کیا سونے کی مارکیٹ میں افراتفری ٹرمپ نے مچائی ہے؟

سونے اور چاندی کے حال ہی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ان کی قیمتوں میں شدید گراوٹ کی ایک معقول وجہ موجود ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 اپریل 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد ہونے والی سالانہ ایسٹر ایگ رول تقریب کے دوران ایک دوڑ کا آغاز کرنے کے لیے سیٹی بجاتے ہوئے (مینڈل نگن / اے ایف پی)

سونے اور چاندی کے حال ہی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ان کی قیمتوں میں شدید گراوٹ کی ایک معقول وجہ موجود ہے اور امریکی صدر کی جانب سے فیڈرل ریزرو کی سربراہی کے لیے منتخب کردہ شخص بھی اس معاملے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہا۔

’میٹل مے ہیم‘ یعنی ’دھاتی افراتفری‘ سننے میں تو کسی ایسے میوزک فیسٹیول جیسا لگتا ہے جس میں چیختے ہوئے گلوکار اور شور مچاتے گٹار ہوں، لیکن درحقیقت یہ وہ کچھ ہے جو مارکیٹوں میں ہو رہا ہے، اور اس سب کا سہرا ڈونلڈ ٹرمپ کے سر ہے۔

ہیوی میٹل میوزک ان کی دوسری مدتِ صدارت کے لیے بہترین ساؤنڈ ٹریک ہو سکتا ہے۔ سونا اور چاندی، سرمایہ کاری کی وہ ’گرم ترین‘ اشیا جن پر گذشتہ سال لوگ ٹوٹ پڑے تھے اور جنہوں نے گذشتہ ماہ ریکارڈ بلندیاں چھوئی تھیں (سونے کے معاملے میں تقریباً 5600 ڈالر فی اونس)، اس ہفتے اچانک اپنی چمک کھو بیٹھی ہیں۔

پیر کو سونا سات فیصد تک گر کر 4500 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گیا، جبکہ چاندی نے اپنی قیمت کا 10 فیصد سے زائد کھو دیا حالانکہ یہ بلندیوں پر تھی۔ یہ گراوٹ بظاہر ایک ہی واقعے سے جڑی ہے: ٹرمپ کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کو چلانے کے لیے اپنے منتخب کردہ فرد کا اعلان۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیروم پاول کی جگہ کیون وارش کا انتخاب، جو سابق فیڈ گورنر اور ’ہارڈ منی ہاک‘ (سخت مالیاتی پالیسی کے حامی) ہیں، کوئی بہت بڑا سرپرائز نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ طویل عرصے سے مضبوط امیدواروں میں شامل رہے ہیں۔ تاہم، جس چیز نے دھاتی مارکیٹوں کو خوفزدہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک انتہائی سخت گیر ’ہاک‘ (عقاب) کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور ضروری نہیں کہ وہ ایسے شخص ہوں جو اپنے باس (صدر) کے حکم پر جب چاہے شرح سود کم کر دیں، صرف اس لیے کہ صدر اپنی پول ریٹنگز کے بارے میں پریشان ہوں۔

سونے اور چاندی کو امریکی افراطِ زر کے خلاف حفاظتی ڈھال سمجھا جاتا ہے۔ اگر مہنگائی بڑھتی ہے اور ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونے اور چاندی کی قیمت، جو عام طور پر ڈالر میں طے ہوتی ہے، اوپر جاتی ہے۔

تاہم، اگر وارش کے زیرِ قیادت فیڈ اپنی سخت پالیسی پر قائم رہتے ہیں اور شرح سود طے کرنے والی ’فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی‘ کے ساتھی ارکان کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں، تو افراطِ زر کے بارے میں فکر کرنے کی بہت کم وجہ رہ جائے گی اور یوں سونے چاندی کو سنبھال کر رکھنے کا جواز بھی کم ہو جائے گا۔ یہی حال بٹ کوائن کا ہے، جو وارش کی نامزدگی کے اشارے پر ہی غوطہ کھا گیا ہے، اگرچہ بٹ کوائن کی قیمت کسی کی مدد کے بغیر بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتی رہتی ہے۔

چونکہ فیڈ کا کام افراط زر کو کنٹرول میں رکھنا ہے، اس لیے عین ممکن ہے کہ ٹرمپ نے حالات کی نزاکت کو بھانپ لیا ہو اور فیصلہ کیا ہو کہ اپنی فہرست میں موجود کچھ خوشامدی اور نرم مزاج متبادلوں کے بجائے کسی ایسے شخص کو تعینات کرنا بہتر ہے، جو واقعی یہ کام کرے گا۔

بش انتظامیہ کے دوران بطور فیڈرل ریزرو گورنر اپنے دور میں ایک تیز پنجوں والے ’ہاک‘ رہنے والے وارش، ایک ٹھوس اور سمجھدار انتخاب دکھائی دیتے ہیں، جو کہ ٹرمپ کے دور میں ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔

وارش معاملات کیسے چلائیں گے؟ خیر، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت امریکہ کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی۔ اگر وہ درست ہیں، تو فیڈ مہنگائی کو بڑھائے بغیر شرح سود کم کر سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں خوشگوار نظریہ یہ ہے کہ یہ بہت سے اکتا دینے والے اور دفتری کاموں کی ضرورت کو کم کر سکتا ہے، جس سے ملازمین زیادہ پیداواری کاموں کے لیے فارغ ہو جائیں گے۔ میں اس امکان کو رد نہیں کروں گا۔ لیکن قلیل مدت میں؟ یہ بھی اتنا ہی ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ جائے اور اپنے ساتھ تکالیف کی دنیا لے آئے۔

دلیل کے طور پر، ٹرمپ کی پالیسیاں بذات خود مہنگائی بڑھانے والی ہیں۔ ان کے ٹیرف اور مالیاتی غیر ذمہ داری دونوں کے نتائج برآمد ہوتے ہیں، نقصان دہ نتائج، جن کی قیمت جلد یا بدیر چکانی پڑے گی۔

جب دنیا تباہی کی طرف جا رہی ہو، تو سونا وہ جگہ ہے جہاں خوفزدہ سرمایہ کار طوفان تھمنے کے انتظار میں اپنا پیسہ محفوظ کرتے ہیں۔ اور اس وقت خیر، مجھے کھل کر بتانے کی ضرورت نہیں: یہ (تباہی کا منظر) ہر ہوم پیج اور ہر نیوز بلیٹن پر موجود ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر