امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بارے میں پرامید ہیں۔
یہ بات انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے اس تنبیہ کے بعد کہی کہ ایران پر کوئی بھی امریکی حملہ علاقائی جنگ کا سبب بنے گا۔
گذشتہ ماہ عروج پر پہنچنے والے حکومت مخالف مظاہروں پر ایرانی حکام کے جان لیوا ردعمل کے بعد، ٹرمپ نے ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری بیڑہ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو حالیہ مظاہروں کو ’بغاوت‘ سے تشبیہ دی اور خبردار کیا کہ امریکی حملہ ایک وسیع جنگ کا باعث بنے گا۔
انہوں نے ایرانی شہریوں سے یہ کہتے ہوئے کہ انہیں ٹرمپ کی بیان بازی سے ’خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے‘ کہا کہ ’امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ ایک علاقائی جنگ ہو گی۔‘
خامنہ ای نے کہا: ’انہوں (فسادیوں) نے پولیس، سرکاری مراکز، پاسداران انقلاب کے مراکز، بینکوں اور مساجد پر حملے کیے اور قرآن کو نذر آتش کیا۔ یہ ایک بغاوت کی طرح تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس بغاوت کو کچل دیا گیا‘۔
ایرانی لیڈر کی تنبیہ کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا: ’یقیناً وہ یہی کہیں گے۔‘
انہوں نے کہا: ’امید ہے ہم کوئی معاہدہ کر لیں گے۔ اگر ہم نے معاہدہ نہیں کیا تو پھر ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ان کی بات ٹھیک ہے یا نہیں۔‘
ایران میں مظاہرے مہنگائی کے خلاف عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر شروع ہوئے تھے، لیکن یہ ایک بڑی حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے جسے ملک کے رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کے بھڑکائے ہوئے ’فسادات‘ قرار دیا ہے۔
اس کے باوجود ایرانی حکام نے مظاہرہ کرنے والے زیر حراست 26 سالہ عرفان سلطانی کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔ ان کے وکیل نے اتوار کو بتایا کہ یہ فیصلہ واشنگٹن کی اس تنبیہ کے بعد کیا گیا کہ چوں کہ وہ سزائے موت کے منتظر ہیں اور دھمکی دی گئی کہ اگر کسی بھی حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو حملہ کیا جائے گا۔
انہیں جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایرانی عدلیہ کے مطابق ان پر ایران کے اسلامی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے الزامات تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ انہیں پھانسی دی جانے والی ہے، حالانکہ تہران کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی سزائے موت نہیں سنائی گئی اور ان پر عائد الزامات کی سزا موت نہیں ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر تہران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ انہیں ’غلط اندازوں‘ پر تشویش ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ ’درست فیصلہ کرنے کے معاملے میں کافی سمجھ دار‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بطور مذاکراتی شراکت دار امریکہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے کچھ ممالک اعتماد بحال کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں انہوں نے کہا: اگر امریکہ کی مذاکراتی ٹیم صدر ٹرمپ کی بات مانے یعنی ایک منصفانہ اور برابر کا معاہدہ کرے جس سے یہ یقینی ہو جائے کہ جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، تو دوبارہ بات چیت ہو سکتی ہے۔‘