سمارٹ فونز سے جیٹ انجن تک میں شامل معدنیات کے لیے ٹرمپ کا نیا منصوبہ

اس منصوبے کے تحت چین کی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ خریداری کے معاہدے کیے جائیں گے جبکہ امریکہ میں بارہ ارب ڈالر کا سٹریٹجک ذخیرہ بھی قائم کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دو فروری 2026 کو امریکہ میں اہم معدنیات کے سٹریٹجک ذخیرے کے قیام کا اعلان ہوئے (الیکس وونگ/ اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ہوائی جہازوں کے انجنوں سے لے کر سمارٹ فونز تک استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی سپلائی چین کو ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ پیش کرنے جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت چین کی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ خریداری کے معاہدے کیے جائیں گے جبکہ امریکہ میں بارہ ارب ڈالر کا سٹریٹجک ذخیرہ بھی قائم کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی تفصیلات ایسے وقت سامنے آ رہی ہیں جب نائب صدر جے ڈی وینس بدھ کے روز ایک اہم اجلاس سے کلیدی خطاب کریں گے۔ اس اجلاس کی میزبانی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں جس میں یورپ ایشیا اور افریقہ کے درجنوں ممالک کے حکام شریک ہوں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ سپلائی چین لاجسٹکس سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کرے گا تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

منگل کے روز وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جنوبی کوریا اور انڈیا کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی جس میں اہم معدنیات کی کان کنی اور ان کی پروسیسنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ اجلاس اور متوقع معاہدے اس اعلان کے محض دو دن بعد ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ نے پراجیکٹ والٹ کا اعلان کیا تھا۔ یہ منصوبہ اہم معدنیات کے ذخیرے پر مشتمل ہے جس کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے دس ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ تقریباً ایک اعشاریہ سڑسٹھ ارب ڈالر نجی سرمایہ کاری سے حاصل کیے جائیں گے۔

ٹرمپ کی ریپبلکن انتظامیہ یہ جرات مندانہ اقدامات ایسے وقت کر رہی ہے جب چین دنیا کی ستر فیصد نایاب معدنیات کی کان کنی اور نوے فیصد پروسیسنگ پر کنٹرول رکھتا ہے۔

چین نے ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کے جواب میں ان عناصر کی ترسیل محدود کر دی تھی۔

اکتوبر میں صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ممالک ایک سالہ جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے جس کے تحت بھاری ٹیرف اور نایاب معدنیات پر سخت پابندیوں میں کمی کی گئی۔

تاہم چین کی موجودہ پابندیاں اب بھی ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پراجیکٹ والٹ کے اعلان کے موقع پر کہا: ’ہم دوبارہ کبھی اس صورتحال سے گزرنا نہیں چاہتے جس کا سامنا ہمیں ایک سال قبل کرنا پڑا‘۔

چین کی بالادستی کا توڑ

ماہرین کے مطابق دیگر ممالک بھی امریکہ کے ساتھ مل کر اہم معدنیات کی خریداری اور صنعت کی ترقی کے اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ تجارتی جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مغربی ممالک چین پر کس قدر انحصار کرتے ہیں۔

یہ بات 2019 میں اوکلاہوما میں قائم نایاب معدنیات کی کمپنی یو ایس اے ریئر ارتھ کے بانی پِنی آل تھاؤس نے کہی۔

پِنی آل تھاؤس جو اس وقت قزاقستان اور ازبکستان میں نئی کانوں کی ترقی پر کام کر رہے ہیں اور کوو کیپیٹل کے سی ای او ہیں کا کہنا تھا: ’یہ ایک طرح کے خریداروں کے کلب کے قیام جیسا ہو گا۔ اہم معدنیات کے بڑے پیداواری اور استعمال کرنے والے ممالک مل کر قیمتوں کے ڈھانچے کم از کم قیمت اور دیگر امور پر تعاون کریں گے‘۔

گزشتہ ہفتے امریکی حکومت نے چوتھی مرتبہ کسی امریکی اہم معدنیات پیدا کرنے والی کمپنی میں براہِ راست سرمایہ کاری کی۔ اس موقع پر یو ایس اے ریئر ارتھ کو ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر فراہم کیے گئے جس کے بدلے حکومت نے کمپنی کے شیئرز اور واپسی کا معاہدہ حاصل کیا۔

پِنی آل تھاؤس کے مطابق آج کل سرکاری فنڈنگ حاصل کرنا نجی سرمایہ کاروں سے ملاقات جیسا ہو چکا ہے کیونکہ حکام اس بات کی مکمل جانچ کرتے ہیں کہ سرمایہ لینے والی کمپنیاں واقعی نتائج دے سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے معاہدوں کا مطالبہ کر رہی ہے جن سے ٹیکس دہندگان کو منافع حاصل ہو سکے۔

ذخیرے کی حکمتِ عملی

ادھر امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے بورڈ نے اس ہفتے دس ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دی جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض ہے۔ یہ رقم امریکی سٹریٹجک کریٹیکل منرلز ریزرو کے قیام کے لیے استعمال ہو گی۔ یہ ذخیرہ بیٹری بنانے والی کمپنی کلیریوس توانائی کے آلات بنانے والی جی ای ورنووا ڈیجیٹل اسٹوریج کمپنی ویسٹرن ڈیجیٹل اور ہوابازی کی بڑی کمپنی بوئنگ سمیت دیگر صنعتوں کے لیے اہم معدنیات تک رسائی یقینی بنائے گا۔

بینک کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ نے سی این بی سی کو بتایا کہ یہ منصوبہ عوامی اور نجی شراکت داری کا ایسا ماڈل ہے جو امریکہ کے مفاد میں بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس ماڈل میں کوئی مفت فائدہ اٹھانے والا شامل نہیں ہوتا بلکہ ہر فریق مسئلے کے حل میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ذخیرے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیاں طویل المدتی مالی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں جبکہ حکومتی قرض نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی قیمتوں کا ایک ایسا قدرتی نظام تشکیل دے سکتی ہے جو چین سے آزاد ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین نے اپنی بالادستی استعمال کرتے ہوئے کم قیمت مصنوعات کے ذریعے حریفوں کو مارکیٹ سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بات امریکی مستقل میگنیٹ بنانے والی کمپنی اے ایم ایل کے صدر ویڈ سینٹی نے کہی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس شعبے میں براہِ راست سرکاری سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پینٹاگون نے تقریباً پانچ ارب ڈالر فراہم کیے تاکہ دفاعی ضروریات کے لیے اہم معدنیات تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ تجارتی جنگ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ امریکہ کس حد تک چین پر انحصار کرتا ہے۔

دو جماعتی حمایت

گزشتہ ماہ کانگریس کے دونوں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ایک نئی ایجنسی کے قیام کی تجویز پیش کی جس کے لیے دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مختص کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس ایجنسی کا مقصد نایاب معدنیات اور دیگر اہم عناصر کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا۔

سینیٹر جین شاہین اور سینیٹر ٹوڈ ینگ نے مشترکہ بیان میں کہا: ’یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین پر انحصار کم کرنے اور مارکیٹ کو مستحکم بنانے کے لیے اہم معدنیات کی مضبوط مقامی سپلائی پر دو جماعتی اتفاق رائے موجود ہے‘۔

ماہرِ نایاب معدنیات ڈیوڈ ابراہام کے مطابق ذخیرہ قائم کرنے سے امریکی کمپنیاں مستقبل میں سپلائی میں رکاوٹوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گی تاہم یہ ایک طویل المدتی عمل ہو گا کیونکہ چین کی پابندیوں کے باعث یہ مواد اس وقت بھی محدود ہے۔

ڈیوڈ ابراہام جنہوں نے دہائیوں سے اس صنعت کا مشاہدہ کیا ہے اور ’دی ایلیمنٹس آف پاور‘ کے مصنف ہیں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پیداوار پر توجہ دی ہے مگر ان معدنیات کو استعمال کرنے والی مینوفیکچرنگ صنعت کی ترقی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ برقی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز کے لیے مراعات میں کٹوتی کے فیصلوں نے امریکہ میں ان عناصر کی طلب کو کمزور کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ