امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے جس کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی تنصیبات، افواج اور اس کے اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس رپورٹ میں ہم ایران کی فوجی طاقت کا ایک جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات
امریکہ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، جب کہ اس فہرست میں ایران تقریباً 15 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور فوج اخراجات کے ساتھ دنیا میں 16ویں نمبر پر ہے۔
افواج کی تعداد
ایران کے فوجیوں کی تعداد پانچ سے چھ لاکھ کے درمیان ہے۔ تاہم، ایران کے پاس خاصی بڑی تعداد میں نیم فوجی اور رضاکار دستے بھی موجود ہیں۔
فضائی طاقت
ایران کے پاس فعال جنگی طیاروں کی تعداد 560 ہے تاہم طویل پابندیوں کی وجہ سے ایران کے پاس پرانے ماڈل کے طیارے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ایرانی فوج کو حال ہی میں ایک ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فرام کیے گئے ہیں جو مختلف فاصلوں تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میزائل پاور کا موازنہ
ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ ہے، جس میں 3,000 سے زیادہ میزائل شامل ہیں۔ جن میں سجیل، خیبر اور خرم شہر جیسے میزائل شامل ہیں جو 2000 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
بحری قوت
امریکی بحریہ کو ’بلو واٹر‘ بحریہ کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا اثر دنیا بھر میں ہے۔ اس کے مقابلے پر ایران نے ’گرین واٹر‘ بحریہ تیار کی ہے جو صرف بحیرۂ عرب اور خاص طور پر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے۔ کھلی لڑائی لڑنے کے بجائے اس بحریہ کو دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے آبدوزیں، بارودی سرنگیں، ڈرونز اور تیز رفتار مسلح کشتیوں کے جھنڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایران کے پاس ایک بڑا ہتھیار آبنائے ہرمز کو مسدود کرنا ہے، کیوں کہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔