کے لیے ایک منظم محکمہ اور بنیادی ڈھانچے کی ہنگامی ضرورت ہے۔

چند ماہ پہلے مقامی انتظامیہ نے تقریباً ایک سو علما، اماموں اور مذہبی رہنماؤں کو جمع کرکے اپنے علاقوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف مہم چلانے پر زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مساجد میں نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے باخبر کرنے کی کوشش کی، مگر مولوی غلام رسول کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو اس سے دور رکھنے کے لیے ہم تھوڑی بہت کوشش کر رہے ہیں۔

البتہ جو لاکھوں بچے منشیات کے عادی ہو چکے ہیں، ان کے لیے باقاعدہ ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے، جس کی ذمہ داری سرکار کو اٹھانی ہوگی۔ محکمہ صحت میں قائم ایک چھوٹا سا دفتر اتنی بڑی تباہی کو کیسے روک پائے گا؟

کشمیر کے بعض علاقوں میں بھنگ یا چرس اگانے کے کافی کھیت ہوا کرتے تھے، جن میں سے بیشتر کو ختم کر دیا گیا ہے۔

اس وقت کشمیر میں ہیروئن، اوپیائیڈ، کینبس، ایمفیٹامین اور منشیات کی کئی ایسی قسمیں دستیاب ہیں جو صرف بیرونِ کشمیر سے لائی جا سکتی ہیں۔

بعض سرکاری اہلکاروں کا الزام ہے کہ لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور پر ’سرحد پار سے منشیات کی ایک بڑی کھیپ درآمد ہوتی ہے اور پولیس کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام عائد کرکے اسے نارکو ٹیررازم کا نام دیا تھا، مگر موجودہ سرکار اب یہ بات کھل کر نہیں کہتی۔

سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ سرحد کو کسی بھی دراندازی سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور وہاں انتہائی چوکسی برتی جا رہی ہے۔

مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ پڑوسی ریاست پنجاب سے، جسے منشیات کے بے تحاشا استعمال کے باعث ’اڑتا پنجاب‘ کہا جاتا ہے، بھاری مقدار میں منشیات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر لائی جاتی ہے۔

نوجوانوں کو اس کی جانب مائل کرنا مشکل نہیں اور آسان دستیابی کے باعث گذشتہ چار برسوں میں منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

آئے روز منشیات کے سمگلروں کو گرفتار کرنے، ان کی املاک سیل کرنے یا بلڈوزر سے گرانے کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہتی ہیں، لیکن بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک منشیات کے کاروبار میں ’بڑے لوگوں‘ کا ہاتھ ہے، اس پر قابو پانا ناممکن ہے۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ نوجوانوں کو اس کا عادی بنا کر سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی امور سے دور رکھنے میں ’بڑے لوگوں‘ کو آسانی ہوتی ہے۔

حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ گذشتہ مارچ میں منشیات کے عادی ایک بیٹے نے اپنی ماں کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد کئی ماؤں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ایسے نوجوانوں کو حراست میں رکھا جائے۔ بہت سی مائیں اپنے بیٹوں کی اس لت کو پڑوسیوں یا رشتے داروں سے چھپاتی رہتی تھیں۔

گذشتہ تین دہائیوں کے پُرآشوب حالات نے کشمیری قوم کا شیرازہ بکھیر دیا ہے، گھروں کو اجاڑ دیا ہے، رشتوں کو پامال کیا ہے اور قبرستانوں کو بھر دیا ہے۔

یہ قوم اختیارات سے محروم کر دی گئی ہے۔ نہ سکون ہے، نہ روزگار اور نہ ہی زندہ رہنے کی کوئی امید ہے۔ بقول ایک روزنامے کے مدیر، ’غیر یقینی کی اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے نوجوان منشیات کا استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس میں نوجوان لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے تقریباً برابر ہے، اور اس میں امیر غریب، شہر گاؤں یا ان پڑھ تعلیم یافتہ کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔‘

منشیات کے پھیلاؤ کی وجوہات کچھ بھی ہوں، مگر کشمیری قوم کو اپنے مستقبل کو بچانے کے لیے خود ہی جاگنا ہوگا اور اس لت سے چھٹکارا پانا ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر