ایران پر ممکنہ حملے کی گونج میں بحری جہاز، طیارے، میزائل نظام اور دوسرے جنگی اور دفاعی اثاثوں پر مشتمل امریکہ کی ایک بڑی عسکری قوت مشرق وسطیٰ پر مرتکز ہو رہی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بڑا آرماڈا‘ قرار دیا ہے۔
اس بحری بیڑے کے مرکز میں ایٹمی توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ ہے، جو بحیرۂ عرب پہنچ گیا ہے۔
یہ اپنے ساتھ ایک فضائی ونگ اور سمندر میں موجود ایسی متحرک سٹرائیک اینڈ کمانڈ فورس لایا ہے، جو بین الاقوامی پانیوں سے فضائی کارروائیاں کر سکتی ہے۔
اس جہاز پر جدید ترین ایف - 35 سٹیلتھ جہاز کے علاوہ کئی درجن دوسرے سکواڈرن موجود ہیں۔
اس طیارہ بردار جہاز کو متعدد گائیڈڈ میزائل تباہ کن جہازوں (destroyers) نے حفاظتی حصار میں لیا ہوا ہے، جن میں ’یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر‘، ’یو ایس ایس سپروئنس‘ اور ’یو ایس ایس مائیکل مرفی‘ شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے حال ہی میں خطے میں پانچویں امریکی بحری جہاز ’یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک‘ کی آمد کا بھی ذکر کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فضائی طاقت اور معاون دستے
بحری قوت کے علاوہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فضائی طاقت کو بھی مضبوط کیا ہے۔
کیریئر گروپ کے ساتھ اور اس کی مدد کے لیے تعینات کیے گئے فضائی اثاثوں میں ایف-15 طیارے شامل ہیں، جنہیں علاقائی اڈوں پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ جیٹ طیارے پرسیشن گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی طیاروں کے ساتھ ساتھ اتحادی جنگی طیارے، جیسے کہ برطانوی ’ٹائفون‘ جیٹس بھی خطے میں ’دفاعی‘ پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔
میزائل ڈیفنس، کوآرڈینیشن اور فوج میں اضافہ
جیسے جیسے جارحانہ اور معاون اثاثے پہنچ رہے ہیں، امریکہ نے کثیر ُالجہتی میزائل دفاع اور اتحادیوں کے ساتھ کوآرڈینیشن بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر امریکی افواج نے خطے میں ’تھاڈ‘ اور ’پیٹریاٹ‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کو فعال کر دیا ہے۔
انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 5,700 اضافی امریکی فوجی اہلکار مشرقِ وسطیٰ پہنچے ہیں، جس سے یہاں امریکی فوجیوں کی کل تعداد تقریباً 50 ہزار ہو گئی ہے۔