ایران ہائی الرٹ پر، کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا: آرمی چیف

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ دشمن کی غلطی خطے اور صہیونی ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ تصویر ایرانی فوج کی جانب سے 12 ستمبر 2020 کو جاری کی گئی تھی جس میں ایرانی بحریہ کو آبنائے ہرمز کے قریب مشقیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے ہفتے کو امریکہ اور اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے میں امریکہ کی بھاری فوجی تعیناتی کے بعد ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’اگر دشمن نے کوئی غلطی کی تو بلا شبہ وہ اپنی ہی سلامتی، خطے کی سلامتی اور صہیونی ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج ’مکمل دفاعی اور فوجی تیاری‘ کی حالت میں ہیں۔

امیر حاتمی نے مزید کہا ہے کہ ایران کی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جا سکتا چاہے اس قوم کے سائنس دان اور بیٹے ’شہید‘ ہی کیوں نہ ہو جائیں۔

ٹرمپ، نتن یاہو اور یورپ نے کشیدگی کو ہوا دی: ایرانی صدر

ادھر صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو الزام لگایا کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک کے رہنماؤں نے ایران کے معاشی مسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالیہ احتجاجی مظاہروں میں بے چینی کو ہوا دی، لوگوں کو بھڑکایا اور ملک کو توڑنے کے لیے وسائل فراہم کیے۔

دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے یہ ملک گیر مظاہرے تقریباً دو ہفتے تک جاری رہے جو شدید مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ تاہم حکومت کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن کے بعد اس احتجاج کی شدت کم ہو گئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں کم از کم ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے جن میں 6,170 مظاہرین اور 214 سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی این این ترک کو بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد 3,100 ہے، جن میں 2,000 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ہفتے کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ غیر ملکی رہنماؤں نے ایران میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو اشتعال دلایا اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔

ان کے بقول: ’امریکی، اسرائیلی اور یورپی رہنماؤں نے اشتعال پیدا کرنے، تقسیم پیدا کرنے اور وسائل فراہم کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کچھ معصوم لوگ بھی اس تحریک میں شامل ہو گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا مظاہرین کی حمایت کی اور کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو قتل کرتا رہا تو امریکہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اپنی آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاہم ایران پر حملے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ نے جمعے کے روز رپورٹ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز اسرائیلی بندرگاہ ایلات میں لنگر انداز ہوا ہے۔

صدر پزشکیان نے جنگ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’ٹرمپ، بن یامین نتن یاہو اور یورپی ممالک نے ہمارے مسائل پر سوار ہو کر اشتعال انگیزی کی اور معاشرے کو توڑنے کی کوشش کی اور اب بھی یہی کوشش کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ان رہنماؤں نے لوگوں کو سڑکوں پر نکالا اور اپنے بقول اس ملک کو توڑنے، عوام میں نفرت پھیلانے اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک سماجی احتجاج نہیں تھا۔‘

دریں اثنا، خطے کے اتحادی ممالک، جن میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکہ کا مطالبہ ہے کہ اگر وہ مذاکرات بحال کرنا چاہتے ہیں تو ایران اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرے تاہم ایران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو ترکی میں کہا تھا کہ میزائل پروگرام کبھی بھی مذاکرات کا موضوع نہیں بنے گا۔

امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے جواب میں عراقچی نے کہا کہ تہران مذاکرات اور جنگ، دونوں کے لیے تیار ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون بھی چاہتا ہے۔

انہوں نے سی این این ترک کو بتایا: ’نظام کی تبدیلی محض ایک خیالی تصور ہے۔ کچھ لوگ اس وہم کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہمارا نظام اتنا مضبوط اور گہری جڑوں والا ہے کہ افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا